Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

Pakistani Company :"aXact" Degree & Bol Network......امریکی اخبار نے پاکستانی کمپنی ’ایگزیکٹ‘ کا بھانڈا پھوڑ دیا

اس بات کا قوی امکان ہے کہ جعلی ڈگریوں کی فروخت سے حاصل ہونے والا سرمایہ بول میڈیا گروپ میں استعمال ہوگا۔ فوٹو؛فائل

نیویارک: امریکی اخبار نیویارک ٹائمزنے ’’ایگزیکٹ‘‘ نامی پاکستانی سافٹ ویئرکمپنی کابھانڈا پھوڑدیا جومبینہ طورپر جعلی آن لائن ڈپلومے اور ڈگریوں کی پیشکش کرکے سالانہ اربوں روپے کمارہی ہے۔

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/q74.jpg

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/newyork-times.jpg

ایکسپریس نیوزکے مطابق امریکا کے سب سے بڑے اخبار نیویارک ٹائمزنے کراچی میں قائم ادارے ایگزیکٹ (AXACT) کے متعلق رپورٹ شائع کی ہے جس میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ سافٹ ویئربرآمد کرنے والی پاکستان کی سب سے بڑی کمپنی ہونے کی دعویدار ایگزیکٹ کااصل کاروبار دنیابھر میں جعلی ڈگریاں فروخت کرناہے اوراس مقصد کے لیے ایگزیکٹ کمپنی نے جعلی درس گاہوں کی سیکڑوں ویب سائٹس بنارکھی ہیں جہاں درجنوں شعبوں میں مختلف ڈگریاں آن لائن حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جب آپ ان ویب سائٹس پرجاتے ہیں تووہاں آپ کو مختلف پروفیسرحضرات خوش آمدید کہتے نظر آئیں گے۔

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/q124.jpg

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/ax.jpg

نیویارک ٹائمزکا ایگزیکٹ ہیڈکوارٹرز میں کام کرنے والے سابق ملازمین کے حوالے سے کہناہے کہ کمپنی میں 24گھنٹے سیلزایجنٹ کام کرتے ہیں اورصارفین کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہیں اورنہ صرف جعلی ڈگری کے حصول کے خواہش مندافراد کو تسلی بخش جواب دیاجاتا ہے بلکہ ایسے افرادجو حقیقی معنوں میں تعلیم کے لیے داخلے کے خواہش مندہوتے ہیں انھیں کسی نہ کسی کورس میں داخل کرادیا جاتاہے جوکبھی مکمل نہیں ہوتا۔ ایگزیکٹ کی سیلزٹیم ہائی اسکول ڈپلوماسے ڈاکٹریٹ ڈگری تک فروخت کرتی ہے اوراس کے لیے صارفین کو 350ڈالر سے 4 ہزار ڈالرتک اداکرنا پڑتے ہیں۔

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/q223.jpg

نیویارک ٹائمزکے مطابق یہ سیلزایجنٹ انگریزی لب ولہجے کے ذریعے جعلی امریکی سرکاری عہدیدار بن جاتے ہیں تاکہ صارفین کومہنگے سرٹیفکیٹس خریدنے پرراغب کیاجا سکے۔ انھیں عربی پربھی دسترس حاصل ہوتی ہے۔ نیویارک ٹائمزنے سابقہ ملازمین کے متعلق بتایاکہ اس دھوکادہی کے ذریعے کمپنی ماہانہ لاکھوں ڈالرمنافع کمارہی ہے اوریہ تمام پیسہ سمندرپار قائم مختلف کمپنیوں کے ذریعے پھرپاکستان آتاہے اوریہاں ناکافی اور غیرموثر انٹرنیٹ قوانین اورکمپنی کی جارحانہ قانونی پالیسی اسے خوب تقویت پہنچارہی ہے۔ اس کمپنی نے امریکامیں بھی اپنے دفاتربنا رکھے ہیں۔

