Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.


اب دل بجھا بجھا ہے مجھے مار دیجیے

جینے میں کیا رکھا ہے مجھے مار دیجیے

دل کے مرض کا اب نہیں دنیا میں کچھ علاج

یہ عشق لا دوا ہے مجھے مار دیجیے

میں بے گناہ ہوں تو یہی ہے مری سزا

یہ فیصلہ ہوا ہے مجھے مار دیجیے

ڈرتا ہوں آئنے کو لگانے سے ہاتھ میں

کہتا یہ آئینہ ہے مجھے مار دیجیے

میں ہوں وفا شعار یہاں جی کے کیا کروں

یہ دور بے وفا ہے مجھے مار دیجیے

واللہ بے نشہ نہ رہی میری کوئی شام

اکھڑا ہوا نشہ ہے مجھے مار دیجیے

اے جان دل بہار تیری بے رخی کے بعد

اب میرے پاس کیا ہے مجھے مار دیجیے

تنہائیوں کی قید سے گھبرا کے ایک شخص

آواز دے رہا ہے مجھے مار دیجیے

ایک بات جوش جوش میں سچ کہہ گیا ہوں میں

تم کو برا لگا ہے مجھے مار دیجیے

تنہائی میری اس سے بھی دیکھی نہیں گئی

اس نے بھی یہ کہا ہے مجھے مار دیجیے

رشک چمن بنا ہے یہ ارپتؔ مرا وجود

خوشبو کو چھو لیا ہے مجھے مار دیجیے

Views: 51

Reply to This

Replies to This Discussion

تنہائی میری اس سے بھی دیکھی نہیں گئی

اس نے بھی یہ کہا ہے مجھے مار دیجیے......owsm

:-P

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service