Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

سوال-وضو کے بغیر قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا کیسا ہے؟ اور کیا بے وضو، حائضہ اور جنبی قرآن ہاتھ میں پکڑ کر پڑھ سکتے ہیں؟ نیز جن عورتوں نے رمضان میں روزہ نہیں رکھنا کیا وہ مخصوص ایام میں قرآن پڑھ سکتی ہیں؟

سوال-وضو کے بغیر قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا کیسا ہے؟ اور کیا بے وضو، حائضہ اور جنبی قرآن ہاتھ میں پکڑ کر پڑھ سکتے ہیں؟ نیز جن عورتوں نے رمضان میں روزہ نہیں رکھنا کیا وہ مخصوص ایام میں قرآن پڑھ سکتی ہیں؟
Published Date: 07-05-2020
جواب..!!
الحمدللہ۔۔!!
*اس سوال کے جواب سے پہلے یہ عرض کرتا چلوں کہ جتنا یہ اہم اور ضروری مسئلہ ہے اتنا ہی اس مسئلہ میں بھی علماء کا شدید اختلاف ہے،کچھ کے ہاں بے وضو قرآن پڑھ ہی نہیں سکتا، کچھ کے ہاں بے وضو ہاتھ لگائے بنا پڑھ سکتا ہے، اور رہی بات حائضہ اور جنبی کی،تو ایسی صورت میں تو تقریباً اکثر لوگ قرآن کو چھونے کو حرام یا گناہ سمجھتے ہیں،اور اسی وجہ سے اکثر لوگ قرآن سے دور رہتے ہیں*
*ہمیشہ کی طرح میں یہاں پر بھی یہی کہنا چاہوں گا کہ اگر مسلک کی پیروی چھوڑ کر قرآن و حدیث کو اپنایا جائے تو تقریباً زیادہ مسائل آسانی سے سمجھ آ جاتے ہیں،اور یہ مسئلہ بھی ہم ان شاءاللہ قرآن و حدیث سے حل کریں گے،*
________&________
*سوال کا پہلا حصہ*
بے وضو قرآنِ مجید کی تلاوت کر سکتا ہے کیونکہ کوئی ایسی صریح اور صحیح حدیث موجود نہیں ہے جس میں بے وضو آدمی کو قرآن مجید کی تلاوت سے روکا گیا ہو اور قرآن مجید کی تلاوت کا حکم خود قرآن مجید میں ہے،
دلیل نمبر-1
📚فَاقۡرَءُوۡا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الۡقُرۡاٰنِ ؕ
قرآن میں سے جو میسر ہو پڑھو
(سورہ مزمل-20)
یہاں اللہ پاک نے قرآن پڑھنے کا حکم دیا ہے مگر یہ نہیں فرمایا کہ بے وضو کی حالت میں نا پڑھو یا یہ بھی نہیں فرمایا کہ وضو کر کے پڑھو،
دلیل نمبر-2
📚حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ اور اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاری۔ ( وہ فرماتے ہیں کہ ) میں تکیہ کے عرض ( یعنی گوشہ ) کی طرف لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ نے ( معمول کے مطابق ) تکیہ کی لمبائی پر ( سر رکھ کر ) آرام فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے رہے اور جب آدھی رات ہو گئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد آپ بیدار ہوئے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی نیند کو دور کرنے کے لیے آنکھیں ملنے لگے۔ پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، پھر ایک مشکیزہ کے پاس جو ( چھت میں ) لٹکا ہوا تھا آپ کھڑے ہو گئے اور اس سے وضو کیا، خوب اچھی طرح، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے)
(صحيح البخاري| كِتَابٌ : الْوُضُوءُ | بَابُ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ بَعْدَ الْحَدَثِ،حدیث نمبر-183)
*اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے تلاوت کی اور پھر بعد میں وضو کیا*
📒اور امام بخاری رحمہ اللہ کا اس حدیث پر باب قائم کرنا کہ!!
بَابُ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ بَعْدَ الْحَدَثِ
بے وضو ہونے کے بعد قرآن مجید کی تلاوت کرنا
اس بات کی ٹھوس دلیل ہے کہ بے وضو قرآن پڑھ سکتا ہے،
دلیل نمبر-3
📚علامہ ہیثمی نے یہ حدیث لکھی ہے کہ
رأى النبيَّ ﷺ بال ثم تلا آياتٍ من القرآنِ قال هُشيمٌ آيًا من القرآنِ قبلَأن يمسَّ ماءً
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا اور پھر قرآن کی کچھ آیات تلاوت کیں،
ھشیم کہتے ہیں قرآن کی آیات تلاوت کی پانی کو چھونے سے پہلے,
(الهيثمي (٨٠٧ هـ)، مجمع الزوائد ١ج/ص٢٨١ • رجاله ثقات)
دلیل نمبر-4
📚اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک اثر پیش کرتا ہوں۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ فِي قَوْمٍ وَهُمْ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَسْتَ عَلَی وُضُوئٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَنْ أَفْتَاکَ بِهَذَا أَمُسَيْلِمَةُ
محمد بن سيرین سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں میں بیٹھے اور لوگ قرآن پڑھ رہے تھے پس گئے حاجت کو اور پھر آکر قرآن پڑھنے لگے ایک شخص نے کہا آپ کلام اللہ پڑھتے ہیں بغیر وضو کے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تجھ سے کس نے کہا کہ یہ منع ہے کیا مسیلمہ نے کہا؟
(موطأ مالك | كِتَابٌ : الصَّلَاةُ |
الرُّخْصَةُ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ،
باب: وضو کے بغیر قرآن کی تلاوت کرنے کی رخصت ہے/ حدیث نمبر-537)
*حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فرمانے کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا حکم تو قرآن و حدیث میں کہیں نہیں ہے کہ بغیر وضو قرآن نہیں پڑھ سکتے ،کہیں مسیلمہ کذاب نے تو ایسا حکم نہیں دے دیا؟؟ اور آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ مسیلمہ کذاب وہی شخص ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا*
_______&&&&_________
*دوسرا حصہ حائضہ و جنبی کا قرآن پڑھنا*
حائضہ یا جنبی کو اللہ کا ذکر کرنے سے منع کرنے والی کوئی ''دلیل'' معرض استدلال میں موجود نہیں!
یاد رہے کہ قرآن مجید کی تلاوت بھی اللہ کے ذکر میں شامل ہے۔ منع کرنے کے لیے جن روایات کا سہارا لیا جاتا ہے ان میں سے کوئی بھی ''دلیل'' بننے کے قابل نہیں!
