Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

ظلم کی سادہ سی تعریف یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر کوئی بھی شخص اپنے اختیار کا نا جائز استعمال کرتا ہے تواُس نے اپنے نفس پہ ظلم کیا ہے۔

 

 اب اگرکسی شخص کا ظلم صرف اسکی اپنی ذات کی حد تک ہے تو پھر اسکی جزاء و سزاہ کا وہ خود جانے اور اسکا ربّ جانے۔ ویسے اکثر گناہ گار معافی کی امید پہ ہی ساری زندگی گناہ کرتے ہیں۔ گناہ پہ بضد ہوتے ہوئے اللہ کی رحمتوں کی امید رکھنا اللہ کی رحمتوں کا نا جائز استعمال ہے۔ جانے ایسے لوگ معافی کے حق دار کیسے ہوں گے؟

 

اگر کسی کا ظلم اسکی اپنی ذات کے ساتھ معاشرے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے تو ایسا ظلم تو گناہِ کبیرہ ہوتا ہے۔ ایسے گناہ تو مکمل بربادی کر ڈالتے ہیں۔

 

اختیار کے استعمال کا حقِ تصرّف کیا ہے؟

کیا آپ اپنے اختیار کے استعمال سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ اس اختیار کےاستعمال کا آپ کو "حق" بھی ہے کہ نہیں؟ اور اس اختیار کی "حد" کیا ہے؟

 

صبح نماز کے لئے آپکو جگانے فرشتہ تو نہیں آئےگا۔ آپ کی مرضی ہے۔ اپنی خود داری اور محنت سے کمانا ہے یا ہاتھ پھیلانا ہے، دوسروں کو بُرا کہنا ہے اپنے گریبان میں نہیں جھانکنا۔ آپ کی مرضی ہے۔ آپ کے پاس آپکے جسم کو استعمال کرنے کا بھی حق ہے، آپکی مرضی کے حلال مقاصد کے لئے طا قتوں کا استعمال کریں یا حرام کےلئے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہی وسلم کا فرمان ہے کی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

 

 یہ تو من چلے کا سودہ ہے آپ کو آپکے بعض اختیارات کے استعمال سےکوئی نہیں روکے گا۔ ہاں اگر ہمیں اپنے اختیار کا حق تصرّف معلوم ہے تو ہم اپنی حد میں رہیں گے اور معاشرتی بگاڑ بھی پیداء نہیں ہو گا۔

 

ایک شخص پورےمعاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسا نہیں کہ اسکا ذاتی عمل معاشرے پہ اثر نہیں ڈالے گا۔ ایک حدیث کا مفہوم بھی ہے کہ جیسے عوام ہوتے ہیں ویسے حکمران ہوتے ہیں۔ ہر وہ شخص کرپٹ ہے جو اختیار کا نا جائز استعمال کرے۔ اگر کوئی عام شخص اپنے اختیار کے استعمال میں جائز و نا جائز کی پرواہ نہیں کرتا تو اُسکو کیا حق حاصل ہے کہ حکومت یا کسی صاحبِ اختیار ادارہ کو گالی دے؟

 

میں ایک فٹ پاتھ پہ چل رہا تھا ایک موٹر سائکل والا نوجوان موٹر وے کی سپیڈ سے فٹ پاتھ پہ موٹر سائکل چلا رہا تھا ، بس ٹکّر ہوتے ہوتے بچی۔ تو حضرت غصّہ سے آگ بگولہ ہو کربولے کی آپ اندھے ہو کہ موٹر سائیکل نظر نہیں آ رہا۔ میں نے بولا کہ آپکو فٹ پاتھ پہ اور وہ بھی اتنی رفتار سے موٹر سائیکل چلانے کا کس نے حق دیا ہے تو وہ بھائی صاحب گالم گلوچ تو کیا بلکہ ہاتھا پائی کے لئے تیار ہو گئے۔

 

آپ خود سوچیں کے نا حق ہوتے ہوئے اپنے آپ کو حق سمجھنے والے ایسے شخص کو اگر کسی طاقتور ادارے کا اختیار مل جائے تو ظاہر ہے کہ وہ جانے کتنی ہی زمین کو اپنے باپ کا مال سمجھ بیٹھے گا۔ مسئلہ تو صرف حقِ تصرّف کو سمجھنے کا ہے۔

