بہت یاد آتا ھے گزرا زمانہ۔
وہ گاؤں کی گلیوں میں پِیپَل پرانا۔
😔😔😰
وہ باغوں میں پیڑوں پہ ٹائر کے جھولے۔
وہ بارش کی بوندوں میں چھت پر نہانا۔
😔😔😰
وہ اِملی کے پیڑوں پہ پتھر چلانا۔
جو پتھر کسی کو لگے بھاگ جانا۔ 
😔😔😰
چھپا کر کے سب کی نظر سے ہمیشہ۔
وہ ماں کے دوپٹے سے سکے چرانا۔
😔😔😰
وہ سائیکل کے پہئے کی گاڑی بنانا۔
بڑے فخر سے دوسروں کو سکھانا۔
😔😔😰
وہ ماں کی محبت وہ والد کی شفقت۔
وہ ماتھے پہ کاجل کا ٹیکا لگانا۔
😔😔😰
وہ کاغذ کی چڑیا بنا کر اڑانا۔
وہ پڑھنے کے ڈر سے کتابیں چھپانا۔
😔😔😰
وہ نرکل کی قلموں سے تختی پہ لکھنا۔
وہ گھر سے سبق یاد کرکے نہ جانا۔
😔😔😰
وہ گرمی کی چھٹی مزے سے بِتانا۔
وہ نانی کا قصّہ کہانی سنانا۔
😔😔😰
وہ گاؤں کے میلے میں گڑ کی جلیبی۔
وہ سرکس میں خوش ہوکے تالی بجانا۔
😔😔😰
وہ انگلی چھپا کر پہیلی بجھانا۔
وہ پیچھے سے ”ہو“ کر کے سب کو ڈرانا۔
😔😔😰
وہ کاغذ کے ٹکڑوں پہ چور اور سپاہی۔
وہ شادی میں اڑتا ہوا شامیانہ۔
😔😔😰
مگر یادِ بچپن کہیں سو گئی ھے۔
کہ خوابوں کی جیسے سحر ہو گئی ھے۔
😔😔😰
یہ نفرت کی آندھی عداوت کے شعلے۔
یہ سیاست دلوں میں زہر بو گئی ھے۔
😔😔😰
زباں بند رکھنے کا آیا زمانہ۔
لبوں پہ نہ آئے امن کا ترانہ۔
😔😔😰
کہ جب مل کے رہتے تھے سب مسلماں۔
نہیں آئے گا اب وہ موسم سہانا۔
😔😔😖😰

Views: 59

Reply to This

Replies to This Discussion

Ahannnn v nice

thnx bandriii :p

Oye hoye nicee han.. 

thnx  jiiiiiiiii

Very nice

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service