Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

درد اتنا کہ پہاڑوں کو بھی تلپٹ کر دے - اور انا ایسی کہ ہم رو بھی نہیں سکتے ہیں

کیا اثاثہ ہے جسے کھو بھی نہیں سکتے ہیں
ہم ترے ہو کے ترے ہو بھی نہیں سکتے ہیں
----
سب کی نظریں مرے دامن پہ جمی رہتی ہیں
داغ دل کش ہے بہت دھو بھی نہیں سکتے ہیں
----
درد اتنا کہ پہاڑوں کو بھی تلپٹ کر دے
اور انا ایسی کہ ہم رو بھی نہیں سکتے ہیں
----
ٹوٹ جاتے ہیں جہاں جاگتا ہوں، خواب مرے
یعنی اب طے ہؤا ہم سو بھی نہیں سکتے ہیں
----
ایسا خود رو ہے شجر توبہ محبت ابرک
اس کو من چاہی جگہ بو بھی نہیں سکتے ہیں
.
.
.
۔۔۔۔۔۔۔۔ اتباف ابرک

Views: 16

Reply to This

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service