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/q319.jpg

نیویارک ٹائمزکے مطابق ویب سائٹس پر ہونے والے اس فراڈمیں مسکراتے امریکی پروفیسروں کی سیکڑوں تصاویراور وڈیوزکا سہارالیا گیاہے۔ یہی نہیں بلکہ ان کی ویب سائٹس پر ڈھیروں تصدیقی تحریریں، پرجوش وڈیوزاور جان کیری کے دستخط والے امریکی محکمہ خارجہ کے سرٹیفکیٹ کی نمائش کی گئی ہے۔ ویب سائٹس پرموجود وڈیوزمیں دکھائے گئے پروفیسرز حقیقت میں اداکارہیں جبکہ یونیورسٹی کیمپس صرف ویب سائٹ پرتصاویر کی حدتک موجودہیں۔

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/q415.jpg

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/bol-1.jpg

ایگزیکٹ کے جعلی ڈگریوں کے اس کاروبارپر پراکسی انٹرنیٹ سروسزاور قوانین موجودنہ ہونے کے باعث پردہ پڑاہوا ہے۔ 370جعلی ویب سائٹس کے ذریعے دنیابھر کے لوگوں کودھوکا دیاجا رہاہے۔ کوئی بھی شخص 3سے 4لاکھ روپے میں امریکی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری لے سکتاہے۔ ایگزیکٹ کمپنی کاعملہ اپنے کئی صارفین کوبلیک میل بھی کرتا رہاہے۔ اخبارکے مطابق ایگزیکٹ کمپنی پاکستان میں بول ٹی وی کے نام سے ایک ٹی وی چینل بھی لانا چاہتی ہے جس کے لیے دھڑادھڑ بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔ اخبارکا کہناہے کہ جعلی ڈگریوں سے حاصل ہونے والاسرمایہ بول میڈیاگروپ میں استعمال کیاجائے گا۔ ان جعلی ڈگریوں کومصدقہ ظاہرکرنے کے لیے تصدیق کرنے والے جعلی ادارے بھی بنائے گئے ہیں۔

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/q513.jpg

نیویارک ٹائمزکے نمائندے نے ایگزیکٹ کاموقف جاننے کے لیے کمپنی سے متعددبار رابطے کی کوشش کی اوراس کے مالکان کو سوالنامے بھیجے گئے تاکہ وہ جواب دے سکیں توجواب میں انہوں نے قانونی نوٹس بھجوا دیاجس میں ان خبروں کو غیرمصدقہ اورسازش پرمبنی مفروضے قرار دیاگیا۔ مذکورہ خبرپر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایگزیکٹ نے بیان جاری کیاجس میں کہا گیاہے کہ خبرسازش اورمفروضے پرمبنی ہے جس میں بے بنیاداورجھوٹے الزامات لگائے گئے جب کہ کمپنی کاموقف نہیں لیا گیا۔

Views: 280

Reply to This

Replies to This Discussion

امریکی حکومت کو ایگزیکٹ کے خلاف کارروائی کرنی چاہئیے،سوشل میڈیا پر عوام کی رائے۔ فوٹو:فائل

ویب ڈیسک/اے ایف پی: ایگزیکٹ نامی آئی ٹی کمپنی نے پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی کیوں کہ جعلی ڈگریوں کے معاملے پر عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستان کی جگ ہنسائی ہورہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایگزیکٹ کمپنی جعل سازی کے زریعے صارفین کو پھنساتی تھی اور ان کو آپریٹرز کے ذریعے جعلی ڈگریاں پہنچاتی تھی جن پر وزیر خارجہ جان کیری کے جعلی دستخط بھی ہوتے تھے 370 جعلی ویب سائٹس کو قبرص اور لٹویا میں سرورز کے زریعے آپریٹ کیا جاتا تھا۔ خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر دھاندلی کرنے والی کمپنی ڈپلومہ سے لے کر ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں فروخت کرتی تھی جب کہ نیویارک ٹائمز کی خبر کے بعد آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ پر تنقید اور الزامات کی بوچھاڑ بھی شروع ہوگئی ہے۔

