We have been working very hard since 2009 to facilitate in learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

کل رات بزم میں جو مِلا ــ گلبدن سا تھا

خوشـــبُو سے اُس کے لفظ تھے ــ چہرہ چمن سا تھا

دیکھا اُسے ـ ـ تو بول پڑے اُس کے خدّوخال

پوچھا اُسے ــ تو چُپ سا رہا ــ کم سُخن سا تھا

تنہائیوں کی رُت میں بھی ـ ـ لگتا تھا مُطمئن

وہ شخص اپنی ذات میں ــ اِک انجمن سا تھا

سوچا اُسے ـ ـ تو میں کئی رنگوں میں کھو گیا

عالم تمام اُس کے حسیں ــ پیرہن سا تھا

جو شاخ شوخ تھی ـ ـ وہ اُسی کے لبوں سی تھی

جو پھول کھِل گیا ــ وہ اُسی کے دہن سا تھا

وہ سادگی پہن کے بھی ـ ـ دل میں اُتر گیا

اُس کی ہر اک ادا میں ــ عجب بھولپن سا تھا

آساں سمجھ رہے تھے اُسے ـ ـ شہرِ جاں کے لوگ

مشکل تھا اِس قدر ــ کہ میرے اپنے فن سا تھا

وہ گفتگو تھی اُس کی ـ ـ اُسی کے لیے ہی تھی!

کہنے کو یوں تو میں بھی ــ شریکِ سُخن سا تھا

تارے تھے چاندنی میں ـ ـ کہ تہمت کے داغ تھے

محسنؔ کل آســـمان بھی ــ میرے کفن سا تھا

 مُحسنؔ نقوی

Views: 43

Reply to This

Replies to This Discussion

good one

nice

niceee

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service