Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
جس سمت دیکھتا ہوں نظارہ علی کا ہے

کل کا جمال جزو کے چہرے سے ہے عیاں
گھوڑے پہ ہیں حسین نظارہ علی کا ہے

ہم فقر مست چاہنے والے علی کے ہیں
دل پہ ہمارے صرف اجارہ علی کا ہے

دنیا میں اور کون ہے اپنا بجز علی
ہم بے کسوں کو ہے تو سہارا علی کا ہے

تم دخل رے رہے ہو عقیدت کے باب میں
دیکھو معاملہ یہ ہمارا علی کا ہے

تو کیا ہے اور کیا ہے تیرے علم کی بساط
تجھ پہ کرم نصؔیر یہ سارا علی کا ہے

Views: 11

Reply to This

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service