We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

Please read it carefully.
_________/////________
The Sunni scholars invited Allamah Amini (author of al-Ghadir) for a dinner. However, he refused. They insisted to take him to their gathering. Due to their excessive insistence Allamah Amini accepted their invitation, but placed a condition that there should be no debate or discussion only dinner. They all accepted. After dinner, one the Sunni scholars, who was amongst that gathering of between 70 and 80 people, wanted to start a discussion. At that point, Allamah Amini pointed out to them: we had a prior commitment not to go into any sort of discussions.

One scholar said: Then we should all relate a hadith for the sake of blessing.

As it appeared that all the scholars present in the meeting Hafiz of Ahadith. In Sunnis a person who has memorised a hundred thousand (100,000) ahadith or more is named Hafiz.
They all started to relate traditions.

Then came Allamah Amini's turn. Allamah said: I will only say a hadith if everyone gives me their word that they will all comment on whether the hadith is reliable or unreliable. They all accepted.

Allamah Amini then said: the Messenger of Allah (SA) has said: He who dies without the recognition of the Imam of his time has died the death of ignorance.

Allamah then turned to each scholar in the gathering and asked if the hadith was reliable or not.

They all admitted that the hadith is authentic.

He then said: Now that you have all accepted the authenticity of the tradition, I want to ask one question from you all, did Fatima al-Zahra (AS) recognise the Imam of her time or not? If she did recognise the Imam of her time, then who was it?

All the scholars present in the gathering became quiet for some time and put their heads down. After that they all started leaving one by one.

They all were saying to each other that if we say she didn't know the Imam of her time then that would imply that she died is disbeliever. Far be it that the Queen of all women of the universe left this world as a disbeliever. However if we say that whe did know the Imam of her time then how can we say that it was Abu Bakr?
While Bukhari, the most learned scholar of the Sunnis,has said:
ماتت وهي ساخطة عليهما

Fatima left this world while she was bitterly angry with both of them (Abu Bakr and Umar).

They were all being compelled to admitting the righteousness and Imamate of Ali ibn Abu Talib (AS) thus they all became quiet and left the gathering.

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 340

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Replies are closed for this discussion.

Replies to This Discussion

Worth Considerable Point For Every One.

thx

چلیں کریں ڈیبیٹ اس موضوع پر؟

کیا میں ان اہل تشیع راویوں کے نام لوں جو اس قبیل کی احادیث میں انوالو ہیں؟

یا ہم لفظ "امام" کو ڈیفائن کر لیں؟

۔

۔

دوسری بات سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی سیدنا ابو بکر سے ناراضگی کی وجہ ڈسکس کرلیں۔

Bro, Online Fourm py Mzbi Guftagu nai ki ja sakti jin ko haq ki talash hy wo kud research ker k daikh lain. 

category likhi hai thought provoking discussion

to  ab discuss to ho ga na 

Maslaqi issues ki open discussion sirf firqa wariat ko hi hawa de sakti hai. In mamlaat me sahib e ilm logo ki kami hai or jazbati logo ki zydti. Aise ikhtalafaat pe zaati research kerna hi behtar amal hai na k inko aam kam ilm logo k samne discuss  kerna. Online dunya ki yehi batain masaliq ki darmeyan nafraton me izafay ka bais hain.

 Hun keeti ny na gal,,, Gud.

 Ea Laoo Noodles khaoo.

تو سب سے پہلے ٹیکنکل بات کرتے ہیں بخاری کی اس روایت کی جس میں سیدہ فاطمہ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ
عنہما کی ناراضگی کا ذکر ہے۔
..................
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَيْهِمَا مِنْ فَدَكَ وَسَهْمَهُمَا مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ قَالَ فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ

