Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

تو ہے گر مجھ سے خفا خود سے خفا ہوں میں بھی

تو ہے گر مجھ سے خفا خود سے خفا ہوں میں بھی
مجھ کو پہچان کہ تیری ہی ادا ہوں میں بھی

ایک تجھ سے ہی نہیں فصلِ تمنا شاداب
وہی موسم ہوں، وہی آب و ہوا ہوں میں بھی

مجھ کو پانا ہو تو ہر لمحہ طلب کر نہ مجھے
رات کے پچھلے پہر مانگ!! دعا ہوں میں بھی

ثبت ہوں دستِ خموشی پہ حنا کی صورت
نا شنیدہ ہی سہی!! تیرا کہا ہوں میں بھی

جانے کس سمت چلوں کون سے رخ مڑ جاؤں
مجھ سے مت مل، کہ زمانے کی ہوا ہوں میں بھی

یوں نہ مرجھا، کہ مجھے خود پہ بھروسا نہ رہے
پچھلے موسم میں ترے ساتھ کِھلا ہوں میں بھی

Views: 9

Reply to This

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service