Views: 11219

Reply to This

Replies to This Discussion

خوشحال خان خٹک کے نام

فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر مَلکوتی
خاکی ہُوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند

درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی
گھر میرا نہ دِلّی، نہ صفاہاں، نہ سمرقند

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے اَبلہِ مسجد ہُوں، نہ تہذیب کا فرزند

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہَلاہِل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

فِردوس میں رومیؔ سے یہ کہتا تھا سنائیؔ
مشرق میں ابھی تک ہے وہی کاسہ، وہی آش
حلّاج کی لیکن یہ روایت ہے کہ آخر
اک مرد قلندر نے کِیا رازِ خودی فاش!

قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام!

زندہ قُوّت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی
آج کیا ہے، فقط اک مسئلۂ عِلم کلام
روشن اس ضَو سے اگر ظُلمتِ کردار نہ ہو
خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام
مَیں نے اے میرِ سِپہ! تیری سِپہ دیکھی ہے
’قُلْ ھُوَ اللہ، کی شمشیر سے خالی ہیں نیام
آہ! اس راز سے واقف ہے نہ مُلّا، نہ فقیہ
وحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خام
قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام!

قلب میں سوز نہیں، رُوح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمّدؐ کا تمھیں پاس نہیں
جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا، تو غریب
زحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا، تو غریب

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کِیا تُو نے
وہ کیا گردُوں تھا تُو جس کا ہے اک ٹُوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبّت میں
کُچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا

کافرِ ہندی ہُوں مَیں، دیکھ مرا ذوق و شوق
دل میں صلٰوۃ و دُرود، لب پہ صلوٰۃ و دُرود
شوق مری لَے میں ہے، شوق مری نَے میں ہے
نغمۂ ’اللہ‌ھوٗ‘ میرے رَگ و پَے میں ہے

گانا جو ہے شب کو تو سحَر کو ہے تلاوت
اس رمز کے اب تک نہ کھُلے ہم پہ معانی
لیکن یہ سُنا اپنے مُریدوں سے ہے مَیں نے
بے داغ ہے مانندِ سحرَ اس کی جوانی
مجموعۂ اضداد ہے، اقبالؔ نہیں ہے
دل دفترِ حکمت ہے، طبیعت خفَقانی
رِندی سے بھی آگاہ، شریعت سے بھی واقف
پُوچھو جو تصوّف کی تو منصور کا ثانی
اس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھُلتی
ہو گا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی

 

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حجاب

عالمِ آب و خاک میں تیرے حضور کا فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب

شوکت سنجر و تیرے جلال کی نمود
فقر و جنید بایزید تیرا جمال بے نقاب

شوق تیرا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب

تیری نگاہِ ناز سے دونوں مراد پاگئے
عقل و غیاب و جستجو عشق حضور و اضطراب

 

متاعِ بےبہا ہے درد و سوزِ آرزومندی

مقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیا

یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی

حجاب اِکسیر ہے آوارۂ کوئے محبّت کو

مِری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی

گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں

کہ شاہیں کے لیے ذلّت ہے کارِ آشیاں‌بندی

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی

نہ اُٹھّا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ‌زاروں سے
وہی آب و گِلِ ایراں، وہی تبریز ہے ساقی
  نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
  ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی
  فقیرِ راہ کو بخشے گئے اسرارِ سُلطانی
  بَہا میری نوا کی دولتِ پرویز ہے ساقی

وہی دیرینہ بیماری، وہی نا محکمی دل کی
علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی

حرم کے دل میں سوزِ آرزو پیدا نہیں ہوتا
کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

رمضان المبارک کی آج طاق رات ہے  

شاید شب قدر ہو 

عبادت کا لطف ہی اور ہے 

بندگی بڑے راز کی چیز ہے۔ 

ہم باس کے بندے بن جاتے ہیں ، مالک کے نہیں۔ 

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service