Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

میں عمر کے رستے میں چپ چاپ بکھر جاتا
ایک روز بھی گر اپنی تنہائی سے ڈر جاتا
میں ترک تعلق پہ زندہ ہوں سو مجرم ہوں
کاش اس کےلئے جیتا ، اپنے لئے مر جاتا
اس روز کوئی خوشبو قربت میں نہیں جاگی
میں ورنہ سنور جاتا اور وہ بھی نکھر جاتا
اس جانِ تکلم کو تم مجھ سے تو ملواتے
تسخیر نہ کرپاتا حیران تو کرجاتا
کل سامنے تھی منزل اور پیچھے مری آوازیں
چلتا تو بچھڑ جاتا رکتا تو سفر جاتا
میں شہر کی رونق میں گم ہو کہ بہت خوش تھا
ایک شام بچا لیتا کسی روز تو گھر جاتا
محروم فضاوں میں مایوس نظاروں میں
تم عزم نہیں ٹھہرے میں کیسے ٹھہر جاتا

Views: 8

Reply to This

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service