Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

ہم اہل وفا حسن کو رسوا نہیں کرتے
پردہ بھی اٹھے رخ سے تو دیکھا نہیں کرتے

دل اپنا تصور سے ہی کر لیتے ہیں روشن
موسیٰ‌کی طرح طور پہ جایا نہیں کرتے

رکھتے ہیں جو اوروں کےلئے پیار کا جذبہ
وہ لوگ کبھی ٹوٹ‌کے بکھرا نہیں‌کرتے

مغرور ہمیں کہتی ہے تو کہتی رہے دنیا
ہم مڑ کے کسی شخص کو دیکھا نہیں کرتے

ہم لوگ تو مے نوش ہیں بدنام ہیں ساغر
پاکیزہ ہیں جو لوگ، وہ کیا کیا نہیں کرتے

Views: 23

Reply to This

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service