We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>


Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

مجھے گولی لگ گئی ہے...!!!
وہ درد کی شدت کو برداشت کرتے ہوئے بمشکل بولا.
او شِٹ, میں نے میگزین میں موجود چند راؤنڈ فائر کر کے اس کی طرف دیکھا, وہ اپنا بائیاں کاندھا دبائے ہوئے بیٹھا تھا, خوں اس کی انگلیوں کی درزوں سے ابل کر باہر آ رہا تھا.
ہاتھ ہٹاؤ.... میں شولڈر بیگ کندھے سے اتارتے ہوئے کہا.
لالا آپ مورچے پر رہو, ایسا نا ہو وہ اوپر چڑھ آئیں... وہ دانت بھینچ کر کراہتے ہوئے بمشکل بولا,
نہیں چڑھتے... میں نے فرسٹ ایڈ کِٹ بیگ سے نکالتے ہوئے جواب دیا.
میں نے نرمی سے اس کے ہاتھ زخم سے ہٹائے, اور لرز کر رہ گیا, گولی نے ہنسلی کی ہڈی بری طرح توڑ ڈالی تھی, اسے فرسٹ ایڈ کی نہیں آپریشن تھیٹر کی ضرورت تھی.
خیر اے, زخم زیادہ نہیں ہے... میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا, اور قینچی کے ساتھ اس کی شرٹ کاٹنے لگا, فائرنگ اچانک تیز ہو گئی تھی, گولیاں ان پتھروں سے ٹکرا رہی تھیں, جو ہم نے مورچے کے لیئے چُن رکھے تھے, زخم میری توقع سے زیاد خراب تھا, خون روکنا بہت ضروری تھا, جو بھل بھل بہہ رہا تھا.
کِٹ میں ہر قسم کا سامان موجود تھا, مگر ایسا کچھ بھی نہیں تھا جو اسے چاہیئے تھا, میں نے اینٹی بائیوٹک لوشن اچھی طرح زخم پر چھڑکا, ڈھیر سی کاٹن جمائی, اور پٹی لپیٹنے لگا.
راځی.... بہت قریب سے آواز آئی,
میں نے خون سے سَنے ہاتھوں کے ساتھ جیکٹ کی پاکٹ سے میگزین نکالا, سرعت کے ساتھ میگزین بدلا, اور جست لگا کر مورچے کی دیوار پر پہنچا, ایک شخص چند قدم کے فاصلے پر موجود تھا, میں نے اسے باڑھ پر رکھ لیا, وہ بری طرح چیختا ہوا نیچے گرا اور ڈھلان پر لڑھکتا ہوا اندھیرے میں غائب ہو گیا.
ایک بار پھر بہت سی گنیں گرجنے لگیں.
میں ناصر کے پاس بیٹھ گیا, پٹی سرخ ہو چکی تھی, یعنی خون کا اخراج اب بھی جاری تھا.
ناصر ایک بیس سالہ نوجوان تھا, بھوری آنکھیں, شہد رنگ بال, گوری رنگت اور دلنشین نین نقش,وہ بلا کا حاضر دماغ اور خوش اخلاق نوجوان تھا, وہ اٹک کے قریب ایک گاؤں کا رہنے والا تھا, اور دو ماہ قبل پاس آؤٹ ہوا تھا, اس کی پہلی پوسٹنگ ہی سوات میں ہوئی تھی, وہ سوات جو ان دِنوں میدانِ جنگ تھا, لالا آپ کو میرے گاؤں کا پتہ ہے؟... وہ بولا
آھو, تم نے بتایا تو تھا... میں نے بیگ سے مزید کاٹن اور پٹی نکالتے ہوئے کہا
لالا تم میرے گاؤں جانا
آھو تمہارے ساتھ ہی چلوں گا... میں نے کہا.
میں شائد نا جا سکوں... اس کی آواز بہت مدہم تھی.
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا, وہ نڈھال ہو رہا تھا, میں نے خطرے کی پرواہ کیئے بغیر ٹارچ جلا کر اس کا چہرہ دیکھا, وہ پیلا ہو رہا تھا, دھان پان سے لڑکے میں خون تھا ہی کتنا.
فائرنگ تھم گئی تھی, اکا دکا فائر ہو رہے تھے, شائد وہ اپنے ساتھی کی موت کے بعد کوئی نئی حکمتِ عملی بنا رہے تھے.
میں نے جلدی سے انجیکشن نکالا, سرنج میں بھرا اور ناصر کے بازو میں لگا دیا,