جبکہ حائضہ وجنبی کے ذکر کرنے اور قرآن پڑھنے کے جواز پر ''دلائل'' موجود ہیں،
البتہ خاص ذکر یعنی نماز سے منع کے بے شمار دلائل موجود ہیں مگر یہاں ہمارا موضوع صرف تلاوت قرآن ہے،
یاد رہے کہ حائضہ اور جنبی دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔
دلیل نمبر-1:
📚ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں،
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ
“نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر وقت اللہ تعالٰی کا ذکر کیا کرتے تھے“۔
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْحَيْضُ |
بَابٌ : ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى فِي حَالِ الْجَنَابَةِ وَغَيْرِهَا، حدیث نمبر-373)
📒امام مسلم رحمہ اللہ اس حدیث کو کتاب الحیض میں لا کر اس پر باب قائم کیا ہے کہ،
ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى فِي حَالِ الْجَنَابَةِ وَغَيْرِهَا،
جنبی حالت اور اسکے علاوہ ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرنا،
📒امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اس حدیث کو طہارت کی کتاب میں ذکر کیا ہے اور باب قائم کیا ہے کہ
سنن ابو داؤد، كِتَابُ الطَّهَارَةِ | بَابٌ : فِي الرَّجُلِ يَذْكُرُ اللَّهَ تَعَالَى عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ ،
حدیث نمبر-18
آدمی کا بغیر طہارت کے اللہ کا ذکر کرنا
*یہ بات بھی حقیقت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے وضو بھی ہوتے تھے*
اور ان احادیث میں واضح یہ بات سمجھ آ رہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے اور محدثین نے حدیث میں وارد لفظ "ہر وقت" سے مراد کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے بغیر طہارت یعنی جنبی،حائضہ اور بے وضو ہر حال میں اللہ کا ذکر کر سکتے ہیں،
اور اللہ کے ذکر میں قرآن مجید بھی داخل ہے۔ ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کیلئے با وضو ہونا لازمی نہیں ہے۔ ہر حالت میں حالت جنابت بھی شامل ہے۔ یہ حدیث عام ہے اور حالت جنابت کو اس سے مستثنى کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔
📒 شیخ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث (ہر حال میں اللّٰہ کا ذکر کرتے تھے) سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’محْدِثْ (بے وضو)، جنبی اور حائضہ کے لیے قرآن پڑھنے سے ممانعت کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے بلکہ حضرت عائشہ رض سے مروی حدیث سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ ہر حالت میں اللّٰہ کا ذکر کرتے تھے۔‘
( ریاض الصالحین ،حاشیہ بہ تحقیق شیخ البانی، ص : ۴۹۵، طبع بیروت)
📒شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’اسی لیے امام بخاری اور ان کے علاوہ ان ائمہ نے جو (بے وضو قرآن پڑھنے کے) جواز کے قائل ہیں جیسے: طبری، ابن منذر اور امام داؤد، ان سب نے حدیث «کان یذکر الله… ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے۔۔۔الخ» کے عموم سے دلیل پکڑی ہے، اس لیے کہ ذکر کا لفظ عام ہے اس میں قرآن اور غیر قرآن دونوں آجاتے ہیں۔ ذکر اور تلاوت میں جو فرق کیا جاتا ہے اس کی بنیاد صرف عرف ہے۔
( فتح الباري: ج۱/ص۵۲۹)
دلیل نمبر-2:
📚 رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو جو خط لکھا اس میں دو آیات بھی تھیں، اس خط کو ہرقل نے طلب کیا اور پڑھا '' بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ'' اور ''يَا أَهْلَ الكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ'' [آل عمران: 64]
(صحیح البخاری:حدیث نمبر- 2940)
اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اہل کفر غسل جنابت اور اسکے احکام سے واقف نہیں ہوتے ہیں اور نہ ہی جنابت سے پاک ہوتے ہیں، اور یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی بخوبی پتا تھی مگر آپ نے پھر بھی اس خط میں قرآن لکھ کر بھیجا ،جسے غیر مسلم کافر نے پڑھا،
📒واضح رہے اس حدیث کو دلیل بھی ہم اپنی طرف سے نہیں بنا رہے بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو خود دلیل کے طور پر پیش کیا ہے،
( دیکھیں صحيح البخاري| كِتَابٌ : الْحَيْضُ| بَابٌ : تَقْضِي الْحَائِضُ الْمَنَاسِكَ,قبل الحدیث-305)
دلیل نمبر-3
📚سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نَخْرُجَ يَوْمَ العِيدِ حَتَّى نُخْرِجَ البِكْرَ مِنْ خِدْرِهَا، حَتَّى نُخْرِجَ الحُيَّضَ، فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ، فَيُكَبِّرْنَ بِتَكْبِيرِهِمْ، وَيَدْعُونَ بِدُعَائِهِمْ » ہم حکم دی جاتی تھیں کہ عید کے دن ہم نکلیں حتى کہ کنواری لڑکیوں اور حیض والیوں کو بھی ہم نکالیں, تو وہ لوگوں کے پیچھے ہوتیں, اور انکی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہتیں, اور انکی دعاء کے ساتھ دعاء مانگتیں.
( صحیح البخاری: حدیث نمبر-971)
اس حدیث میں بھی حائضہ خواتین کا دعاء اور ذکر کرنا واضح ہے،
دلیل نمبر-4
📚جلیل القدر تابعی عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارہ میں فرماتے ہیں: أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ وِرْدَهُ وَهُوَ جُنُبٌ وہ حالت جنابت میں بھی اپنی منزل پڑھا کرتے تھے۔
(اامام ابن حجر العسقلاني (٨٥٢ هـ)،
نے اس روایت کو تغليق التعليق ج2/ص172 پر ذکر کیا اور فرمایا اسنادہ صحیح، یعنی اسکی سند صحیح ہے
(الأوسط لابن المنذر: 624)
دلیل نمبر-5
📚أبو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ: أَيَقْرَأُ الْجُنُبُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: دَخَلْتَ عَلَيَّ وَقَدْ قَرَأْتُ سُبُعَ الْقُرْآنِ وَأَنَا جُنُبٌ
میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے پوچھا کیا جنبی قرآن پڑھ سکتا ہے؟
تو ابن عباس رض فرمانے لگے ،
آپ میرے پاس آئے ہیں؟
جبکہ میں نے حالت جنابت میں ہی قرآن کے ساتویں حصہ (ایک منزل) کی تلاوت کی ہے ۔
(الأوسط لابن المنذر: 625)
(امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن عباس کا یہ موقف صحیح ثابت ہونے کا اشارہ دیا ہے۔ صحیح البخاری, قبل الحدیث: 305)
دلیل نمبر-6
📚 عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے اس طرح نکلے کہ ہماری زبانوں پر حج کے علاوہ اور کوئی ذکر ہی نہ تھا۔ جب ہم مقام سرف پہنچے تو مجھے حیض آ گیا۔ (اس غم سے) میں رو رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا کاش! میں اس سال حج کا ارادہ ہی نہ کرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تمہیں حیض آ گیا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقرر کر دی ہے۔ اس لیے تم جب تک پاک نہ ہو جاؤ طواف بیت اللہ کے علاوہ حاجیوں کی طرح تمام کام انجام دو،
(صحيح البخاري| كِتَابٌ : الْحَيْضُ| بَابٌ : تَقْضِي الْحَائِضُ الْمَنَاسِكَ,حدیث نمبر-305)
📒امام بخاری رحمہ اللہ بھی حائضہ و جنبی کی قراءت کے قائل ہیں۔ اسی لیے انہوں نے
صحیح البخاری, کتاب الحیض باب تَقْضِي الحَائِضُ المَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ
امام بخاری نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے کہ
"حائضہ عورت بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج کے ارکان پورے کرے گی"
اور یقیناً حج و عمرہ کے دوران قرآن بھی پڑھا جاتا ہے، جس سے آپ نے منع نہیں فرمایا، بلکہ اجازت دی !!!
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حائضہ عورت ذکر و اذکار اور قرآن پڑھ سکتی ہے،
📒حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے،
کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا مطلب اس باب سے اور حضرت عائشہ رض کے واقعہ سے حائضہ اور جنبی کے قرآن پڑھنے کے جواز پر استدلال کرنا ہے،اس لیے کہ نبیﷺ نے حج کے تمام مناسک میں سے طواف کے سوا کسی چیز کو مستثنیٰ نہیں کیا… اور حج کے اعمال، ذکر، تلبیہ اور دعا پر مشتمل ہیں اور حائضہ کو ان میں سے کسی چیز سے نہیں روکا گیا۔پس اسی طرح جنبی کا معاملہ ہے، اس لیے کہ عورت کا حدث مرد کے حدث سے زیادہ ناپاک ہے (جب حائضہ عورت قرآن پڑھ سکتی ہے تو جنبی تو بطریقِ اولیٰ پڑھ سکتا ہے)
اور امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک اس ضمن میں (کہ حائضہ یا جنبی قرآن نا پڑھے ) وارد احادیث میں سے کوئی حدیث صحیح نہیں ہے، اگرچہ اس کی بابت وارد احادیث دوسروں کے نزدیک باہم مل کر قابل احتجاج بن جاتی ہیں۔ لیکن ان میں اکثر احادیث قابل تاویل ہیں۔
(فتح الباري: ج۱/ص۵۲۹)
دلیل نمبر-7
📚محمد بن علی الباقر رحمہ اللہ سے روایت ہے: ‘‘وہ جنبی اورحائضہ کے لیے ایک دو آیات پڑھنے میں کچھ حرج خیال نہیں کرتےتھے۔’’
(مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۰۲ص/ج۱، وسندہ صحیحٌ)
دلیل نمبر-8
📚ابو اسحاق عمرو بن عبداللہ السبیعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ‘‘میں نے سعید بن جبیر تابعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا حائضہ اور جنبی قرآن پڑھ سکتے ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا، ایک دو آیات پڑھ سکتے ہیں۔’’
(مصنف ابن ابی شیبۃ:۱۰۲ص/ج۱، وسندہ صحیحٌ)
دلیل نمبر-9
📚شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
حائضہ عورت كى تلاوت كى ممانعت ميں كوئى صريح اور صحيح نص نہيں ملتى.
