Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

اپنی بیوی کو کسی اور کا محتاج نہ بنایئں۔ ہر ماہ بیوی کا ذاتی خرچ لاذمی دیا کریں۔ ہمارے معاشرے کے اکثر گھروں میں یہ معاملہ پایا جاتا ہے کہ اگر بیوی شوہر سے جیب خرچ واسطے کچھ پیسوں کا مطالبہ کرے تو سامنے سے جواب ملتا ہے کہ "تم کیا کرو گی پیسوں کا، ہر چیز تمہیں مل تو جاتی ہے، سب کچھ لا کر تو دیتا ہوں، جو منگوانا ہو بتا دو میں لادوں گا، فضول پیسے نہیں میرے پاس" مطلب دنیا بھر کی تقریریں شروع کردے گا مگر مجال ہے کہ کچھ پیسے نکال کر بیوی کے ہاتھ میں رکھ دوں کہ شاید اسے کچھ ضرورت ہو۔
پھر وہ بیچاری مجبور ہوکر کبھی اپنے ماں باپ کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہے، کبھی بہنوں سے سوال کرتی ہے تو کبھی دوستوں سے اُدھار مانگتی ہے۔ واللہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ شوہر حضرات یہ کیسے گوارہ کرلیتے ہیں کہ میری بیوی میرے ہوتے ہوۓ دوسروں سے پیسے مانگتی پھرے۔
ظاہر سی بات ہے کہ وہ بھی انسان ہے، اسکی بھی ضروریات ہیں، بحیثیت انسان اسکا بھی کہیں کچھ خرچ کرنے کا دل کرتا ہے، اپنی پسند سے کوئ چیز خریدنے کا دل کرتا ہوگا، اپنے والدین، بہن بھائ یا سہلی وغیرہ کو کچھ دینے کا دل کرتا ہوگا، صدقہ خیرات کرنے کا دل کرتا ہوگا، کسی غریب کی مدد کرنے کا دل کرتا ہوگا، اس بات کا بھی دل کرتا ہوگا کہ کچھ پیسے میرے پاس ہر وقت موجود رہیں جو کبھی بھی کسی بھی مجبوری میں کام آجایئں۔
وہ آپکے لیے اپنا گھر بار ماں باپ بہن بھائ سب چھوڑ آئ، اُس نے اپنے آپکو اور اپنی زندگی کو آپ کے حوالے کردیا، خود کو آپ کے سُپرد کردیا، آپ کے ماتحت زندگی گذارنے چلی آئ، اب وہ خود کمانے تو کہیں جاتی نہیں لہذا اسکی جملہ ضروریات آپ کے ذمہ ہے۔ ہم باہر دوستوں کے ساتھ ہوٹلوں پر، ٹوورز پر، آؤٹنگ پر پر اور دیگر فضولیات پر ہزاروں روپے اڑادیتے ہیں اور جب اپنی بیوی کچھ پیسے مانگ لے تو طرح طرح کی باتیں سنانے لگ جاتے ہیں۔
ہر ماہ اپنی تنخواہ سے بیوی کا جیب خرچ اپنی استطاعت کے مطابق متعین کردیں، جب بھی تنخواہ ملے گھر آکر بیوی کو دو ہزار، پانچ ہزار، یا دس ہزار جتنی آپ کی گنجائش ہو اسکے مطابق بیوی کو لازمی جیب خرچ دے دیں اور جیب خرچ دینے کے بعد بیوی سے ان پیسوں کا حساب نہ لیں کہ کہاں خرچ کیا، کتنا خرچ کیا، کیوں خرچ کیا۔ نہیں۔۔۔بلکل نہیں۔ وہ جہاں خرچ کرنا چاہے اسے خرچ کرنے کی اجازت دیں۔ جیب خرچ کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ بندہ اپنی مرضی سے اپنی خواہش کے مطابق جہاں اسکا دل کرے خرچ کرسکے۔
بیوی سے جیب خرچ کا حساب مانگنے سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ بیوی کے ساتھ سخاوت کا مظاہرہ کریں۔ بخیل نہ بنیں۔ ایک جگہ سرکار دو عالم حضرت محمدﷺ نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ "اگر ایک دینار تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو، ایک دینار غلام آزاد کرنے کے لیۓ خرچ کرو، ایک دینار مسکین کو صدقہ دو اور ایک دینار اہل و عیال پر خرچ کرو تو افضلیت کے اعتبار سے سب سے افضل دینار اہل و عیال پر خرچ کیا گیا ہے"
رب تعالی عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین۔
الله پاک سب کو ہدایت دے،
جزاك اللہ خیرا.

Views: 96

Reply to This

Replies to This Discussion

kiu m ny kia kiya : /

bakion ko to guide kr hi skti hn na : p

hahahaha ni rehny dein..itni b bri ni hui

very nice

right

Agree to some extent, but its debatable in islamic perspective. There are certain nitty gritties involved in this matter which need detailed deliberation, since its a lengthy discussion so I will be limited to appreciate everyone to do a bit research on this topic w.r.t. islamic practices. 

aameen 

ameen


NYc sharing

very nice

kamboh un k b tag kr daina apna :P :P i understand ya un k lai post kai hoga ap na

hahha unka abi mujy b ni pta wrna kr deti tag : p

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service