اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
کیوں نا اے دوست پہلے ہی جدا ہو جائیں

تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر
ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہوجائیں

تو بھی یکتا تھا بے شمار ہوا
ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں

بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فراز
کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں

Views: 100

Reply to This

Replies to This Discussion

bohot khoob

Thankssss .. ^_^)!

یہ تمنا نہیں کہ مر جائیں

زندہ رہنے مگر کدھر جائیں

ایسی دہشت کہ اپنے سایوں کو

لوگ دشمن سمجھ کے ڈر جائیں

وہ جو پوچھے تو دل کو ڈھارس ہو

وہ جو دیکھے تو زخم بھر جائیں

بچ کے دنیا سے گھر چلے آئے

گھر سے بچنے مگر کدھر جائیں

اک خواہش ہے جسم سے میرے

جلد سے جلد بال و پر جائیں

اب کے لمبا بہت سفر ان کا

ان پرندوں کے پر کتر جائیں

سوچتے ہی رہیں گے ہم شاید

وہ بلائیں تو ان کے گھر جائیں

Hahaha

Ary wah .. ^_^)!

وہ بلائیں تو ان کے گھر جائیں

:x

Hahahahahahahaha .. 

kis ny bulana hy meko btayen men keh deti hon ..  ;p

ala

Ahaan .. ^_^)!

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service