Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

چھوڑ دے ضد کہ استخارہ کر
عشق ناکام ہے، دوبارا کر

تجھ کو تو رات کی سہولت ہے
اک دیا خود جلا، ستارا کر

میں بھی زندہ ہوں اس کہانی میں
تُو بھی کردار کو، گوارا کر

حسب منشا کسے ملی دنیا
چوڑیاں دھیان سے، اُتارا کر

کچھ بھنور تھے عجیب پاؤں میں
دشت نے کہہ دیا، کنارا کر

دیکھ کتنے ہیں دیکھنے والے
روز اپنی نظر، اُتارا کر

Views: 82

Reply to This

Replies to This Discussion

اک دیا خود جلا، ستارا کر

میں بھی زندہ ہوں اس کہانی میں
تُو بھی کردار کو، گوارا کر......v nice

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service