Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

پت جھڑ میں بہاروں کی فضا ڈُھونڈ رہا ھے
پاگل ہے جو دُنیا میں وَفا ڈُھونڈ رہا ھے

خُود اپنے ہی ہاتھوں سے وہ گھر اپنا جلا کر
اَب سر کو چُھپانے کی جگہ ڈُھونڈ رہا ھے

کل رات کو یہ شخص ضیا بانٹ رہا تھا
کیوں دِن کے اُجالے میں دِیا ڈُھونڈ رہا ھے

شاید کے ابھی اُس پہ زوال آیا ہوا ھے
جُگنُو جو اندھیرے میں ضیا ڈُھونڈ رہا ھے

کہتے ہیں کہ ہر جاہ پہ موجُود خُدا ھے
یہ سُن کے وہ پتَّھر میں خُدا ڈُھونڈ رہا ھے

اُسکو تو کبھی مُجھ سے محبت ہی نہیں تھی
کیوں آج وہ پھر میرا پتا ڈُھونڈ رہا ھے

کِس شہرِ مُنافِق میں یہ تُم آ گۓ ساغر
اِک دُوجے کی ہر شخص خطا ڈُھونڈ رہا ھے

Views: 28

Reply to This

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service