Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.


تجھ پہ مرتا ہوں ترے سر کی قسم کھاتا ہوں

تم نے جی بھر کے ستانے کی قسم کھائی ہے 

میں نے آنسو نہ بہانے کی قسم کھائی ہے 

 

باغبانوں نے یہ احساس ہوا ہے مجھ کو 

آشیانوں کو جلانے کی قسم کھائی ہے 

 

انقلابات کے شعلے بھی کہیں بجھتے ہیں 

آپ نے آگ بجھانے کی قسم کھائی ہے 

 

ڈر یہی ہے کہ کہیں خود سے نہ دھوکا کھا جائے 

جس نے دھوکے میں نہ آنے کی قسم کھائی ہے 

 

تجھ پہ مرتا ہوں ترے سر کی قسم کھاتا ہوں 

غیر نے آج ٹھکانے کی قسم کھائی ہے 

 

صاف ظاہر ہے کہ اب راز نہیں رہ سکتا 

راز داروں نے چھپانے کی قسم کھائی ہے 

 

شادؔ صاحب کی طرح میں نے مظفرؔ حنفی 

طنز پر سان چڑھانے کی قسم کھائی ہے 

Views: 51

Reply to This

Replies to This Discussion

Awesome

Nice

Hamail is it you gurya?
  • Kon si kanch ki gurya ?

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service