کمپنی کےداخلی ریکارڈز اورعدالتی دستاویزات بھی جو نیویارک ٹائمز نے حاصل کی ہیں سابق ملازمین کےبیانات کی تصدیق کرتے ہیں۔ فوٹو:فائل

نیویارک: انٹرنیٹ کی کھڑکی سے دیکھا جائے تو ہمیں تعلیم کی ایک وسیع سلطنت نظر آتی ہے۔ سیکڑوں یونیورسٹیاں اور ہائی اسکولز باوقار ناموں اور ایسے مناظر کے ساتھ جن میں سورج کی روشنی میں نہاتے ہوئے امریکن کیمپوں میں مسکراتے ہوئے پروفیسر آپ کو دعوتِ تعلیم دے رہے ہیں۔

ان کی جگماتی ایک کلک پر یقینی طور پر کھل جانے والی ویب سائٹس درجنوں شعبوں مثلاً نرسنگ اور سول انجینئرنگ تک میں آن لائن ڈگریاں پیش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی میڈیا سی این این کی آئی رپورٹ ویب سائٹ پر متاثر کن تصدیق نامے ہیں، پرجوش ویڈیو گواہیاں ہیں اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی تصدیقی اسناد ہیں جن پر وزیر خارجہ جان کیری کے دستخط موجود ہیں۔

ایک پروموشنل ویڈیو میں ایک خاتون ایک لاء اسکول کے سربراہ کی حیثیت سے بڑے فخر سے اپنا تعارف کراتی ہیں یہ کہتے ہوئے کہ ہمیں دنیا کی معروف ترین فیکلٹی میں سے ایک کی میزبانی کا اعزازحاصل ہے۔ آئیے اور نیو فورڈ یونیورسٹی کا حصہ بن جائیے تاکہ آپ مہارت اور کارکردگی کے آسمان کو چھو سکیں۔ تاہم قریبی جائزہ لینے پر یہ ساری تصویر میراج کی طرح سامنے سے شوں کرکے اڑ جاتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ ساری خبریں جھوٹی اور گھڑی ہوئی ہیں۔ پروفیسرز معاوضے پر کام کرنے والے اداکار ہیں۔ یونیورسٹی کیمپسوں کا وجود ایسا ہی ہے جیسے وہ کمپیوٹر سروسز کے اسٹاک فوٹو ہوں۔ ڈگریوں کا دور دور تک کہیں سے کوئی الحاق یا ایکریڈیشن نہیں ہے۔

آئیے اس سے متعلق کوریج AXACTویب سائٹس کو ٹریک کرتے ہیں۔

حقیقت میں تعلیم کی اس وسیع ظاہری دنیا میں جو کم ازکم 370 ویب سائٹس پر پھیلی ہوئی ہے بہت تھوڑا حصہ سچائی اور حقیقت پر مبنی اور اصل ہے سوائے کروڑوں ڈالر کی اس تخمینہ شدہ آمدنی کے جو ہر سال دنیا بھر کے ہزاروں افراد سے بٹوری جاتی ہے اور یہ ساری رقم پاکستان کی ایک ڈھکے چھپے انداز میں کام کرنے والی سوفٹ ویئر کمپنی کو ادا کی جاتی ہے۔

یہ کمپنی ایگزیکٹ کراچی کے پورٹ سٹی سے آپریٹ کر رہی ہے جہاں اس کے دو ہزار سے زیادہ ملازمین ہیں۔ یہ خود کو پاکستان کا سب سے بڑا سوفٹ ویئر ایکسپورٹر قرار دیتی ہے اس کے ملازمین کے لیے سلیکون ویلی اسٹائل ایمپلائی کے ہم پلہ معاوضہ اور سوئمنگ پول اور بحری جہاز جیسی مراعات ہیں۔