اور ان كا كہنا ہے: يہ تو معلوم ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں بھى عورتوں كو حيض آتا تھا، ليكن رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں قرآن كى تلاوت سے منع نہيں كيا، جس طرح كہ انہيں ذكر و اذكار اور دعاء سے منع نہيں فرمايا
(مجموع الفتاوى ابن تيميۃ ( 21 / 460 )
دلیل نمبر-10
📚 حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی ’اعلام الموقعین‘ میں اس مسئلے پر گفتگو کی ہے۔ ایک تو انہوں نے بھی منع قراءت کی روایت کو ضعیف اور ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔
ثانیاً: قراءتِ قرآن کے جواز کے موقف کو اس طرح واضح کیا ہے:
’’اللّٰہ تعالیٰ نے حائضہ عورت کے بارے میں احکام کو دو قسموں میں تقسیم فرمایا ہے۔ احکام کی ایک قسم تو وہ ہے جس کا ازالہ حالت حیض کے بعد حالت طہر میں آسانی سے ممکن ہے تو ایسے احکام حالتِ حیض میں اس کے لیے ضروری قرار نہیں دیے بلکہ اس سے ساقط کر دیے (سقوط کی بھی دو صورتیں ہیں) یا تو مطلقاً ساقط کر دیے، جیسے نماز ہے، حالت حیض میں نماز بالکل معاف کر دی۔ یا حالت طہر میں ان احکام کی قضا (ادائیگی) کا حکم دیا، جیسے روزے ہیں۔ حیض میں تو روزہ رکھنے سے منع کر دیا لیکن بعد میں اس کمی کو پورا کرنے کا حکم دیا۔
اور احکام کی دوسری قسم وہ ہے جس کا بدل بھی ممکن نہیں اور حالت طہر تک اس کا مؤخر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا تو اس کی مشروعیت کو حیض کے باوجود برقرار رکھا، جیسے احرام باندھنا، عرفات میں وقوف کرنا، طواف کے علاوہ دیگر مناسک حج کا ادا کرنا ہے۔ اسی طرح حالت حیض میں اس کے لیے قراء تِ قرآن کاجائز ہونا ہے اس لیے کہ حالت طہر میں اس کا ازالہ بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ حیض کی مدت لمبی ہوتی ہے، اس مدت میں قرآن کی تلاوت سے روکنے میں کئی نقصان ہیں، جیسے حفظ قرآن میں خلل وغیرہ۔‘‘
(إعلام الموقعین : ۳ج/ص۲۸۔
طبع ۱۹۶۹ء بہ تحقیق عبد الرحمن الوکیل)
___________&&______
*تیسرا مسئلہ حائضہ ،جنبی اور بے وضو کا قرآن کو ہاتھ لگانے کا*
بچپن میں ہمیں ایک بات کی نصیحت کی جاتی تھی کہ قرآن مجید کو بغیر وضو ہاتھ نہ لگانا اس سے بہت گناہ ہوتا ہے مگر جب ہم نے اس بات کی تحقیق کی کہ کیا واقعی بغیر وضو قرآن مجید کو ہاتھ لگانا منع ہے تو میں حیران رہ گیا کہ ایسا حکم قرآن و صحیح حدیث میں کہیں بھی نہیں ہے::
📚اس پر جو سب سے بڑی دلیل دی جاتی ہے وہ قرآن کی یہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ 77۝ۙفِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ 78۝ۙلَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ 79۝ۭ
بیشک یہ قرآن ہے بڑا ہی عزت (و عظمت) والا، جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے، جسے مطہرین (پاک فرشتوں) کے سوا کوئی نہیں چھو سکتا،
(سورۃ الواقعہ:77٫78٫79)
یہاں حکم نہیں بلکہ خبر دی جا رہی کہ پاک فرشتوں کے علاوہ کوئی نہیں چھوتا، اگر حکم ہوتا تو یہ بات ہوتی کہ قرآن کو صرف پاک لوگ چھوئیں،
اس آئیت سے مراد کچھ لوگ یہ لیتے ہیں کہ قرآن کو صرف پاک لوگ ہاتھ لگا سکتے ہیں،
جبکہ اسکی اصل تفسیر یہ ہے! کہ
تفسیر:
📒اس آئیت میں یہ تردید کفار کے ان الزامات کی ہے جو وہ قرآن پر لگایا کرتے تھے ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کاہن قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ کلام آپ پر جن اور شیاطین القا کرتے ہیں ۔ اس کا جواب قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دیا گیا ہے ۔ مثلاً سورہ شعراء میں ارشاد ہوا ہے وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیٰطِیْنُ ، وَمَا یَنْبَغِیْ لَھُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ، اِنَّھُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ۔ اس کو لے کر شیاطین نہیں اترے ہیں ، نہ یہ کلام ان کو سجتا ہے اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔ وہ تو اس کی سماعت تک سے دور رکھے گئے ہیں ( آیات ۔ 210 تا 212 )
۔ اسی مضمون کو یہاں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ اسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا ۔ ، یعنی شیاطین کا اس قرآن کو لانا ، یا اس کے نزول کے وقت اس میں دخل انداز ہونا تو درکنار ، جس وقت یہ قرآن لوح محفوظ سے نبی پر نازل کیا جاتا ہے اس وقت مُطَہرین ، یعنی پاک فرشتوں کے سوا کوئی قریب پھٹک بھی نہیں سکتا ۔ فرشتوں کے لیے مطہرین کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قسم کے ناپاک جذبات اور خواہشات سے پاک رکھا ہے ۔ اس آیت کی یہی تفسیر انس بن مالک ، ابن عباس ، سعید بن جبیر ، عکرمہ ، مجاہد ، قتادہ ، ابوالعالیہ ، سُدی ، ضحاک اور ابن زید ( رضی اللہ عنہم ) نے بیان کی ہے ، اور نظم کلام کے ساتھ بھی یہی مناسبت رکھتی ہے ۔ کیونکہ سلسلہ کلام خود یہ بتا رہا ہے کہ توحید اور آخرت کے متعلق کفار مکہ کے غلط تصورات کی تردید کرنے کے بعد اب قرآن مجید کے بارے میں ان کے جھوٹے گمانوں کی تردید کی جا رہی ہے اور مواقع نجوم کی قسم کھا کر یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ایک بلند پایہ کتاب ہے ، اللہ تعالیٰ کے محفوظ نوشتے میں ثبت ہے جس میں کسی مخلوق کی دراندازی کا کوئی امکان نہیں ، اور نبی پر یہ ایسے طریقے سے نازل ہوتی ہے کہ پاکیزہ فرشتوں کے سوا کوئی اسے چھو تک نہیں سکتا ۔
(الشوكاني -فتح القدير ٥/٢٣٢)
(تفسیر مودودی، تفسیر ابن کثیر،
تفسیر تقی عثمانی وغیرہم)
بعض مفسرین نے اس آیت میں "لا" کو نہی کے معنی میں لیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ کوئی ایسا شخص اسے نہ چھوئے جو پاک نہ ہو ، یا ‘’کسی ایسے شخص کو اسے نہ چھونا چاہیے جو ناپاک ہو ۔۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تفسیر آیت کے سیاق و سباق سے مطابقت نہیں رکھتی،
پھر یہ کہ سورہ واقعہ مکی ہے جبکہ وضو کا حکم مدینہ میں آیا تھا ۔ لہٰذا اس آیت کو وضو یا طہارت کے ساتھ مشروط نہیں کیا جا سکتا تاہم ہمیں صحیح احادیث کی کتاب میں سے بھی کوئی ایسی حدیث نہیں ملتی جس میں بغیر وضو یا جنبی اور حائضہ کے قرآن پڑھنے کی ممانعت ہو۔
اسی طرح!!
