Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

جسموں کی قید توڑ کے نکلے تو شہر میں

جنگل اگا تھا حد نظر تک صداؤں کا

دیکھا جو مڑ کے نقشہ ہی بدلا تھا گاؤں کا

جسموں کی قید توڑ کے نکلے تو شہر میں

ہونے لگا ہے ہم پہ گماں دیوتاؤں کا

اچھا ہوا تہی ہیں زر بندگی سے ہم

ہر موڑ پر ہجوم کھڑا ہے خداؤں کا

صحرا کا خار خار ہے محروم تشنگی

کتنا ستم ظریف وہ چھالا تھا پاؤں کا

سر رکھ کے ہم بھی رات کے پتھر پہ سو گئے

ہم کو بھی راس آیا نہ تیشہ وفاؤں کا

بیگانگی سے مجھ کو نہ یوں دیکھیے کہ میں

حصہ ہوں آپ ہی کے دریچے کی چھاؤں کا

دیتا ہے کون دل کے کواڑوں پہ دستکیں

یہ کون روپ دھار کے آیا ہواؤں کا

فارغؔ غبار راہ کو تحقیر سے نہ دیکھ

پیغمبر بہار ہے موسم خزاؤں کا

Views: 13

Reply to This

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service