ایگزیکٹ کچھ سوفٹ ویئر ایپلیکیشنز ضرور فروخت کرتی ہے مگر سابق (INSIDERS)اندرون خانہ افراد، کمپنی کے ریکارڈز اور اس کی ویب سائٹس کے تفصیلی تجزیے کے مطابق ایگزیکٹ کا مرکزی کاروبار جعلی تعلیمی ڈگریوں کے فروخت کے صدیوں پرانے گھپلے میں ملوث ہونا ہے جسے اس کمپنی نے عالمی سطح پر انٹرنیٹ دور کی ایک اسکیم میں تبدیل کردیا ہے۔

جیسے جیسے آن لائن ایجوکیشن میں لوگوں کی دلچسپی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اس سے میچ کرتے ہوئے کمپنی نے اپنی اسکول اور پورٹل ویب سائٹس کو جارحانہ انداز میں پوزیشن کیا ہے تاکہ وہ آن لائن سرچ میں سب سے نمایاں نظر آئیں اور ان کے ذریعے خواہش مند بین الاقوامی کسٹمرز کو گھیرا جاسکے۔

جیساکہ سابق ملازمین بتاتے ہیں ایگزیکٹ کے ہیڈ کوارٹرز میں ٹیلی فون سیلز ایجنٹس شفٹوں میں چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں بعض اوقات وہ ایسے کسٹمرز کو اپنی خدمات پیش کرتے ہیں جن کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ وہ مشکوک قسم کی اٹیسٹڈ ڈگری پیسے دے کر خرید رہے ہیں مگر بسا اوقات یہ ایجنٹس ایسے لوگوں کو گھیرتے ہیں جو صحیح قسم کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ انھیں سن کر ایسے کورس ورک کے لیے ENROLLکرتے ہیں جو کبھی عملی شکل اختیار نہیں کرتا یا وہ انھیں یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ ان کی زندگی کے تجربات پہلے ہی اتنے ہیں جن پر انھیں ڈپلومہ مل سکتا ہے۔

زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے یہ سیلز ایجنٹس فالواپ کے طور پر دوسری حرکتیں بھی کرتے ہیں مثلاً امریکی سرکاری حکام کا جھوٹا روپ دھارنا اور اس طرح وہ اپنے کسٹمرز کو مہنگی اسناد یا تصدیقی دستاویزات خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔

جیساکہ سابق ملازمین اور فراڈ کے ماہرین نے تخمینہ لگایا ہے اس طرح کمایا گیا ریونیو کروڑوں ڈالر میں ہوتا ہے جسے آف شور OFFSHOREکمپنیوں کے نیٹ ورک کے ذریعے جمع کیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں تعلیم کی اس جعلی سلطنت کے مالک کی حیثیت سے ایگزیکٹ کا کردار پس منظر میں دھندلا دھندلا رہتا ہے جس کے لیے درپردہ پروکسی انٹرنیٹ سروسز، سخت مقابلے والے قانونی ہتھکنڈوں اور پاکستان میں قانون اور ضابطوں کے روایتی فقدان کا سہارا لیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں کوالٹی کنٹرول افسریاسرجمشید کا جنھوں نے اکتوبر میں ایگزیکٹ چھوڑ دی تھی، کہنا تھا کہ بے چارے کسٹمرز سمجھتے ہیں کہ یہ یونیورسٹی ہے مگر یہ یونیورسٹی نام کی کوئی چیزنہیں۔ یہاں سارا کاروبار پیسے کا ہے۔

ہماری طرف سے پورے ہفتے انٹرویو کی درخواستیں کی جاتی رہیں اور جمعرات کو تفصیلی سوالات کی ایک فہرست بھی جمع کرائی گئی مگر ان تمام کوششوں پر ایگزیکٹ کا ردعمل اور جواب ایک خط تھا جو اس کے وکیلوں کی طرف سے ہفتے کو نیویارک ٹائمز کو بھیجا گیا۔ خط میں ایک ڈھکی چھپی سی تردید تھی اور ٹائمز کے رپورٹر پر الزام لگایا گیا کہ وہ بقول ان کے ہمارے پاس کچی پکی کہانیاں اور سازشی تھیوریز لے کر آئے تھے۔