📚ایک حدیث میں آتا ہے،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
: " أَنْ لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ ".
”قرآن کو طاہر کے سوا کوئی نہ چھوئے
(صحیح الجامع،حدیث نمبر-7780)
اس روایت کی صحت میں بھی اگرچہ اختلاف ہے،
📒جیسا کہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
’’اسے دارقطنی نے عمرو بن حزم، عبد اللّٰہ بن عمر اور عثمان بن ابی العاص سے مسند طور پر بیان کیا ہے لیکن ان میں ہر ایک کی سند محل نظر ہے۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر: 4؍315 زیر آیت الواقعہ :99، دارالسلام ، الریاض، 1992)
📒تاہم محدثین کی اکثریت اس کی صحت کی قائل ہے۔ شیخ البانی نے بھی اسے مجموعی طرق کی بنیاد پر صحیح قرار دیا ہے۔
(إرواء الغلیل ، حدیث نمبر : ۱۲۲)
*لیکن یہ روایت مسئلہ زیر بحث میں واضح نہیں ہے، اس لیے اسے بھی مدار استدلال نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ کیوں کہ اس میں طاہر (پاک شخص) کو قرآن مجید چھونے کی اجازت دی گئی ہے اور طاہر کا لفظ چار قسم کے افراد پر بولا جاتا ہے*
1_جو ’حدثِ اکبر‘ (جنابت، حیض و نفاس) سے پاک ہو۔
2_ جو ’حدث اصغر‘ سے پاک ہو ۔ (یعنی بے وضو نہ ہو)
3_ جس کے بدن پر ظاہری نجاست نہ ہو۔
4_ جو مومن ہو ۔ (چاہے وہ حائضہ، جنبی ہو یا بے وضو)
اس آخری چوتھے مفہوم کی تائید قرآن کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے:
📚﴿ اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ ﴾
(التوبۃ: 28)
’’مشرک ناپاک ہیں۔‘‘
اس کا مفہوم دوسرے لفظوں میں یہ ہوا کہ مومن پاک ہے، چاہے وہ کسی حالت میں بھی ہو۔ علاوہ ازیں حدیث سے بھی اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے،،
📚چنانچہ حدیث میں ہے:
«إن المؤمن لا ینجس
’’مومن نجس (ناپاک) نہیں ہوتا ۔‘‘
(یعنی وہ پاک ہوتا ہے)
(صحیح مسلم، كتاب الحيض، باب الدليل على أن المسلم لا ينجس : ۳۷۱ )
اور نبیﷺ نے یہ بات حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت فرمائی تھی، جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جنبی تھے۔ جس سے اسی بات کی تائید ہوتی ہے کہ مومن ہر حالت میں طاہر ہی ہوتا ہے، البتہ اس سے وہ صورتیں مستثنیٰ ہوں گی جن کی صراحت نص سے ثابت ہے، جیسے بے وضو یا اجنبی آدمی کی بابت حکم ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھ سکتا، جب تک وہ وضو یا غسل نہ کر لے۔ لیکن اس کے علاوہ دیگر کاموں کے لیے وہ پاک ہی متصور ہو گا،اور اس کی مزید تائید ان احکام سے ہوتی ہے جو حائضہ عورتوں کی بابت دیے گئے ہیں، جیسے خاوند اس کے ساتھ لیٹ سکتا اور (شرم گاہ کے علاوہ) مباشرت کرسکتا ہے، اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا جائز ہے، اس کی گود میں لیٹے ہوئے قرآن پڑھا جا سکتا ہے،
اس تفصیل سے یہ واضح ہے کہ طاہر کے چاروں معنوں میں سے یہ آخری معنی دوسرے دلائل کی رو سے زیادہ صحیح ہے، جب کہ دوسرے معانی اتنے قوی نہیں ہیں اور اس آخری معنی کی رو سے جنبی یا حائضہ کا قرآن پڑھنا یا اسے چھونا ممنوع ثابت نہیں ہوتا کیونکہ جنبی اور حائضہ بھی مومن ہونے کی وجہ سے پاک ہیں۔
*یہاں طاہر سے مراد بھی مسلمان ہے،کہ کافر،مشرک نجس اور ناپاک ہوتا ہے وہ قرآن کو ہاتھ نا لگائے،اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ اوپر والی آیت اور حدیث سے یہ مراد ہے کہ کوئی مسلمان قرآن کو ہاتھ نہ لگائے مگر جو پاک ہو*
*تو اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بغیر وضو شخص، جنبی یا حائضہ عورت پلید اور ناپاک ہوتے ہیں۔۔؟*
اگر تو ایسا ہی ہے کہ یہ سب لوگ پلید ہیں پھر تو قرآن چھونے سے پہلے غسل اور وضو لازمی ہوا اور اگر بے،وضو،جنبی اور حائضہ پلید نہیں ہیں تو وضو کی شرط لگانا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ یہ دین میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے مثلاً دیکھنے میں اکثر یہ آیا ہے کہ لوگ اکثر اس وجہ سے قرآن کی تلاوت کرنے سے رُک جاتے ہیں کہ ہم بے وضو ہیں اور اس طرح وہ قرآن سے دور ہوتے جا رہے ہیں بلکہ قرآن سے دور ہوچکے ہیں،
عورتیں ہر ماہ آٹھ دس دن نماز چھوڑتی ساتھ میں قرآن بھی چھوڑ دیتی،
اسی طرح نفاس والی عورت 40 دن قرآن چھوڑ دیتی، اور جو مدرسے کی حفظ کرنے والی بچیاں اگر سات دن قرآن چھوڑ دیں تو قرآن کیسے یاد کریں گی؟
مدرسے کے بچے اور اساتذہ ہر وقت باوضو کیسے رہے گیں؟؟
کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ہم کسی مسئلے پر بات چیت کر رہے ہوتے تو قرآن مجید کے حوالے کے لیے قرآن کی ضرورت پیش آئی اور ہم صرف اسی وجہ سے قرآن کو ہاتھ میں نہیں پکڑ رہے ہوتے کہ ہمارا وضو نہیں تھا اور وہ موقعہ محل بھی ایسا تھا کہ فوراً وضو بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، اب اس مسئلے میں دین میں اضافہ کس مقصد کے لیے کیا گیا تھا اس کا مجھے علم نہیں مگر اس کی وجہ سے لوگ قرآن سے ضرور دور ہو چکے ہیں، وضو بعض لوگوں پر اتنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم نماز نہیں پڑھتے کہ وضو کرنا پڑتا ہے،
*اب ہم احادیث سے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ بے وضو،جنبی اور حائضہ پلید اور ناپاک نہیں ہیں*
دلیل نمبر-1
📚ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «كَانَ يَتَّكِئُ فِي حَجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ يَقْرَأُ القُرْآنَ»
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت فرماتے جبکہ میں حائضہ ہوتی۔
(صحیح البخاری:حدیث نمبر-297)
(صحیح مسلم: حدیث نمبر- 301)
*اگر حائضہ عورت پلید ہوتی تو کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گود میں لیٹتے یا انکی گود میں لیٹ کر قرآن پڑھتے؟*
دلیل نمبر-2
📚حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ،
‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فَأَهْوَى إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي جُنُبٌ،
‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( مصافحہ کے لیے ) ہاتھ پھیلاتے ہوئے میری طرف بڑھے،
حذیفہ نے کہا:
میں جنبی ہوں،
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مسلمان نجس نہیں ہوتا،
(سنن ابو داؤد،حدث نمبر_230)
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-372)
📒امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث پر اپنی صحیح مسلم میں باب باندھا ہے کہ،
كِتَابٌ : الْحَيْضُ | بَابٌ : الدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ
اس بات کی دلیل کہ مسلمان (کبھی) نجس نہیں ہوتا"
دلیل نمبر-3
📚ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک راستے میں مجھے ملے تو میں جنبی حالت میں تھا،
اس لیے وہاں سے کھسک گیا اور جا کر غسل کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا،
تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
اے ابوھریرہ کہاں تھے ؟
ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہيں میں نے کہا : میں جنبی تھا اس لیے میں نے ناپسند کیا کہ ناپاکی کی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھوں ،
تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :
سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ"".
