Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

تیرے دل سے اتر چکا ہوں میں

ایسا لگتا ہے مر چکا ہوں میں

اب مجھے کس طرح سمیٹو گے

ریزہ ریزہ بکھر چکا ہوں میں

تیری بے اعتنائیوں کے سبب

ظرف کہتا ہے بھر چکا ہوں میں

تجھ کو ساری دعائیں لگ جائیں

اب تو جینے سے ڈر چکا ہوں میں

ایک غم اور منتظر ہے مرا

ایک غم سے گزر چکا ہوں میں

تجھ کو نفرت سے ہی نہیں فرصت

چاہتوں میں سنور چکا ہوں میں

آئینہ اب نہیں ہے گرد آلود

رو چکا ہوں نکھر چکا ہوں میں

خود سے لڑنا بہت ہی مشکل ہے

تیری خاطر یہ کر چکا ہوں میں

اب تو باہر نکال پانی سے

دیکھ اب تو ابھر چکا ہوں میں

Views: 8

Reply to This

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service