لالا وہ بھاگ گئے ہیں؟
آھو وہ حرام کے جنے بھاگ گئے ہیں, تو فکر نا کر ابھی کمک آ جائے گی, فیر ہم بیس کیمپ چلے جائیں گے, تو ٹھیک ہو جائے گا... میں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا.
لالا تم میرے گاؤں ضرور جانا... وہ میری بات شائد سن ہی نہیں رہا تھا.
وہاں میری اماں ہے, اسے نظر نہیں آتا, پر وہ مجھے دور سے آتا دیکھ لیتی ہے, پتہ نہیں کیسے... وہ کمزور سی آواز میں ہنسا.
مجھے آہٹ سنائی دی میں پھُرتی سے مورچے کی دیوار کے پاس پہنچا, کوئی نہیں تھا.... مگر چھٹی حِس کہہ رہی تھی کہ کوئی ہے,
لالا جاؤ گے نا... ناصر نیم غشی کی کیفیت میں بول رہا تھا.
اچانک مجھے ڈھلان پر موجود ایک درخت کے ساتھ سیاہ سی چیز ہلتی نظر آئی, وہ سر پر بندھی بڑی سے سیاہ پگڑی تھی, میں نے پورے سکون کے ساتھ نشانہ لیا اور فائر کر دیا, ایک کریہہ اوہ کی آواز بلند ہوئی اور کوئی چیز دھب سے زمین پر گری, ساتھ ہی ایک بار پھر فائرنگ شروع ہو گئی.
لالا اماں بلکل اکیلی ہوتی ہے, بابا چار سال پہلے فوت ہو گئے, ہماری ساری بکریاں وباء کا شکار ہو کر مر گئیں, مجھے فوجی بننے کا بہت شوق تھا... وہ ہانپنے لگا, وہ مر رہا تھا مگر میں اس خوبصورت جوان کے لیئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا.
اماں کہتی تھی فوجیوں کی مائیں بھی بہادر ہوتی ہیں.... وہ ایک بار پھر ہمت جمع کر کے بولا
اتنی بہادر کہ ساری زندگی کی کمائی وطن کے نام لگا دیتی ہیں....
بس اب چپ کر جا... میں نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا, جو اب سرد ہو رہا تھا.
لالا تم میرے گاؤں جانا, سب سے پہلے جانا
اس سے بھی پہلے کہ جب لوگ مجھے گاؤں لے کر جائیں... تم ان سے پہلے جانا.... سب سے پہلے... اس کے جملے بے ربط ہو رہے تھے.
ناصر.... میں نے اس کے دائیں کاندھے کو جھنجھوڑا.
اللہ کا واسطہ لالا.... میری... میری بات سن لو,,, اس کی آواز میں ایسا کرب تھا کہ میں تڑپ کر رہ گیا.
ہاں ہاں بول جانی, میں سن رہا... بول شہزادے
میں نے اس کا برفاب ماتھا چوما
لالا تم سب سے پہلے میرے گاؤں, میری اماں کے پاس جانا.... اور کچھ نا کرنا, بس میری ماں کے کانوں میں آہستہ سے کہنا کہ تیرا ناصر مارا گیا.... بس
وہ بری طرح ہانپنے لگا, سانس اٹکنے لگی
کیوں شہزادے... ایسا کیوں؟ میں نے اس کا برف ہوتا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر گرم کرنا چاہا.
لالا جب تم اسے بتاؤ گے نا, تو دیکھ لینا وہ اسی لمحے مر جائے گی, وہ مجھ سے پیار ہی اتنا کرتی ہے,
لالا میں چاہتا وہ مجھے مرا دیکھنے سے پہلے مر جائے, تم.... تم.... تم سب سے...سب سے پہلے گاؤں جانا لالا.............. 

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.

..How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?..


See Your Saved Posts Timeline

Views: 12

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

Reply to This

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service