سبحان اللہ ، مسلمان ہرگز ناپاک نہيں ہوتا ۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر_ 283)
(صحیح مسلم حدیث نمبر_ 371 )
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_231)
📒امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب باندھا ہے کہ ،
كِتَابُ الْغُسْلِ | بَابُ عَرَقِ الْجُنُبِ وَأَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ.
جنبی کا پسینہ اور مسلمان ناپاک نہیں ہوتے،
*یعنی حالت جنابت کی نجاست( ناپاکی ) صرف حکمی ہوتی ہے، حسی نہیں ہوتی،*
دلیل نمبر-4
📚حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ:
رسول اللہ ﷺ ( اعتکاف کی حالت میں ) اپنا سر میرے قریب کر دیتے جبکہ میں اپنے حجرے میں ہوتی اور میں حیض کی حالت میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیتی تھی،
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-297)
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-804٫805)
*اگر حیض کی حالت میں ہاتھ ناپاک ہوتے تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امی عائشہ کنگھی کرتیں؟*
دلیل نمبر-5
📚حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ،
: رسول ا للہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’مجھے مسجد میں سے جائے نماز پکڑا دو ۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی :
میں حائضہ ہوں
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہار ا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے؟ (صحیح مسلم،کتاب الحیض، 298 )
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-261)
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر-632)
اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حیض تیرے ہاتھ میں تو نہیں؟یعنی حیض کی حالت میں بھی عورت کے ہاتھ ناپاک نہیں ہوتے،
دلیل نمبر-6
📚امام بخاری رحمہ اللہ صحیح بخاری میں کتاب الحیض کے اندر اس روایت کو معلق ذکر کرتے ہیں کہ
وَكَانَ أَبُو وَائِلٍ يُرْسِلُ خَادِمَهُ وَهِيَ حَائِضٌ إِلَى أَبِي رَزِينٍ فَتَأْتِيهِ بِالْمُصْحَفِ فَتُمْسِكُهُ بِعِلَاقَتِهِ.
ابووائل اپنی خادمہ کو حیض کی حالت میں ابو رزین کے پاس بھیجتے تھے اور وہ ان کے یہاں سے قرآن مجید جزدان میں لپٹا ہوا اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لاتی تھی،
(صحیح بخاری،کتاب الحیض/ باب قراءة الرجل في حجر امراته وهي حائض:
باب: اس بارے میں کہ مرد کا اپنی بیوی کی گود میں حائضہ ہونے کے باوجود قرآن پڑھنا جائز ہے۔ قبل الحدیث ،297)
یعنی ابو وائل کی خادمہ حیض کی حالت میں قرآن پکڑ کر لاتی تھیں،
*ان احادیث سے ثابت ہوا کہ اوپر والی حدیث( الا طاھرا) سے مراد غیر مومن ہے یعنی کافر قرآن مجید کو نہ چھوئے، مومن چھو سکتا ہے خواہ وہ جنبی ہو یا حائضہ ہو یا بے وضو،کیونکہ مسلمان نجس نہیں ہوتا،اور نا ہی جنبی اور حیض و نفاس کی حالت میں کسی مسلمان کے ہاتھ پلید ہوتے ہیں،جب حائضہ اور جنبی کے ہاتھ پلید نہیں تو بغیر وضو والے کے ہاتھ کیسے پلید ہو سکتے؟؟؟*
ان روایات سے پتا چلا کہ وضو کے بغیر بھی ،جنبی حالت میں بھی اور حیض و نفاس کی حالت میں بھی قرآن زبانی بھی پڑھ سکتے ہیں اور ہاتھ میں پکڑ کر بھی پڑھ سکتے ہیں،
📒مولانا امین احسن اصلاحی فقہا کے طرز استدلال پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جن فقہا نے قرآن کی زبانی تلاوت یا اس کو ہاتھ لگانے تک کے لیے بھی طہارت کی وہ شرطیں عائد کی ہیں جو نماز کے لیے ضروری ہیں،ان کے اقوال غلو پر مبنی ہیں۔ قرآن اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب ہے اس وجہ سے وہ ہر پہلو اور خیر و شر کے جاننے کا ذریعہ، اخذ و استنباط کا حوالہ اور استدلال کا مرکز بھی ہے۔ اگر اس کو ہاتھ لگانے یا اس کی کسی سورت یا آیت کی تلاوت کرنے یا حوالہ دینے کے لیے بھی آدمی کا طاہر و مطہر اور باوضو ہونا ضروری قرار پا جائے تو یہ ایک تکلیف مالایطاق ہو گی جو دین فطرت کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس طرح کی غیر فطری پابندیاں عائد کرنے سے قرآن کی تعظیم کا وہی تصور پیدا ہو گا جس کی تعبیر سیدنا مسیح نے یوں فرمائی ہے کہ ’’تمہیں چراغ دیا گیا کہ اس کو گھر میں بلند جگہ رکھو کہ سارے گھر میں روشنی پھیلے لیکن تم نے اس کو پیمانے کے نیچے ڈھانپ کر رکھا ہے۔
(تفسیر تدبر قرآن: ۸؍۱۸۴)
📒 امام ابن حزم رحمہ اللہ نے بھی جواز کے مسلک کی پرزور تائیدکی ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’قرآن مجید کا پڑھنا اور اس کی آیت سجدہ پر سجدہ کرنا، قرآن مجید کا چھونا اور اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرنا، یہ سارے کام جائز ہیں، چاہے وضو ہو یا نہ ہو اور چاہے جنبی ہو یا حائضہ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مذکورہ سارے کام افعال خیر ہیں جو مستحب ہیں اور ان کا کرنے والا اجر کا مستحق ہے، جو شخص اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ مذکورہ کام بعض حالتوں میں منع ہیں تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی دلیل پیش کرے۔‘‘
اس کے بعد امام ابن حزم نے ان تمام دلائل کا جائزہ لیا ہے جو مانعین کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے ان کے نزدیک بھی منع کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔
(المحلى لابن حزم ، مسئلہ نمبر : ۱۱۶)
📒بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس بات پر اجماع ہے کہ مُحْدِثِ حَدَثِ اکبر (یعنی جنبی اور حائضہ) کے لیے قرآن کریم کا چھونا جائز نہیں ہے ، اس لیے طاہر کے معنی، حدثِ اکبر سے پاک شخص، متعین ہیں اور یوں یہ حدیث اس مسئلے میں نص صریح کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن اجماع کا دعویٰ ہی صحیح نہیں ہے۔
