Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.


بھروسہ ہر کسی کا کھو چکے ہیں

سر بازار رسوا ہو چکے ہو چکے ہیں

غلامی کر رہے ہیں خواہشوں کی

دلوں کی حکمرانی کھو چکے ہیں

توقع ہے محبت کے ثمر کی

اگرچہ فصل نفرت بو چکے ہیں

نہ رکھ ان سے مدد کی آس کوئی

ضمیر ان سب کے مردہ ہو چکے ہیں

بھلا باہر سے کیسے صاف ہوں گے

یہ جب اندر سے میلے ہو چکے ہیں

صداقت بھائی چارہ پیار اخوت

یہ سب ماضی کے قصے ہو چکے ہیں

جہاں پر کفر حاوی ہو رہا ہے

یہ لگتا ہے مسلماں سو چکے ہیں

نجات اب تو ملے رنج و الم سے

دکھوں کا بوجھ کافی ڈھو چکے ہیں

جو موت آئے تو راحت ہو میسر

پریشاں زندگی سے ہو چکے ہیں

مگر وہ سنگ دل اب تک نہ پگھلا

کئی بار اس کے آگے رو چکے ہیں

نتیجے میں ہم اپنی غفلتوں کے

وقار اے شادؔ اپنا کھو چکے ہیں

Views: 28

Reply to This

Replies to This Discussion

جو موت آئے تو راحت ہو میسر

پریشاں زندگی سے ہو چکے ہیں

مگر وہ سنگ دل اب تک نہ پگھلا

کئی بار اس کے آگے رو چکے ہیں

zbrdst

Go away 

Ahmm ahmm man so too y public place he ase go away ni kh sakt how rude!! 

Great!!!

Bharosa status shayari for whatsapp - Urdu Quotes Club

RSS

Looking For Something? Search Below

VIP Member Badge & Others

How to Get This Badge at Your Profile DP

------------------------------------

Management: Admins ::: Moderators

Other Awards Badges List Moderators Group

Latest Activity

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service