Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.


تیرے حسین جسم کی پھولوں میں باس ہے گو وہم ہے یہ وہم قرین قیاس ہے وہ اشک جس پہ چاندنی‌ شب کا لباس ہے شاید کتاب غم کا کوئی اقتباس ہے میری طرح ہر اک کو ہے چاہت اسی کی پھر گزرے دنوں کے زہر میں کتنی مٹھاس ہے برسوں گزر گئے مگر اب تک نہیں بجھی کتنی عجیب ریت کے ساحل کی پیاس ہے میری صدا کھچ اس طرح آئی ہے لوٹ کر محسوس ہو رہا ہے کوئی آس پاس ہے بوندیں پڑیں تو اور زیادہ ہوئی تپش شاید اسی کا نام زمیں کی بھڑاس ہے اپنے گھروں میں خوش ہیں چراغوں کو لے کے لوگ کس کو خبر کہ رات کا چہرہ اداس ہے دھندلا سا زرد ماضی کا ہو جس طرح ورق کتنا حسین آپ کا رنگ لباس ہے کس وقت کیفؔ ٹوٹ کے گر جائے کیا خبر پلکوں پہ ایک حلقۂ زنجیر یاس ہے

Views: 15

Reply to This

Replies to This Discussion

Khoob..

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service