کیونکہ امام بخاری، امام ابن جریر طبری، امام داؤد ظاہری، امام ابن حزم، امام ابن المنذر، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم وغیرہم جنبی اور حائضہ کو قرآن کریم پڑھنے کی اجاز ت دیتے ہیں،
جب یہ بات ہے تو پھر دعوائے اجماع کیوں کر صحیح ہے؟
📒البتہ صحابہ و تابعین کا اختلاف اس بارے ضرور موجود ہے،
حضرت سَلْمان فارسی وضو کے بغیر قرآن پڑھنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے تھے ۔ یہی مسلک حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد اللہ بن عمر کا بھی تھا ۔ اور حضرت حسن بصری اور ابراہیم نخعی بھی وضو کے بغیر قرآن پڑھنے کو جائز سمجھتے تھے
عطاع اور طاؤس اور شعبی اور قاسم بن محمد سے بھی یہی بات منقول ہے
( احکام القرآن للجصاص )
( المغنی لابن قدامہ )
📒قرآن کو ہاتھ لگا ئے بغیر اس میں دیکھ کر پڑھنا ، یا اس کو یاد سے پڑھنا ان سب کے نزدیک بے وضو بھی جائز تھا ،
جنابت اور حیض و نفاس کی حالت میں قرآن پڑھنا حضرت عمر ، حضرت علی ، حضرت حسن بصری ، حضرت ابراہیم نخعی اور امام زہری ( رضی اللہ عنہم ) کے نزدیک مکروہ تھا
اور حضرت ابن عباس رض کی رائے بھی یہ تھی اور اسی پر ان کا عمل بھی تھا کہ جنبی حالت میں قرآن پڑھ سکتے ہیں،جیسا کہ اوپر بھی پڑھا ہم نے،
اور حضرت سعید بن المسیب اور سعید بن جبیر سے اس مسئلے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ، کیا قرآن اس کے حافظہ میں محفوظ نہیں ہے؟ پھر اس کے پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ یعنی جب جنبی آدمی کے دل و دماغ میں قرآن محفوظ ہے تو پھر جنبی آدمی پڑھ کیوں نہیں سکتا؟
(تفصیل کے لیے دیکھیں ،
(المغنی ۔لابن قدامہ)
( المحلّٰی- لابن حزم، جلد اول )
یہاں واضح رہے کہ صحابہ کرام کا اختلاف بھی بہتر یا افضل عمل کے بارے ہے،کیونکہ انکا اختلاف یا کسی ایک کا قول بھی شریعت میں ردو بدل نہیں کر سکتا نا ہی اس عمل کا اضافہ کر سکتا ہے جس کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں دیا،لہذا اس اختلافی مسئلہ کو وحی الہی کی عدالت میں ہی پیش کیا جائے۔ اور وحی الہی یعنی قرآن وحدیث میں حائضہ یا جنبی کو ذکر اللہ یا تلاوت قرآن سے منع کی کوئی دلیل نہیں, بلکہ انکے لیے اللہ کا ذکر کرنے کا جواز موجود ہے خواہ وہ قرآن ہو یا غیر قرآن۔ پھر جو لوگ منع کرتے ہیں ان میں سے بھی اکثر ایک دو آیات کی تلاوت کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اور ہم کہتے ہیں کہ ایک دو آیات کی تلاوت بھی تو قرآن کی ہی تلاوت ہے۔ جس دلیل سے ایک آدھ آیت پڑھنا ثابت ہو جاتا ہے اس سے باقی قرآن پڑھنا بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور دوسری بات کہ ایک دو آیات پڑھنے کی اجازت بھی حقیقت میں زیادہ پڑھنے کی اجازت ہے کیونکہ جنبی وحائضہ ایک دو آیات پڑھ کر وقفہ کرکے پھر ایک دو آیات پڑھیں پھر ٹھہر کر ایک دو آیات پڑھیں اس سے مانعین بھی منع نہیں کرتے اور نہ کر سکتے ہیں۔ تو یہ ملا جلا کر بہت سا قرآن تلاوت ہو جاتا ہے،
_____&&_______
*جو لوگ بے وضو، جنبی اور حائضہ کو قرآن پڑھنے یا چھونے سے منع کرتے ہیں انکے دلائل کا جائزہ*
پہلی دلیل
📚نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
«لاَ تَقْرَأِ الحَائِضُ، وَلاَ الجُنُبُ شَيْئًا مِنَ القُرْآنِ» حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نا پڑھیں،
(جامع ترمذی، أبواب الطهارة عن رسول ﷺ، باب ماجاء فى الجنب والحائض أنهما لايقرآن القرآن: ۱۳۱)
حکم الحدیث-ضعیف
علامہ البانی نے منکر کہا ہے،
🚫تبصرہ
اس روایت کی سند کے بارے میں خود امام ترمذی نے یہ صراحت کی ہے: ’
’میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری رحمہ اللہ) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اسماعیل بن عیاش اہل حجاز اور اہل عراق سے منکر روایات بیان کرتا ہے، گویا انہوں نے اس کی ان روایتوں میں اسے ضعیف قرار دیا ہے جو اہل حجاز و اہل عراق سے متفرد طور پر بیان کرتا ہے اور (امام بخاری نے) فرمایا کہ اسماعیل بن عیاش کی صرف وہ روایات قابل قبول ہیں جو وہ اہل شام سے بیان کرتا ہے… الخ‘‘
اور زیر بحث روایت اسماعیل بن عیاش، موسیٰ بن عقبہ سے روایت کرتا ہے جو اہل حجاز میں سے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ اس حدیث کی حد تک ضعیف قرار پاتا ہے۔
📒 امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس حدیث کے بیان کرنے میں اسماعیل بن عیاش متفرد ہے اور اہل حجاز سے اس کی روایت ضعیف ہوتی ہے جس سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی،
امام احمد اور یحییٰ بن معین وغیرہ حفاظ محدثین کا یہی قول ہے اور یہ روایت اس کے علاوہ دوسرے راوی سے بھی مروی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔ ابن ابی حاتم کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا اور انہوں نے اسماعیل بن عیاش کی یہ حدیث ذکر کی اور کہا کہ اس نے غلطی کی ہے، یہ دراصل ابن عمر کا قول ہے۔‘‘
(تحفۃ الأحوذی: ۱؍۱۲۴)
📒اس روایت کو بعض حضرات نے اس کے کچھ متابعات کی بنیاد پر صحیح کہا ہے لیکن محدث عصر شیخ البانی رحمہ اللہ نے اُنہیں بھی غیر معتبر قرار دے کر اس روایت کو ضعیف ہی قرار دیا ہے
( إرواء الغلیل : ۱؍۲۰۶)
📒بلکہ تعلیقاتِ مشکاۃ میں امام احمد رحمہ اللہ کے حوالے سے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے باطل کہا ہے
( مشکاة المصابيح بتحقیق الالباني: ۱؍۱۳۴)
📒حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی امام طبری کے حوالے سے اس روایت کی بابت کہا:
"ضعیف من جمیع طرقه"
’’جتنے بھی طرق سے یہ روایت آتی ہے، سب ضعیف ہیں۔‘‘
(فتح الباري : ۱؍۵۳۰)
دوسری دلیل
📚 سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
کان النبی ﷺ یقضی حاجته ثم یخرج فیقرأ القرآن ویأکل معنا اللحم ولا یحجبه، وربما قال: لا یحجزه من القرآن شيء لیس الجنابة.