بخاری ، کتاب الفرائض

عبد اللہ بن محمد، ہشام، معمر زہری، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رسول اللہ کے (ترکہ میں سے) اپنے میراث مانگنے آئے اور وہ دونوں اس وقت فدک کی زمین اور خیبر کی زمین سے اپنا حصہ وصول کر رہے تھے تو ان دونوں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا اور جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے صرف اس مال سے آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھائیں گے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا خدا کی قسم میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کام کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کو نہیں چھوڑتا ہوں ۔ انہوں نے کہا: ( یہاں قال کا لفظ ہے جو مذکر کے لئیے استعمال ہوتا ہے، یہاں قال کے بجائے قالت ہونا چاہئیے تھا کیونکہ بات حضرت عائشہ کررہی ہیں ، معلوم ہوتا ہے روایت گھڑنے والے سے یہاں گڑبڑہوگئی ) حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور ان سے گفتگو چھوڑ دی یہاں تک کہ وفات پاگئیں۔
قال یعنی انہوں نے کہا ۔۔۔۔ مذکر کے لئے قال اور مونث کے لئے قالت کا استعمال کرتے ہیں چنانچہ یہ حضرت عائشہ کا قول ہو ہی نہیں سکتا۔ (یہ ایسا ہی ہے جیسے انگلش میں کوئ کہہ دے
He Said
اب کوئ پاگل ہی ہو گا جو اس کو ایک خاتون کا قول قرار دے گا

 زہری کی مرسل... مرسل اس حدیث کو کہتے ہیں جس میں حدیث بیان کرنے والوں کی لڑی میں کوئی ایک راوی حذف ہو ۔۔۔۔یعنی اسکی روایت درمیان میں سے کہیں منقطع ہوتی ہے۔
زہری کی ایک مرسل کے بارے میں امام بیہقی فرماتے ہیں
وقد رده الشافعی بکونه مرسلًا وبأن الزهری قبيح المرسل وانا روينا عن عمرؓ وعثمانؓ ما هو اصح منه
امام زہری کے اس بیان کو امام شافعی نے اس بنیاد پر رد کر دیا ہے کہ یہ مرسل ہے اور زہری کی مراسیل بہت قبیح ہیں۔ نیز حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما سے اس کے برعکس فیصلے زیادہ مستند طریقے سے مروی ہیں۔
بيهقی، السنن الکبریٰ، رقم ١٦١٣٢
اسی طرح یحیی بن سعید القطان اور دیگر ائمہ سے زہری کی مرسل کی تضعیف ثابت ہوتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت فاطمہ کے متعلق بخاری کی یہ روایت ضعیف ہے۔


ye post aj sy koi month pahly publish hoi isi ID sy but kisi ny response nahi kia waja yahi thi   k firqa wariet na ho kun k post ka content hi asa hai post kerny wala khud firqa wariet ko hawa dy rahi hai ya raha hai  is ID ny khud apni post ko aik promotion di but koi response nahi tha ab month bad again post ker di gai hai and is ko response ker k high light aik mod sahib ker rahy hain werna sab chup hi thy ..amir sahib ny gal hi muka deti k hadees zaeif hai ..lagta is post k peachy kuch khufia hath hai jo ning k bacho ko uljhana chata hai ..think about it friends