اس سے پہلے نومبر 2013 میں پاکستان کے میڈیا سیکٹر کے بارے میں انٹرویو دیتے ہوئے ایگزیکٹ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو شعیب شیخ نے ایگزیکٹ کو ایک ایسی آئی ٹی اور آئی ٹی نیٹ ورک سروسز کمپنی قرار دیا تھا جو چھوٹے اور میڈیم سائز کے کاروباری اداروں کی خدمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں پروجیکٹس تخلیق کرتے ہیں، ہمارے کلائنٹس کی ایک طویل فہرست ہے، مگر انھوں نے ایسے کلائنٹس کے نام بتانے سے صاف انکار کردیا۔

کمپنی کے داخلی ریکارڈز اور عدالتی دستاویزات بھی جو نیویارک ٹائمز نے حاصل کی ہیں سابق ملازمین کے بیانات کی تصدیق کرتے ہیں۔ ٹائمز نے اسکول سائٹس سمیت 370 سے زیادہ ویب سائٹس کا تجزیہ کیا اور اس کے ساتھ ہی سرچ پورٹلز کی سپورٹنگ باڈی ایکری ڈیشن کے جعلی اداروں، ریکورٹمنٹ ایجنسیوں، زبانیں سکھانے والے اسکولز اور حتیٰ کہ ایک لاء فرم کا جائزہ لیا جن پر ایگزیکٹ کے ڈیجیٹل فنگر پرنٹس پائے گئے۔

اکیڈمک میدان میں ڈپلومہ دینے والے کارخانے ہمیشہ سے ایک مصیبت سمجھے جاتے ہیں، مگر انٹرنیٹ بیسڈ ڈگری کی اسکیموں کے پھیلاؤ سے بجاطور پر یہ تشویش بڑھ گئی ہے کہ یہ ممکنہ طور پر امیگریشن فراڈ میں استعمال ہوسکتے ہیں اور پبلک سیفٹی اور لیگل سسٹم کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ مثال کے طورپر2007 میں ایک برطانوی عدالت نے ایک جعلی پولیس کرمنالوجسٹ جین موریسن کو جیل بھیجا تھا جس کا دعویٰ تھا کہ اس نے جن اداروں سے ڈگریاں لیں ان میں روشول یونیورسٹی شامل تھی جس کی مالک ایگزیکٹ ہے۔

ان تمام باتوں میں سے بہت کم پاکستان میں کسی کو معلوم ہے جہاں ایگزیکٹ نے اپنے ڈپلومہ بزنس کے بارے میں سوالات کو ہمیشہ گول مول رکھا ہے اور خود کو زبردست کامیابی کے حامل ادارے اور ایک ماڈل کارپوریٹ سٹیزن کے طور پر پیش کیا ہے۔

“جیتنا اور لوگوں کا خیال کرنا‘‘  مسٹر شیخ کا نصب العین ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایگزیکٹ کی آمدنی کا 65 فیصد حصہ خیراتی اداروں کو عطیے کے طور پر دیتے ہیں اور انھوں نے پچھلے سال ایک ایسے پروگرام کا اعلان بھی کیا تھا جس کے تحت 2019 تک ایک کروڑ پاکستانی بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے گا۔

تازہ ترین بات یہ ہے کہ وہ اب پاکستان کے بااثر ترین میڈیا مغل بننے کے لیے ہاتھ پاؤں ما رہے ہیں تقریباً دو سال ہونے کو آئے ہیں جب سے ایگزیکٹ ایک براڈ کاسٹ اسٹوڈیو تعمیر کر رہا ہے اور انتہائی جارحانہ انداز میں ایک ٹیلی ویژن اور نیوز پیپر گروپ ’’بول‘‘ کے لیے جس کی لانچنگ اسی سال شیڈولڈ ہے نامی گرامی صحافیوں کو بھرتی کر رہا ہے۔