’’نبیﷺ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر نکلتے تو قرآن پڑھتے اور ہمارے ساتھ گوشت تناول فرماتے اور آپﷺ کے قرآن پڑھنے میں سوائے جنابت کے کوئی چیز رکاوٹ نہ بنتی تھی۔‘‘
( إرواء الغلیل : ۲؍۲۴۱، رقم الحدیث : ۴۸۵)
🚫تبصرہ
📒اس روایت کی بابت حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’اسے اصحاب السنن نے روایت کیا ہے اور ترمذی، ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے اور بعض نے اس کے بعض راویوں کی تضعیف کی ہے اور حق بات یہ ہے کہ یہ روایت حسن کے قبیل سے ہے جو حجت کے قابل ہوتی ہے۔‘‘
( فتح الباری : ۱؍۵۳۰۔ طبع دارالسلام، الریاض)
📒حافظ ابن حجر کی اس رائے کی وجہ سے اکثر علماء اس روایت سے استدلال کرتے ہیں، لیکن شیخ البانی رحمہ اللہ نے ابن حجر کی اس رائے کا رد کرتے ہوئے دیگر محدثین کی تائید سے اسکو ضعیف قرار دیا ہے۔
’’اس حدیث کے بارے میں حافظ کی اس رائے سے ہم موافقت نہیں کرتے، اس لیے کہ مشار الیہ (ضعیف) راوی عبدا للہ بن سلمہ ہے اور تقریب التہذیب میں خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کے ترجمے میں کہا ہے ’’سچا ہے لیکن اس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا۔‘‘ اور یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ یہ حدیث اس کے اسی دور کی ہے جب اس کے حافظے میں خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ پس بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ حافظ ابن حجر نے جس وقت اس حدیث پر حسن ہونے کا حکم لگایا تو اس کا ترجمہ ان کے ذہن میں مستحضر نہیں رہا، واللّٰہ اعلم۔
📒یہی وجہ ہے کہ امام نووی نے المجموع (۲؍۱۵۹) میں جب یہ حدیث نقل کی اور امام ترمذی کی تصحیح بھی ذکر کی تو انہوں نے امام ترمذی کی رائے پر تعقب کیا اور کہا: ’’امام ترمذی کے علاوہ دیگر حفاظ محققین نے کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔
پھر انہوں نے امام شافعی اور امام بیہقی کی وہ رائے نقل کی ہے جو امام منذری نے ’مختصر السنن‘ میں نقل کی ہے ،جس میں دونوں نے اسے ضعیف کہا ہے۔ ان محققین نے جو کہا ہے، وہی ہمارے نزدیک راجح ہے کیوں کہ اسے بیان کرنے میں عبد اللّٰہ بن سلمہ متفرد ہے اور اس کی یہ روایت اس وقت کی ہے جب اس کا حافظہ متغیر ہو گیا تھا۔‘‘
(إرواء الغلیل: ۲؍۲۴۲)
📒امام منذری رحمہ اللہ کی ایک عبارت کا ترجمہ حسبِ ذیل ہے،
’امام بخاری نے عمر و بن مرۃ کے حوالے سے کہا ہے کہ عبد اللّٰہ بن سلمہ ہمیں حدیث بیان کرتا ہے، کچھ کو ہم پہچانتے ہیں اور کچھ کو نہیں پہچانتے اور وہ سن رسیدہ ہو گیا تھا، اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی اور امام شافعی نے یہ حدیث ذکر کی اور فرمایا: اہل حدیث (محدثین) کے نزدیک یہ حدیث پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔
امام بیہقی نے کہا: امام شافعی نے اس حدیث کے ثبوت میں جو توقف کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا مدار عبد اللّٰہ بن سلمہ کوفی پر ہے اور یہ سن رسیدہ ہو گیا تھا اور اس کی حدیث اور عقل میں کچھ نکارت محسوس کی گئی اور اس نے یہ حدیث بھی سن رسیدگی کے بعد ہی بیان کی ہے۔‘‘
(مختصر السنن للمنذری : ۱؍۱۵۶)
تیسری دلیل
📚 تیسری حدیث جو اوپر والی حدیث کے متابعت کے طور پر پیش کی جاتی ہے اور اسے علمائے معاصرین میں سے بعض نے صحیح اور بعض نے حسن کہا ہے، اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
’’حضرت علی کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، پس آپ نے کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ اور دونوں بازو تین تین مرتبہ دھوئے، پھر اپنے سرکا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے، پھر فرمایا: میں نے رسول اللّٰہﷺ کو اسی طرح دیکھا ہے کہ آپﷺ نے وضو کیا۔ پھر قرآن کریم سے کچھ پڑھا اور فرمایا: یہ (قرآن کا پڑھنا) اس شخص کے لیے ہے جو جنبی نہیں ہے۔ رہا جنبی تو وہ ایک آیت بھی نہیں پڑھ سکتا۔‘‘
( مسند احمد- ج۱؍ص۱۱۰)
🚫تبصرہ
📒اس روایت کو بعض علماء نے صحیح قرار دیا ہے، جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا۔ لیکن شیخ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند میں ابو الغریب راوی ہے جس کی توثیق ابن حبان کے سوا کسی نے نہیں کی اور ابن حبان توثیق میں متساہل ہیں، اس لیے ان کی توثیق قابل اعتبار نہیں، بالخصوص جب کہ دیگر ائمہ کی رائے ان کے معارض ہو۔ ابوحاتم راوی نے اس کی بابت کہا ہے کہ کہ ابو الغریب مشہور نہیں۔ محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور یہ اصبغ بن نباتہ جیسے راویوں کا استاذ ہے اور اصبغ ابو حاتم کے نزدیک لین الحدیث اور دوسروں کے نزدیک متروک ہے، اس قسم کے راوی کی حدیث حسن بھی نہیں ہوتی چہ جائیکہ وہ صحیح تسلیم کی جائے۔ کی وجہ سے اس سے بھی اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ
ثانیاً:… اگر یہ روایت صحیح بھی ہو، تب بھی اس کا مرفوع ہونا صریح نہیں۔
ثالثاً:… اس کا مرفوع ہونا بھی اگر صریح ہو تو یہ شاذ یا منکر ہے، اس لیے کہ عائذ بن حبیب اگرچہ ثقہ ہے لیکن ابن عدی نے اس کی بابت کہا ہے کہ اس نے کئی منکر روایات بیان کی ہیں۔
شیخ البانی رحمہ اللہ مزید کہتے ہیں کہ
’’ یہ روایت بھی شاید انہی (منکر) روایات میں سے ہو، اس لیے کہ اس سے زیادہ ثقہ اور اس سے زیادہ حفظ و ضبط رکھنے والے راوی نے اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بیان کیا ہے
📒جو دارقطنی (رقم : ۴۴) میں ہے۔
یہ موقوف روایت حسب ذیل ہے۔
ابو الغریف ہمدانی کہتے ہیں:
’’ہم حضرت علی کے ساتھ تھے کہ آپ نے پیشاب یا پاخانہ کیا، پھرآپ نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور اپنے ہاتھ دھوئے، پھر قرآن کے آغاز سے کچھ حصہ پڑھا، پھر فرمایا: جب تک تم میں سے کسی کو جنابت نہ پہنچے تو قرآن پڑھے، پس اگر جنابت پہنچے تو ایک حرف بھی نہ پڑھے۔‘‘
امام دارقطنی فرماتے ہیں: ’’یہ روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے (موقوف) صحیح سند سے ثابت ہے۔‘‘
اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ حدیث مذکور «لَا یَحْجُبُهُ… الخ» کی متابع یہ روایت موقوف ہے، یعنی حضرت علی رض کا قول ہے۔ علاوہ ازیں امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے کہا کہ حدیث «لَا یَحْجُبُهُ… الخ» (اگر صحیح بھی ہو تو) اس شخص کی دلیل نہیں بن سکتی جو جنبی کو قرآن پڑھنے سے منع کرتا ہے،ا س لیے اس میں ممانعت کا حکم نہیں ہے بلکہ یہ صرف حکایتِ فعل ہے۔‘‘
(دیکھیں إرواء الغلیل : ۲؍۲۴۳۔۲۴۴)
چوتھی دلیل
📚چوتھی روایت جس سے استدلال کیا جاتا ہے، وہ ہے جس میں رسول اللّٰہﷺ نے گھروں کا رخ مسجد نبوی سے پھیرنے کا حکم دیا تاکہ لوگوں کا آنا جانا مسجد کے اندر سے نہ ہو بلکہ باہر سے ہو اور مسجد میں وہ صرف اسی وقت آئیں جب وہ پاک ہوں اور مسجد میں آنے کا مقصد نماز پڑھنا ہو۔ا س حکم کی وجہ آپ نے یہ بیان فرمائی
«فإني لا أحل المسجد لحائضٍ ولا جنبٍ»
’’میں مسجد کو حائضہ عورت اور جنبی کے لیے حلال نہیں کرتا۔‘‘ (یعنی مسجد کے اندر سے ان کے گزرنے کو جائز نہیں سمجھتا)
(سنن أبي داؤد، كتاب الطهارة، باب فى الجنب لايدخل المسجد : ۲۳۲)
🚫تبصرہ
اسکی سند میں جسرہ بنت دجاجہ لین الحدیث ہیں،
📒شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند پر بھی تفصیلی گفتگو کر کے اسے بھی ناقابل اعتبار قرار دیا ہے
( إرواء الغلیل : ۱؍۲۱۰، حدیث نمبر: ۱۹۳؛)
(مشکاة المصابيح بتحقیق الالباني: ۱؍۲۱۱)
📒علاوہ ازیں یہ روایت قرآن کے بھی خلاف ہے۔
قرآن مجید کی آیت
﴿وَلا جُنُبًا إِلّا عابِرى سَبيلٍ﴾
(النساء : 43)
سے جنبی کا مسجد سے گزرنا جائز معلوم ہوتا ہے۔
📒مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت کی کچھ توضیح کر دی جائے۔
مذکورہ آیت کی مختصر وضاحت
قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب مت جاؤ، یہاں تک کہ اپنی بات سمجھنے لگو اور جنابت کی حالت میں (بھی) یہاں تک کہ غسل کر لو مگر یہ کہ راہ چلتے گزرو۔‘‘ (اس صورت میں گزرنا جائز ہے۔)
آیت کا پہلا حکم اس وقت دیا گیا تھا جب شراب کی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ بعد میں جب شراب حرام کر دی گئی تو یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ دوسرا حکم جنبی آدمی (عورت ہو یا مرد) کے لیے ہے کہ وہ مسجد میں جنابت کی حالت میں نہ جائیں، ہاں مسجد میں سے صرف گزرنا ہو تو جائز ہے لیکن وہاں زیادہ دیر ٹھہرنا اور بیٹھنا ممنوع ہے۔ اس تفسیر کی رو سے صلاۃ (نماز) سے مراد موضع الصلاة (نماز پڑھنے کی جگہ) یعنی مسجد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نشے میں مدہوش شخص نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں جائے نہ جنبی آدمی، جب تک غسل نہ کر لے۔ الاّ یہ کہ مسجد اس کا راستہ ہو تو اس صورت میں وہ مسجد میں سے گزر سکتاہے۔
امام ابن جریر طبری وغیرہ نے اسی تفسیر کو راجح قرار دیا ہے اور اس تفسیر کی رو سے جنبی کے مسجد سے گزرنے کی اجازت نکلتی ہے۔ حافظ ابن کثیر نے بھی امام ابن جریر کی اس تفسیر کو نقل کر کے لکھا ہے:
"ومن هذه الآیة احتج کثیر من الائمة على أنه یحرم على الجنب اللبث فى المسجد ویجوز له المرور وکذا الحائض والنفساء أیضا فى معناه."
