We have been working very hard since 2009 to facilitate in learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

علم سیکھا مُلکوں مُلکوں،عاشقی چنیوٹ میں

دل پہ پہلی چوٹ یارو!تھی لگی چنیوٹ میں

میرے جانے سے یقینی ھے مِرے اندر خلا

یہ بھی ممکن ھے کہ رہ جائے کمی چنیوٹ میں

سر سے لے کر پاؤں تک ہر شخص دل ہی دل یہاں 

سانس لیتی ہے مِری جاں !! زندگی چنیوٹ میں

جیسے جیسے ہو رہی ہے نیند سے بیدار وہ

پھیلتی ہی جا رہی ہے روشنی چنیوٹ میں

کوئی آنکھیں ہے بچھائے ، دل کسی کا فرش ِ راہ

ہے فرشتہ صفت دیکھا ہر کوئی چنیوٹ میں

جو ملا وہ رنگ و خوشبو میں نہایا ہی ملا

پھول کوئی بھی نہ پایا کاغذی چنیوٹ میں

دائرہ در دائرہ کاٹوں گا دشتِ ہجر مَیں

سانس لیکن لوں گا یارو ! آخری چنیوٹ میں

یہ ضروری ہے کہ دل کے ساتھ ہو اک اور دل

دل لگی بن جاتی ہے دل کی لگی چنیوٹ میں

مدتوں کے بعد پہنچا ہوں کڑکتی دھوپ میں

سر پہ اک بادل ہے ٹھہرا سرمئی چنیوٹ میں

میں نے اس کے رس بھرے ہونٹوں سے کیا تشبیہ دی

سب گلوں پر آج تک ہے تازگی چنیوٹ میں

گھر سے وہ اک مرتبہ نکلی تھی میک اپ کے بغیر

پڑ گئی اس دن سے رسمِ سادگی چنیوٹ میں

یاد پچپن میں ہے آتی آہ بچپن میں مرے 

زندگی جو بات مجھ سے کہہ گئی چنیوٹ میں

آج بھی دامن بچا کر ہے گذرتی ہر بلا

آج بھی ہے ماں مرے سر پر کھڑی چنیوٹ میں

پہلے کلمے کی طرح ازبر ہیں اس کے خال و خد

ایک ہی صورت تو یارو! تھی پڑھی چنیوٹ میں

گھوم پھر کر میں اسی کوچے میں آتا ہوں کہ ہے 

دردِ دل بھی اور علاجِ درد بھی چنیوٹ میں

Views: 23

Reply to This

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service