We have been working very hard since 2009 to facilitate in learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

یوں ہی بے سَبب نہ پِھرا کرو کوئی شام گھربھی رہا کَرو

وُہ غَزل کی سچّی کِتاب ہے اِسے چُپکے چُپکے پَڑھا کرو

کوئی ہاتھ بھی نہ مِلائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئَے مِزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے مِلا کرو

اَبھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا

تُمہیں جِس نے دِل سے بھُلا دِیا اُسے بھُولنے کی دُعا کرو

کبھی حُسن پَردہ نشیں بھی ہو ذرا عاشقانہ لِباس میں

جو میں بَن سَنور کے کہیں چلوں میرے ساتھ تُم بھی چَلا کرو

مُجھے اِشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں

جو کہا نہیں وہ سنُا کرو جو سُنا نہیں وہ کہا کرو

نہیں بے حجِاب وہ چَاند سا کہ نظر کا کوئی اَثر نہ ہو

اِسے اِتنی گرمیٔ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکَا کرو

یہ خزاں کی زَرد سی شال میں جو اُداس پیڑ کے پاس ہے

یہ تُمہارے گھر کی بَہار ہے اِسے آنسوؤں سے ہَرا کرو

Views: 27

Reply to This

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service