آخر اتنے اولوالعزم وینچر کے لیے اتنا خطیر فنڈ کہاں سے آرہا ہے؟ یہ پاکستان میں قیاس آرائیوں کا پسندیدہ موضوع ہے۔ ایگزیکٹ نے کئی قانونی پٹیشنز دائر کر رکھی ہیں جو زیر سماعت ہیں اور مسٹر شیخ نے بھی بڑے شدومد سے عوامی سطح پر اپنے حریف میڈیا اداروں کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انھیں پاکستانی فوج یا جرائم کے منظم (زیرزمین) گروہوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم جو بات ایگزیکٹ کے ڈپلومہ آپریشن کے دائرہ کار کو دیکھتے ہوئے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جعلی ڈگریاں ہی مبینہ طور پر اس نئے میڈیا بزنس کو چلانے کے لیے مالی ایندھن فراہم کر رہی ہیں۔

اس سلسلے میں ایک ریٹائرڈ ایف بی آئی ایجنٹ ایلن ایزل کا جو ’’ڈپلومہ ملز‘‘ کے بارے میں ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں کہنا یہ ہے کہ یہ سب سے بڑا آپریشن ہے جو ہم نے شاید ہی پہلے کبھی دیکھا ہو۔ اسے ہم سانسیں روک دینے والا گھپلا قرار دے سکتے ہیں۔

پہلی نظر میں ایگزیکٹ کی جامعات اور ہائی اسکولز مصنوعی مماثلتوں سے منسلک ہیں۔ جیسے سلک ویب سائٹس، ٹول فری امریکن کنٹیکٹ نمبرز اور سوچے سمجھے جانی پہچانی آوازوں والے نام مثلاً برکلے، کولمبیانا اور ماؤنٹ لنکن۔

لیکن دیگر اشارے اور سراغ عمومی ملکیت کی طرف لے جاتے ہیں۔ کئی سائٹس اسی جعلی ایکریڈیٹیشن باڈیزسے منسلک ہیں اور ان کے یکساں گرافکس ہیں، مثال کے طور پر ایک فلوٹنگ سبز کھڑکی (فلوٹنگ گرین ونڈو) جس پر ایک ایسی عورت کا اسکیچ ہے جس نے سر پر کچھ اوڑھ رکھا ہے جو کسٹمرز یا گاہکوں کو دعوت دے رہی ہے۔

دیگر تکنیکی عمومی چیزیں ہیں جو مشترک بھی ہیں جیسے کسٹمائزڈ کوڈنگ کی یکسانیت، اور یہ حقیقت کہ ایک وسیع اکثریتی روٹ ان چیزوں کی ٹریفک کے لیے ہے جو دو کمپیوٹر سرور سے کام کرتے ہیں یہ ان ہی کمیونٹی کے ذریعے جو قبرص یا لٹویا میں رجسٹرڈ ہیں۔

پانچ سابقہ ملازمین نے ان میں سے بعض سائٹس کی تصدیق کی ہے جو ایگزیکٹ کی ان ہاؤس تخلیق ہیں۔ جہاں ایگزیکٹو و آن لائن اسکولوں کو مال بنانے والی برانڈز کے طور پر ٹریٹ کرتے ہیں۔ یہ برانڈ شاندار طریقے سے اور نہایت نفاست سے بنائی جاتی ہیں اور پوری قوت سے ان کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔ جبکہ بلا روک ٹوک جعل سازی اور دھوکہ دہی کے ساتھ۔

پروفیسرز اور ببلی طالب علم وڈیوز میں پروفیشنل طور پر بطور اداکار استعمال کیے جاتے ہیں۔ سابق ملازمین کے بقول بعض اسٹینڈانز (منتظر لوگ) مختلف اسکولوں کے اشتہارات میں نمودار ہوتے ہیں۔

