Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

چلو پھر لوٹ جائیں ہم
جہاں پر کچھ نہیں بدلا
نہ ماہ و سال بدلے ہیں
نہ ماضی حال بدلے ہیں
وہاں ہم لوٹ جائیں پھر
جہاں معلوم ہو ہم کو
نہیں کچھ اور ہے بدلا
فقط ہم تم ہی بدلے ہیں
وہی مٹی ، وہی خوشبو
وہی سوندھی فضائیں ہیں
وہی گلزار منظر ہیں
وہی من چاہی راہیں ہیں
وہی بچپن ، وہی بوڑھے
وہی سب ہیں جواں قصّے
مگر اب میں نہیں ہوں وہ
مگر اب تم نہیں ہو وہ
وہی بادل وہی بارش
وہی کشتی ہے کاغذ کی
وہی دھوپیں، وہی سائے
وہی دن رات من بھائے
وہی رونق، وہی خوشیاں
وہی جینے کی چاہت ہے
مگر بے کار ہے سب کچھ
کہ اب ہم تم نہیں ہیں وہ
سبھی کچھ پھر خیالوں میں
یہاں کیوں جی رہا ہوں میں
جو گھاؤ بھر چکا کب کا
یونہی پھر سی رہا ہوں میں
سبھی کچھ وہ پرانا ہے
سبھی کچھ پھر سہانا ہے
اگر کچھ ہے نیا تو بس
یہاں پر اب نہیں ہم تم
گیا وہ لوٹ آئے پھر
یہاں ایسا نہیں ہوتا
یہ رستہ ایک طرفہ ہے
کوئی واپس نہیں ہوتا
مگر کب کوئی سمجھا ہے
مگر کب کوئی مانا ہے
سبھی مڑ مڑ کے تکتے ہیں
گئے وقتوں پہ مرتے ہیں
چلو پھر لوٹ جائیں ہم
جہاں پر کچھ نہیں بدلا
نہ ماہ و سال بدلے ہیں
نہ ماضی حال بدلے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک

Views: 56

Reply to This

Replies to This Discussion

toooba yarrrrrr chat kaha hai ?

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service