 

ایسے شخص کو اگر کسی فٹ پاتھ پہ دوکان ڈالنے کا شوق ہو جائے تو کون اسکو روکے گا۔ کوئی روکے گا تو وہ اس بات پراپگینڈہ کرے گا کہ اسکی روزی روٹی چھینی جا رہی ہے۔ افسوس ایسے لوگوں کو یہ تک نہیں معلوم کے کسی غصب شدہ زمین پہ کمائی حلال نہیں ہو سکتی۔

 

ایسے ہی عام لوگوں کی تعداد جب ذیادہ سے ذیادہ ہوتی جائے تو ان ہی لوگوں سے معاشرہ بنتا ہے۔ یعنی ظلم کا نظام بنتا ہے۔ اسلام کا ایک ٹارگٹ یہ بھی ہے کہ ظلم کہیں ایک منظّم نظام کی شکل اختیار نہ کر جائے۔ لیکن ہمارے جیسے کمزور لوگوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات اور خواہشات کے لئےحق تصرّف کے قانون کو کبھی سمجھا ہی نہیں۔

 

جب اپنے اختیار کی حدود یا حقِ تصرّف کو عام افراد نا جان سکے، اس قانون پہ عمل نہیں کیا تو ہمارے جیسے ہی یہ لوگ ایک ایسے بے عمل عالمِ دین بن گئے جنہوں نے جہاں بھی ان کا دل چاہا، کسی کی اجاذت کے بغیر، زمین کی قیمت اداء کئے بغیرمسجدیں اور مدرسے بنا ڈالے۔ شرئعی اصول ہے کہ غصب شدہ زمین پہ نمازاداء کرنا جائز ہی نہیں ہے۔ لیکن ان ظالم علماء کواس ظلم سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر عبادت بے معرفت ہو تو اس کا اثر بھی خطرناک ہوتا ہے۔ پھر ایسی مسجدوں کے شاگرد خود کش حملہ آور نہیں بنے گے تو کیا مولانا طارق جمیل بنیں گے؟ ہمارہ ملک ایسی مسجدوں سے بھرا پڑا ہے۔ خاص طور پہ اسلام آباد کی ستّر فیصد مساجد  اور مدرسے یا تو پارک کے لئے مختص زمین غصب کر کے بنائےگئےہیں یا سرکاری رہائش پہ قبضہ کرکے یا پھر حکومت کی زمین ہڑپ کر کے بنائے گئے ہیں۔

 

کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد میں کراچی کمپنی مرکز میں ایک مسجد نے فٹ پاتھ کو اپنی جاگیر کا حصّہ بنا لیا۔ اور تو اور مسجد کے امام صاحب نے بھی وفاقی زمین پہ قبضہ کرکے اس پر اپنا ذاتی گھر بنا رکھا ہے۔ اس مسجد میں باتھ روم کے استعمال پہ کمائی بھی جاری ہے۔ اور تو اور کچھ مساجد میں دوکانیں بھی ڈالی گئیں ہیں۔ کیا ایسے علماء کو اللہ کے نام پہ کچھ بھی کر جانے کا حق حاصل ہوجاتا ہے؟ اور اگر کسی ادارے نے ایسی مسجدوں کو غصب شدہ جگہ ہونے کی وجہ سے اس کوشہید کرنے کی بات کر ڈالی تاکہ زمین پہ جس کا حق ہے اسے واپس کیا جائے تو ایسا کہنے والے پہ کفر کے فتوے لگا دیئے جائیں گے۔    

جب حق تصرّف سے نا آشنا افراد کسی طاقتور ادارے کے سربراہ بن جاتے ہیں تو سیکیورٹی کے نام پہ عوام کے حصّے کی سڑک اور زمین کو اپنے اختیار میں لے لینا تو سب سے عام بات ہے۔ کسی مائی کے لال میں جرّت ہے کہ ان کو روکے،  اگر کسی عدالت کے جج نے روکنے کی کوشش کی تو اسکی نوکری تو کیا زمیں بھی تنگ کی جا سکتی ہے، عام عوام میں سے کسی نے بات کی تو اُسکو فوری طورپہ غدّارِ وطن کی ڈگری عطاء کر دی جائے گی یا مزید کچھ افراد کو  لا پتہ نتائج بھی بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ کوئی حق تصرّف کے دائرے کی بات تو کر کے دیھکے۔

