‎رات جی کھول کے' پھر میں نے دعا مانگی ہے
‎اور اک چیز بڑی' بیش بہا مانگی ہے

‎اور وہ چیز' نہ دولت ، نہ مکاں ہے، نہ محل
‎تاج مانگا ہے ' نہ دستاروقبا مانگی ہے

‎نہ شریک سفر ' و ' زاد سفر مانگا ہے
‎نہ صداۓ جرس' و ' بانگ درا مانگی ہے

‎نہ تو منظر کوئ شاداب' و ' حسیں مانگا ہے
‎نہ صحت بخش کوئ' آب وہوا مانگی ہے

‎محفل عیش ' نہ سامان طرب مانگا ہے
‎چاندنی رات نہ' گھنگھور گھٹا مانگی ہے

‎چین کی نیند نہ ' آرام کا پہلو مانگا
‎بخت بیزار نہ' تقدیر سرا مانگی ہے

‎نہ تو اشکوں کی فراوانی سے ' مانگی ہے نجات
‎اور نہ اپنے' مرض دل کی شفا مانگی ہے

‎نہ غزل کے لیۓ' آہنگ نیا مانگا ہے
‎نہ ترنم کی نئ' سازو حیا مانگی ہے

‎سن کہ حیراں ہوۓ جاتے ہیں' ارباب چمن
‎آخرش ،،،،، کونسی' اس پاگل نے دعا مانگی ہے

‎ آ ،،،،،،، تیرے کان میں کہہ دوں ۔۔۔۔۔ اے کاملءنکیب
‎سب سے پیاری مجھے' کیا چیز ہے۔۔۔۔کیا مانگی ہے

‎ہر حال میں' اس مالک کی رضا مانگی ہے
‎اور جینے کے لیۓ ' طرز ادا مانگی ہے!!!!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Views: 104

Reply to This

Replies to This Discussion

hmmmm good one

thanku

RSS

Looking For Something? Search Below

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service