پُرنم آنکھوں سے
اک فلسفہِ عشق

جو کہہ دوں میں
اندھیری رات ہوجائے

اور دل بے نور ہو جائے
ترے ہجر کی تپتی راتوں میں

مری آنکھیں جل تھل ہو جائیں
بھیگی ہوئی آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں

شکوہِ عہد وفا یوں کرتی ہیں
غم کی گہری آنہوں سے

مجھے ہر پل یونہی مرنے دو
تم دور ہی رہو اچھا ہے

تم دور سہی ہو اچھا ہے
اس یک طرفہ الفت سے

مرے دل کا روگ اچھا ہے

Views: 15

Reply to This

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service