 

جب حق تصرّف نہ سمجھنے والے لوگ جج بن جائیں تو قانون میں تھوڑی سی گنجائش  کو  ایک حد سے ذیادہ استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اب کس کی جرّت ہے کہ ان کے ذاتی انصاف نما فیصلے کو چیلنج کر سکے۔ بیشک ملک کا نظام درہم برہم ہو جائے اور عالمی عدالت میں پاکستان کی بدنامی ہو۔ ایک عرصہ سے ہمارے ملک میں یہ ریاض چل رہا ہے کہ قبضہ مافیہ کی زمین کے ناجائز کو جائز کرنا پڑ جائے تو قانون کو اپنی مرضی سے کسی کے مفاد میں موڑ لینا غیر قانونی تھوڑا ہی ہے۔ بیشک ایسے محسوس ہوتا ہو کہ حکومت کے اندر ایک حکومت چلائی جا رہی ہے لیکن عدل کے نام پہ چوہدراہٹ کا اپنا ہی مزہ ہے، خاص طور پہ اگر وہ قانون نافظ کرنے کے نام پہ ہو۔

 

ایسے ہی افراد جب اسلام آباد میں شاہرائے جمہوریت پہ واقع سینٹ سیکریٹیرئیٹ آفس بلاک سی جیسے ریاستی ادارے کے فیصلہ ساز بن جاتے ہیں تو وہ عوام کی لئے قوانیں بنانے اور ان پہ عمل کی پالیسی مرتّب کرنے کے بجائے ان کے آفس کے سامنے سے گزرنے والے فٹ پاتھ کو لوہے کی گرل لگا کے عوام کے لئے بند کر دیتے ہیں، صرف اس لئے کہ جب ہمارے بابو صاحب سرکاری قیمتی گاڑی پہ اس آفس میں داخل ہو رہے ہوں تو کوئی غریب پیدل مارچ آدمی اس فٹ پاتھ سے گزرتے وقت ان کے چند قیمتی عوامی منٹ نہ ضائع کر دے۔

 

اپنے آپ کو بھی دعوت دے رہا ہوں اور آپ کو بھی۔۔۔ کیا آپ اپنے ذاتی اختیار کو خرچ کرنے یعنی اس کے حقِ تصرّف کی حدود و قیّود سے واقف ہیں؟

 

اگرآپ اپنے اختیار کی حدود کو پامال کرتے ہیں تو آپکو کوئی حق حاصل نہیں کہ نوازشریف، زرداری ، عمران خان یا ہماری ایسٹیبلشمنٹ کے کردار پہ بات کریں۔

پہلے منجی تھلّے ڈانگ تے پھیرو سرجی۔۔۔۔اسکے بعد ہی محبِ وطن بن کے طوفانی بحث مباحثے کیجئے گا۔

 

ایک بزرگ ہستی نے کیا کمال کا فرمایا ہے۔۔۔۔

پہلے حق کو پہچانو، جب حق کو پہچان جاو گے تب ہی تمہں اہلِ حق کی پہچان ہوگی۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ و آل وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے کہ مسلمان مسلمان کے لئے آئینے کی طرح ہے۔ اگر شیشے میں اپنا چہرہ بھیانک نظر آتا ہے تو اپنی جہالتوں پر بھی توذرہ نظرِ کرم کیجئےجناب۔

 اپنے حکمرانوں کے سیلکٹیڈ ہونے پہ حیرت کی بات نہیں کیونکہ آپ بھی تو اپنے پیاروں کی نوکری کے لئے رشوت بھی کھلاتے ہو اور سفارشیں بھی کرتے ہو۔ اگر کسی ظالم طاقتور دشمن سے آپ کا واسطہ پڑ جائے تو اپنے گریبان میں بھی جھانک لیجیئے گا۔ ممکن ہے آپ کے ہی ظلم کا سایہ ہو جوآپ پہ پڑ رھا ہے۔

