Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

اب دل بجھا بجھا ہے مجھے مار دیجیے

جینے میں کیا رکھا ہے مجھے مار دیجیے

دل کے مرض کا اب نہیں دنیا میں کچھ علاج

یہ عشق لا دوا ہے مجھے مار دیجیے

میں بے گناہ ہوں تو یہی ہے مری سزا

یہ فیصلہ ہوا ہے مجھے مار دیجیے

ڈرتا ہوں آئنے کو لگانے سے ہاتھ میں

کہتا یہ آئینہ ہے مجھے مار دیجیے

میں ہوں وفا شعار یہاں جی کے کیا کروں

یہ دور بے وفا ہے مجھے مار دیجیے

واللہ بے نشہ نہ رہی میری کوئی شام

اکھڑا ہوا نشہ ہے مجھے مار دیجیے

اے جان دل بہار تیری بے رخی کے بعد

اب میرے پاس کیا ہے مجھے مار دیجیے

تنہائیوں کی قید سے گھبرا کے ایک شخص

آواز دے رہا ہے مجھے مار دیجیے

ایک بات جوش جوش میں سچ کہہ گیا ہوں میں

تم کو برا لگا ہے مجھے مار دیجیے

تنہائی میری اس سے بھی دیکھی نہیں گئی

اس نے بھی یہ کہا ہے مجھے مار دیجیے

رشک چمن بنا ہے یہ ارپتؔ مرا وجود

خوشبو کو چھو لیا ہے مجھے مار دیجیے

Views: 41

Reply to This

Replies to This Discussion

تنہائی میری اس سے بھی دیکھی نہیں گئی

اس نے بھی یہ کہا ہے مجھے مار دیجیے......owsm

:-P

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service