’’اس آیت سے اکثر ائمہ نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ جنبی کا مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے، البتہ اس کے لیے گزرنا جائز ہے اور حائضہ اور نفاس والی عورتیں بھی اسی حکم میں ہیں۔‘‘
دوسرے مفسرین نے
﴿وَلا جُنُبًا إِلّا عابِرى سَبيلٍ ﴾
سے مسافر مراد لیا ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جنبی آدمی بھی مسجد میں نہ آئے، ہاں اگر وہ مسافر ہو اور اسے پانی نہ ملے تو وہ تیمم کر کے نماز پڑھ لے۔
امام ابن جریر طبری وغیرہ مفسرین کے نزدیک پہلی تفسیر اس لیے زیادہ صحیح ہے کہ اس آیت میں اس کے بعد ہی مسافر کے لیے پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرنے کا حکم ہے۔ اگر ﴿إِلّا عابِرى سَبيلٍ﴾ سے مراد مسافر لیا جائے تو پھر تکرار لازم آئے گی، اس لیے ﴿إِلّا عابِرى سَبيلٍ﴾سے مراد صرف گزرنے والا، راستہ عبور کرنے والا ہے۔
اس طرح اس آیت سے جنبی آدمی کا مسجد سے گزرنے کا جوا زثابت ہوتا ہے۔
بنا بریں مذکورہ حدیث سنداً ضعیف ہونے کے علاوہ قرآن کے بھی خلاف ہے۔
پانچویں دلیل
📚 جس سے استدلال کیا جاتا ہے، نبیﷺ کا وہ فرمان ہے جو آپ نے حضرت عمرو بن حزم کے نام لکھا تھا، اس میں فرائض و سنن، دیات اور صدقات وغیرہ کی تفصیل تھی، اس میں ایک بات یہ بھی تھی:
«لا یمس القرآن إلا طاهر»
’’قرآن کو وہی چھوئے جو پاک ہو۔‘‘
(صحیح الجامع)
🚫تبصرہ
(اسکا جواب تفصیل سے اوپر ہم دے چکے ہیں کہ یہ روائیت بھی کمزور ہے بعض کے مطابق اگر اسکو صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی یہاں مراد مشرک ،کافر ہے کہ انکو قرآن مجید نہیں چھونا چاہیے مومن ہر حال میں قرآن کو چھو سکتا ہے،تفصیل اوپر ملاحظہ فرمائیں،
چھٹی دلیل
📚جس سے استدلال کیا جاتا ہے، قرآن کریم کی آیت
﴿لا يَمَسُّهُ إِلَّا المُطَهَّرونَ﴾
’’پاک لوگ ہی اسے چھوتے ہیں۔‘‘
(الواقعہ : ۷۹)
اسکی تفسیر بھی ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ یہ خبر ہے، حکم نہیں ہے۔ کیونکہ یہ نفی کا صیغہ ہے، نہی کا نہیں ۔ اگر یہ نھی کا صیغہ ہوتا تو لَا یَمَسَّهُ (بفتح السین) ہوتا، پھر اس کا ترجمہ حکم کا ہوتا یعنی
’’اسے پاک لوگ ہی چھوئیں‘‘
اس صورت میں اس سے عدم قراء ت اور عدم مس قرآن پر استدلال ہو سکتا تھا۔
لیکن جب ایسا نہیں ہے بلکہ اللّٰہ تعالیٰ اس میں یہ خبر دے رہا ہے کہ لوح محفوظ کو یا قرآن کریم کو صرف فرشتے ہی چھوتے ہیں، یعنی آسمانوں پر فرشتوں کے علاوہ کسی کی بھی اس قرآن یا لوح محفوظ تک رسائی نہیں ہے۔
اس اعتبار سے آیت کا تعلق مسئلہ زیر بحث سے کہ طاہر شخص کے سوا اسے کوئی چھو سکتا ہے یا نہیں؟ ہے ہی نہیں۔ علاوہ ازیں یہ سورت مکی ہے اور مکی سورتوں میں احکام و مسائل کا زیادہ بیان نہیں ہے۔ بلکہ ان میں توحید ورسالت اور آخرت کے اثبات پر زور دیا گیا ہے،
اس آئیت کی مکمل تفسیر بھی اوپر ہم بیان کر چکے ہیں،
📒محدث العصر شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا موقف پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مُحْدِثْ (بے وضو) جنبی اور حائضہ کے قرآن پڑھنے سے ممانعت کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔
( حاشیہ ’ریاض الصالحین‘ بہ تحقیق شیخ الالبانی، باب ۲۴۵، ص : ۴۹۵، طبع بیروت)
📒امام ابن حزم رحمہ اللہ نے اس مسئلے پر مفصل بحث کی ہے جس میں انہوں نے اس مسلک کی صحت کے دلائل دیے ہیں او ریہ بتایا ہے کہ فقہاء نے قرآن پڑھنے اور اس کو ہاتھ لگانے کے لیے جو شرائط بیان کی ہیں، ان میں سے کوئی بھی قرآن وسنت سے ثابت نہیں ہے۔‘‘
(المحلی جلد اول، صفحہ: ۷۷ تا ۸۴)
*لہٰذا ثابت ہوا کہ بے وضو، حائضہ یا جنبی کو قرآن پکڑنے یا قرآت سے منع کرنے والوں کے پاس کوئی ایک بھی صحیح دلیل موجود نہیں*
_________&____________
*اس سب کا خلاصہ یہ ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی بھی صحیح حدیث میں بے وضو، حائضہ یا جنبی کو زبانی قرآن پڑھنے یا ہاتھ میں پکڑ کر قرآن پڑھنے سے منع نہیں کیا گیا، بلکہ بہت ساری روایات سے اسکی اجازت ملتی ہے،*
*لہٰذا میں یہ کہتا ہوں کہ خواتین کو مخصوص ایام میں اور زیادہ قرآن پڑھنا چاہیے کیونکہ ان دنوں میں نماز،روزہ چھوڑنے کی وجہ سے انکی نیکیاں کم رہ جاتی ییں*
📚جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔ عورتوں نے عرض کی کہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے، عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر-304)
*لہذا خواتین کو چاہیے کہ اپنے دین کا نقص پورا کرنے کے لیے صدقہ و خیرات کے ساتھ ساتھ حیض و نفاس کے دنوں میں قرآن کی تلاوت اور ذکر و اذکار کثرت سے کیا کریں، تا کہ نماز روزہ چھوڑنے کی وجہ سے جو نیکیاں کم رہ گئیں قرآن کی تلاوت سے اس کمی کو پورا کیا جاسکے*
((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))
📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے "ADD" لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!
*الفرقان اسلامک میسج سروس*

Views: 51

Reply to This

Replies to This Discussion

jazak Allah khair

Jazak ALLAH

Chlein Atleast discuss krny sy ye msla to hl hwa ...

ALLAH apko iska ajar dy ameen..

important information

BarakalAllah guys ☺️

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service