Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

چلو کچھ دیر ہنستے ہیں
محبت پر، عنایت پر
کہ بے بنیاد ہیں باتیں
سبھی رشتے ، سبھی ناتے
ضرورت کی ہیں ایجادیں
کہیں کوئی نہیں مرتا
کسی کی واسطے جاناں
کہ سب ہے پھیر لفظوں کا
ہے سارا کھیل حرفوں کا
نہ ہے محبوب کوئی بھی
سبھی جملے سے کستے ہیں
چلو کچھ دیر ہنستے ہیں
جسے ہم زیست کہتے ہیں
کہ لینا سانس بن جس کے
ہمیں ایک جرم لگتا تھا
کہ سنگ جس کے ہر اک لمحہ
خوش و خرم سا لگتا تھا
جسے ہم زندگی کہتے
جسے ہم شاعری کہتے
غزل کا قافیہ تھا جو
نظم کا جو عنوان تھا
وہ لہجہ جب بدلتا تھا
قیامت خیز لگتا تھا
وقت سے آگے چلتا تھا
بلا کا تیز لگتا تھا
جو سایہ بن کے رہتا تھ
جدا اب اس کے رستے ہیں
چلو کچھ دیر ہنستے ہیں

Views: 445

Reply to This

Replies to This Discussion

کہاں وفا ملتی ھے مٹی کے ان حسین انسانوں سے
یہ لوگ بغیر مطلب کے خدا کو بھی یاد نہیں کرتے.

 

Woww poetry....really classic0 miss

wah wah nice poetry 

thanks

Photo

Photo

Hmmmmmm 

Nice Poetry 

Liked by me 

Good Work 

thanks all

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service