اب اگر ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اس حدیث میں قالت کا لفظ کلیرکل مسٹیک بھی تو ہو سکتی ہے تو اہل تشیع
کی اپنی کتابوں میں جو درج ہے وہ کچھ یوں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہل تشیع کی معتبر اور مشہور ترین کتاب شرح نہج البلاغہ ابن مسیم بحرانی جز 35 ص 543 میں یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے جب سیدہ کا کلام سنا تو حمد کی درود پڑھا اور پھر حضرت فاطمہ کو مخاطب کرکے کہا کہ اے افضل عورتوں میں اور بیٹی اس ذات مقدس کی جو سب سے افضل ہے۔ میں نے رسول کی رائے سے تجاوز نہیں کیا۔ اور نہیں عمل کیا میں نے ،مگر رسول کے حکم پر۔ بے شک تم نے گفتگو کی اور بات بڑھا دی اور سختی اور ناراضگی کی۔ اب اﷲ معاف کرے ہمارے لئے اور تمہارے لئے۔ اور میں نے رسول کے ہتھیار اور سواری کے جانور علی کو دے دیئے لیکن جو کچھ اس کے سوا ہے اس میں، میں نے رسول کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :
انا معاشر الانبیاء لا نورث ذہباً ولا فضۃ ولا ارضاً ولا عقاراً ولا داراً ولکنا نورث الایمان والحکمۃ والعلم والسنۃ وعملت بما امرنی ونصحت
ہم جماعت انبیاء نہ سونے کی میراث دیتے ہیں نہ چاندنی کی، نہ زمین کی، نہ کھیتی کی اور نہ مکان کی میراث دیتے ہیں لیکن ہم میراث دیتے ہیں ایمان اور حکمت اور علم اور سنت کی اور عمل کیا میں نے اس پر جو مجھے حکم کیا تھا (رسول نے) اور میں نے نیک نیتی کی۔
اس کے بعد یہ ہے کہ حضرت فاطمہ نے یہ فرمایا کہ حضورﷺ نے فدک کو ہبہ کردیا تھا جس پر انہوں نے علی اور ام ایمن کو گواہ پیش کیا۔ جنہوں نے گواہی دی پھر عمر آئے۔ انہوں نے اور عبدالرحمن بن عوف نے یہ گواہی دی کہ حضور فدک کی آمدنی تقسیم فرما دیتے تھے۔ اس پر حضرت صدیق اکبر نے فرمایا۔
کان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یاخذ من فدک قوتکم ویقسم الباقی ویحمل فیہ فی سبیل اﷲ ولک علی اﷲ ان اصنع بہاکما کان یصنع فرضیت بذلک واخذت العہد علیہ بہ وکان یاخذ غلتھا فیدفع الیہم منھاما یکفیہمم ثم فعلت الخلفاء بعدہ ذلک (شرح مسیم، مطبوعہ ایران، ج 35)
تم سب سچے ہو۔ مگر اس کاتصفیہ یہ ہے کہ رسول اﷲﷺ فدک کی آمدنی سے تمہارے گزارے کے لئے رکھ لیتے تھے، اور باقی جو بچتا تھا اس کو تقسیم فرما دیتے تھے اور اﷲ کی راہ میں اس میں سے اٹھا لیتے تھے اور میں تمہارے لئے اﷲ کی قسم کھاتا ہوں کہ فدک میں وہی کروں گا جو رسول کرتے تھے تو اس پر فاطمہ راضی ہوگئیں اور فدک میں اسی پر عمل کرنے کو ابوبکر سے عہد لے لیا اور ابوبکر فدک کی پیداوار کرلیتے تھے اور جتنا اہل بیت کا خرچ ہوتا تھا ان کے پاس بھیج دیتے تھے اور پھر ابوبکر کے بعد اور خلفاء نے بھی اسی طرح کیا۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت سیدہ کی رضامندی والی یہ روایت صرف ابن میثم ہی نے نہیں بلکہ متعدد علمائے شیعہ نے اپنی کتابوں میں ذکر کی ہے جن کے نام یہ ہیں۔
1… درنجیفہ شرح نہج البلاغہ مطبوعہ طہران ص 332
2… حدیدی شرح نہج البلاغۃ جلد دوم، جز 16،ص 296
3… سید علی نقی فیض الاسلام کی تصنیف فارسی شرح نہج البلاغہ، جز 5،ص 960
رضامندی کی اس روایت سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوئے۔
اول: فدک کے متعلق حضورﷺ کے طرز عمل اور صدیق اکبر کے طرز عمل میں کوئی تفاوت نہیں تھا۔
دوم: حضرت فاطمہ صدیق اکبر سے راضی تھیں اور صدیقی طرز عمل آپ کو پسند تھا۔

..................................
حضرت سیدہ کی نماز جنازہ میں حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی شرکت

