Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.


***نیند کب میسر ہے جاگنا مقدر ہے ***

نور نور ذہنوں میں خوف کے اندھیرے ہیں 

روشنی کے پیڑوں پر رات کے بسیرے ہیں 

شہر شہر سناٹے یوں صدا کو گھیرے ہیں 

جس طرح جزیروں کے پانیوں میں ڈیرے ہیں 

نیند کب میسر ہے جاگنا مقدر ہے 

زلف زلف اندھیارے خم بہ خم سویرے ہیں 

دل اگر کلیسا ہے غم شبیہ عیسیٰ ہے 

پھول راہبہ بن کر روح نے بکھیرے ہیں 

عشق کیا وفا کیا ہے وقت کیا خدا کیا ہے 

ان لطیف خیموں کے سائے کیوں گھنیرے ہیں 

ذوق آگہی بھی دیکھ طوق بے کسی بھی دیکھ 

پاؤں میں ہیں زنجیریں ہاتھ میں پھریرے ہیں 

ہو بہ ہو وہی آواز ہو بہ ہو وہی انداز 

تجھ کو میں چھپاؤں کیا مجھ میں رنگ تیرے ہیں 

توڑ کر حد امکاں جائے گا کہاں عرفاں 

راہ میں ستاروں نے جال کیوں بکھیرے ہیں 

فہم لاکھ سلجھائے وہم لاکھ الجھائے 

حسن ہے حقائق کا کیا خیال میرے ہیں 

ہم تو ٹھہرے دیوانے بستیوں میں ویرانے 

اہل عقل کیوں خالدؔ پاگلوں کو گھیرے ہیں 

Views: 49

Reply to This

Replies to This Discussion

ہم تو ٹھہرے دیوانے بستیوں میں ویرانے 

اہل عقل کیوں خالدؔ پاگلوں کو گھیرے ہیں

khoob..!

Nawazish

Woh jinhain neend nahi aati unhi ki malum hai

Subah hony mein kitnay zamany lagtay hain

It depends k ap kab soty hn . Baki ghanty count kar ln :x

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service