Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے

اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے

اک نظر میری طرف بھی ترا جاتا کیا ہے

میری رسوائی میں وہ بھی ہیں برابر کے شریک

میرے قصے مرے یاروں کو سناتا کیا ہے

پاس رہ کر بھی نہ پہچان سکا تو مجھ کو

دور سے دیکھ کے اب ہاتھ ہلاتا کیا ہے

ذہن کے پردوں پہ منزل کے ہیولے نہ بنا

غور سے دیکھتا جا راہ میں آتا کیا ہے

زخم دل جرم نہیں توڑ بھی دے مہر سکوت

جو تجھے جانتے ہیں ان سے چھپاتا کیا ہے

سفر شوق میں کیوں کانپتے ہیں پاؤں ترے

آنکھ رکھتا ہے تو پھر آنکھ چراتا کیا ہے

عمر بھر اپنے گریباں سے الجھنے والے

تو مجھے میرے ہی سائے سے ڈراتا کیا ہے

چاندنی دیکھ کے چہرے کو چھپانے والے

دھوپ میں بیٹھ کے اب بال سکھاتا کیا ہے

مر گئے پیاس کے مارے تو اٹھا ابر کرم

بجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے

میں ترا کچھ بھی نہیں ہوں مگر اتنا تو بتا

دیکھ کر مجھ کو ترے ذہن میں آتا کیا ہے

تیرا احساس ذرا سا تری ہستی پایاب

تو سمندر کی طرح شور مچاتا کیا ہے

تجھ میں کس بل ہے تو دنیا کو بہا کر لے جا

چائے کی پیالی میں طوفان اٹھاتا کیا ہے

تیری آواز کا جادو نہ چلے گا ان پر

جاگنے والوں کو شہزادؔ جگاتا کیا ہے

Views: 56

Reply to This

Replies to This Discussion

Aamir woh aayn na aayn yeh baat dusri hai,

Tasweer kafi hai, tasawur kafi hai

Uski tasweer kho gai mujh sy!!

hayeeeee wohi tou gallery ki ronaq thi.

wah wah wah wah wah nice

niceee

awesome...

Ahm ahm khariat hai na:-P

hhhhhhhhhhhhhhh hn kheriyt hi h

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service