 

مولا علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے۔۔۔{مفہوم}

اختیار، دولت اور طاقت کے ملنے سے لوگ بدلتے نہیں، بے نقاب ہو جاتے ہیں۔

 

ویسے اگلی باری کس کو ووٹ دیں گے آپ؟ میرا مشورہ ہے کہ پہلے اپنے آپ کو ووٹ دینے کا قابل بنائیں یعنی اہلِ حق کو پہچانیں۔ تاکہ اگلی بار کسی نئے تجربے کی بنیاد پہ کوئی نیاء ظالم پیداء نہ کر ڈالیں۔ کم از کم ظالموں کی تعداد تو کم رہنے دیں اتنا تو کر ہی سکتے ہیں۔

 

ویسے یہ بھی کہتا چلوں کے اختیارات میں خطرناک ترین اختیار "دولت" کا ہے۔  جتنی کسی شخص یا ادارے کے پاس دولت ہو گی اور وہ اس کا نا جائز استعمال کرے گا،  اتنا ہی ذیادہ اپنی دنیا اور آخرت کی بربادی کے لئے تیار رہے۔

 احادیث کے مفہوم کےمطابق جوبھی اس دنیاء کا امیر ہے، اگردولت کے اختیار کا غلط استعمال کیا تو وہ آخرت میں غریب ترین ہو گا اور دولت کے حقِ تصرّف کے استعمال میں جانے کتنے نوری سال عذاب اور انتظار کرتا رہے گا۔ نوری سال عام دنیا کے ہزاروں سالوں کے برابر ہوتے ہیں۔ اگر کسی صاحب اختیار کا جسم ایسا عذاب سہہ سکتا ہے تو جیسے چاہو اپنا حقِ تصرّف استعمال کرتے رہو۔ حساب تو دینا ہی ہوگا، آج نہیں تو کل۔

عجیب اتفاق ہے کہ عوامی یا معاشرتی سطح پہ شر اور فساد پھیلانے والے اکثر لوگ دولت مند ہوتے ہیں۔ اور اُن کے پیسے کا حق تصرّف حق ہے یا ناحق ہے اس کا حقیقی فیصلہ کمائی کے حلال یا حرام ہونے سے ہے۔ جن افراد یا اداروں سے اس دنیا میں پیسے کے استعمال کا حساب نہیں لیا جا سکتا تو ایسے افراد اپنی جنت اور خاص طور پہ جہنم کی تیاری رکھیں۔

"We are the Khalifa of Allah about the Money" - Al-Quran

Check out this precious message on the Power of Money:

https://twitter.com/i/status/1385602354704232452

Views: 146

Reply to This

Replies to This Discussion

JAZAK ALLAH! ap ny itni achi post ki..or bilkul thk kaha k hmy koi haq nhi h kisi ko ghlt kehny ka agr hm khud ghlt hein to...agr hm kisi ko sudharna chahty hein to sb sy phly khud sudhrna ho ga..Hazart Muhammad (S.A.W) ny b sb sy phly sb khud kam kiy phr dosron ko talkeen ki...is liy kisi ko ghlt kehny sy phly apny greban m jhankna chyie..Power k istmal or hr amal k bary m pushy ga ALLAH qayamat m... (POWER IS NEITHER GOOD NOR EVIL, BUT ITS USER MAKES IT SO)

ALLAH hm sb ko seedhy raasty py chlay or hr qism ki burai sy mehfoz rkhy ameen 

Ameen....Jazak Allah!

Beautifull Post.. Thanks Buried Emmo

Thanks a lot dear for the appreciation:)

very nice post.  Allah hidayat de hm sb ko aameen 

Salam to All

Hamaisha ki Tarah bht hi achi sharing ☺️

Allah hum sbko hidayat dy or dosro k liye asaania paida krny waly banaye ameeen☹️

MASHA ALLAH nice sharing and informative... Stay blessed. 

nice thinking

RSS

Looking For Something? Search Below

Latest Activity

VIP Member Badge & Others

How to Get This Badge at Your Profile DP

------------------------------------

Management: Admins ::: Moderators

Other Awards Badges List Moderators Group

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service