ذرائع  نے ان حوالے سے بتایا کہ کس طرح ملازمین جعلی اور جھوٹی رپورٹیں تیار کرتے ہیں ان ایگزیکٹ یونیورسٹیوں کے بارے میں جو سی این این کے ایک سٹیزن جرنلزم ویب سائٹ کی I Report ہے۔

اگرچہ CNN کا اصرار ہے کہ اس نے رپورٹ کو ویری فائی یا اس کی توثیق نہیں کی مگر AXACT اسے CNN لوگو کے طور پر پبلسٹی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے جسے کئی ویب سائٹس پر دیکھا جاسکتا ہے سوشل میڈیا اس کو مزید قانونی جواز دینے کی کوشش کرتا ہے۔ لنکڈاِن (Linkedin)ایسے پروفائلز پر مشتمل ہے جن سے مراد AXACT یونیورسٹیز کے فیکلٹی ممبران کی ہے۔جیسے کرسٹینا گارڈنر جسے بل فورڈ یونیورسٹی کی سینئر مشیر اور (ساؤتھ ویسٹرن انرجی )جو ہوسٹن میں عام طور پر رجسٹرڈ ہے اس کی نائب صدر بتایا گیا ہے۔ ایک ای میل میں ساؤتھ ویسٹرن کے ترجمان نے بتایا کہ کمپنی میں ایسے نام کی کوئی ملازمہ نہیں ہے۔

AXACT کے بزنس کا مرکز بہرحال ایک سیلز ٹیم ہے جو نوجوان اور پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے۔ رواں انگریزی بولتے ہیں عربی میں فصیح اور دسترس رکھتے ہیں، وہ فون پر کسٹمرز پر رابطہ رکھتے ہیں جن کے ویب سائٹس کے ذریعے راغب کیا جاتا ہے۔ وہ ہائی اسکول ڈپلومہ سے لے کر جس کی مالیت یا قیمت ادائیگی 350 ڈالر کے لگ بھگ ہے مکمل ڈاکٹرل ڈگریز تک جن کی مالیت 4000 ڈالر یا اس سے زائد ہے آفر کرتے ہیں۔

’’یہ ایک سیلز اورینٹڈ بزنس کی بنیاد رکھتا ہے۔‘‘ ایک سابق ملازم نے یہ بات بتائی جو دیگر لوگوں کی طرح نام نہ بتانے کی شرط پر بولا تاکہ AXACT انتظامیہ اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کرسکے۔

ایک نئے کسٹمر کی حیثیت ایک شروعات (Start)سے ہوتی ہے ۔ ان کے ماہانہ ٹارگٹ یا اہداف تک پہنچنے کے لیے AXACT کے سیلز ایجنٹس کو انتہائی سخت تربیت ملتی ہے ان کی ٹیکٹکس ’’اپ سیلنگ‘‘ کہلاتی ہے سابق ملازمین کے مطابق بتایا گیا۔۔

بعض اوقات کمپنی کی پروڈکٹس سے عدم دلچسپی رکھنے والوں کو کال کیا جاتا ہے اور طالب علموں سے رابطہ کرکے انھیں بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ کارپوریٹ ریکروٹنگ ایجنٹص ہیں ان کے پاس بڑی اور پرکشش تنخواہوں کی آفر ہے مگر اس وقت جب طالب علم ایک آن لائن کورس خریدیں۔

’’اپ سیلنگ‘‘ کا ایک اور طریقہ پرکشش ملازمت کا جھانسہ دینے کا یہ ہے کہ امریکی حکومت کے عہدیداروں کے بھیس اور ان کے نام سے واردات کرتے ہیں جو کسٹمرز کو دھونس دھمکی اور چالاکی سے گھیرتے ہیں تاکہ وہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مصدقہ اسناد خریدیں جن پر سیکریٹری کے دستخط ہیں۔

