Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

تجھ پہ مرتا ہوں ترے سر کی قسم کھاتا ہوں

تم نے جی بھر کے ستانے کی قسم کھائی ہے 

میں نے آنسو نہ بہانے کی قسم کھائی ہے 

 

باغبانوں نے یہ احساس ہوا ہے مجھ کو 

آشیانوں کو جلانے کی قسم کھائی ہے 

 

انقلابات کے شعلے بھی کہیں بجھتے ہیں 

آپ نے آگ بجھانے کی قسم کھائی ہے 

 

ڈر یہی ہے کہ کہیں خود سے نہ دھوکا کھا جائے 

جس نے دھوکے میں نہ آنے کی قسم کھائی ہے 

 

تجھ پہ مرتا ہوں ترے سر کی قسم کھاتا ہوں 

غیر نے آج ٹھکانے کی قسم کھائی ہے 

 

صاف ظاہر ہے کہ اب راز نہیں رہ سکتا 

راز داروں نے چھپانے کی قسم کھائی ہے 

 

شادؔ صاحب کی طرح میں نے مظفرؔ حنفی 

طنز پر سان چڑھانے کی قسم کھائی ہے 

Views: 44

Reply to This

Replies to This Discussion

Awesome

Nice

Hamail is it you gurya?
  • Kon si kanch ki gurya ?

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service