AXACT کے ملازمین کا اکثر رویہ سابقہ کسٹمرز سے جارحانہ ہوتا ہے اور ان پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ مزید خریداری کریں۔ کچھ تو خود کو امریکن آفیشل ظاہر کرتے ہیں اور کلائنٹس کو خوانچہ فروش کی طرح کہتے ہیں کہ وہ اسٹیٹ ڈپارٹنمنٹ کے تصدیقی مکتوبات اور لیٹرز پر ہزاروں ڈالر خرچ کریں جن کی ادائیگی آف شور فرموں کے ذریعے سے کی جاتی ہے۔

ایسے سرٹیفکیٹس جن کے ذریعے ڈگری بیرون ملک قبولیت اور منظوری میں مدد ملتی ہے جو قانونی طور پر امریکا میں خریدے بھی جاتے ہیں اور 100 ڈالر کم پر ملتے ہیں لیکن مشرق وسطیٰ کے ممالک میں AXACT آفیشل ڈاکومنٹس فروخت کرتے ہیں جس میں کچھ جعلی ہوتے ہیں دیگر مختلف حربوں اور طریقے سے تیار ہوتے ہیں ان سے ہر ایک ہزاروں ڈالر میں بکتا ہے۔

وہ کسٹمرز کو دھمکاتے بھی ہیں انھیں کہتے ہیں کہ ان کی ڈگریاں بے کار ہوں گی اگر انھوں نے پیسے ادا نہیں کیے۔ یہ بات ایک سابق ملازم نے بتائی جس نے AXACT کی ملازمت 2013 میں چھوڑی۔

AXACT والے اپنی ویب سائٹس کو خوبی کے ساتھ سنوارتے رہتے ہیں تاکہ پرنسپل مارکیٹ میں کسٹمرز کو اپیل کرسکیں۔ یہ مارکیٹس امریکا اور تیل سے مالا مال پرشین گلف ممالک ہیں۔ ایک سعودی شہری نے جعلی ڈگری اور اسناد پر 4 لاکھ ڈالر خرچ کیے یہ بات سابق ملازم مسٹر جمشید نے بتائی۔ رقوم عموماً کم تلہکہ خیز اور تعجب انگیز ہیں مگر پھر بھی ان میں بہت کچھ ہے۔

ایک مصری شخص نے گزشتہ سال 12 ہزار ڈالر میں نکسن یونیورسٹی سے انجینئرنگ ٹیکنالوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی اور دیگر سرٹیفکیٹس بھی حاصل کیے جن پر مسٹر کیری کے دستخط تھے تاہم اس نے یہ بات تسلیم کرلی کہ اس نے اخلاقی طور پر سرحد پار کی۔ اس کا پس منظر اشتہاریات کا تھا۔ اس نے یہ بات ٹیلی فونک انٹرویو میں کہی۔ وہ بھی نام نہ بتانے کی شرط پر یہ انکشاف کر گئے کہ کہیں قانون کے بندھن میں نہ جکڑے جائیں۔

لیکن انھیں یقین تھا کہ ڈاکومنٹس حقیقی تھے۔ ’’میں یہی سمجھا کہ وہ امریکا سے آئی ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا اس پر غیر ملکی مہریں تھیں، وہ شاندار اور پرتاثیر لگ رہی تھیں۔‘‘

ڈگری آپریشنز کے کئی کسٹمرز جو اس دھندے میں پروموشن یا عہدے میں بڑھوتری کی امید لگائے ہوئے ہیں اس امر سے آگاہ ہوتے ہیں کہ وہ  Knock of Rolexکے برابر کی تعلیمی سند لے رہے ہیں بعض پکڑے بھی گئے ہیں۔

Pakistan Zinda bad.

I am not able to understand why NYT is giving prime time to this sort of reporting or giving impression that only pakistani companies are involved in diploma mills business.

RSS

© 2022   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service