اہل تشیع حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر سیدہ فاطمہ کے نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوئے اور اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ سیدہ نے وصیت کردی تھی کہ ابوبکر میرے جنازہ میںشریک نہ ہوں۔
 مستند روایات کے مطابق صرف سات آدمیوں نے حضرت فاطمہ کی نماز جنازہ پڑھی۔ چنانچہ اہل تشیع کی معتبر کتاب جلاء العیون میں کلینی سے روایت ہے۔

از حضرت امیر المومنین صلوات اﷲ علیہ روایت کردہ است کہ ہفت کس بر جنازۂ حضرت فاطمہ نماز کردند، ابوذر سلمان، حذیفہ، عبداﷲ بن مسعود و مقداد ومن امام ایشاں بودم (جلاء العیون)
حضرت امیر المومنین علی سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا۔ صرف سات آدمیوں نے فاطمہ کی نماز جنازہ پڑھی جن کے نام یہ ہیں۔ ابوذر، سلمان، حذیفہ، عبداﷲ بن مسعود، مقداد اور میں ان کا امام تھا۔
جلاء العیون کی اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف سات افراد نے سیدہ فاطمہ کے نماز جنازہ میں شرکت کی جن کے نام اوپر مذکورہیں اور مندرجہ ذیل افراد نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوئے۔ مثلا حضرت امام حسن اور حسین، عبداﷲ بن عباس، عقیل بن ابی طالب برادر حقیقی حضرت علی۔۔۔
.........................
تو اب سوال یہ ہے کہ اگر بالفرض حضرت ابوبکر صدیق سیدہ فاطمہ کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوئے اور یہ بھی فرض کرلیجئے کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ سیدہ ان سے ناراض تھیں تو شیعہ ان بارہ حضرات کے متعلق کیا کہیں گے۔ یہ بھی تو سیدہ کے نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوئے۔ کیا ان سے بھی سیدہ ناراض تھیں اور کیا سیدہ فاطمہ نے یہ وصیت بھی کردی تھی کہ میرے نماز جنازہ میں حسن و حسین بھی شریک نہ ہوں، جو ان کے لاڈلے بیٹے تھے؟


حقیقت یہ ہے کہ جنازہ کی شرکت یا عدم شرکت کو ناراضگی یا رضامندی کی بنیاد بنانا ہی غلط ہے اور اگر اسی اصول کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر حضرت حسن، حسین ،عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہم اور دیگر افراد کے متعلق بھی یہ کہنا پڑے گا کہ ان سے حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا ناراض تھیں۔ کیونکہ جلاء العیون کی روایت کے مطابق یہ حضرات بھی سیدہ کے جنازہ میں شریک نہیں ہوئے۔ پس ثابت ہوا کہ اگر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ بھی جائے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے سیدہ کی نماز جنازہ نہیںپڑھی تو اس کو حضرت ابوبکر صدیق سے سیدہ کی ناراضگی کی دلیل بنانا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔


اس کے علاوہ شیعوں کی معتبر کتابوں سے ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی زوجہ محترمہ اسماء بنت عمیس رضی اﷲ عنہا کو جناب سیدہ کی خدمت کے لئے چھوڑ دیا تھا اور حضرت اسماء سیدہ کی تیمارداری کی تمام خدمات انجام دیتی تھیں اور شبانہ روز ان کے گھر میں مقیم تھیں۔ حضرت فاطمہ نے بوقت وفات انہیں غسل دینے، کفن پہنانے اور جنازہ تیار کرنے کی وصیت فرمائی تھی۔ اس کے ثبوت کے لئے کتاب کے حوالہ کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ واقعات اہل تشیع کی ہر اس کتاب میں مذکور ہیں جس میں حضرت فاطمہ کی وفات اور تجہیز و تکفین کے واقعات درج ہیں۔ جیسے جلاء العیون، ناسخ التواریخ وغیرہ… نہ صرف یہ بلکہ کتب شیعہ میں یہ بھی تصریح ہے کہ جب حضرت فاطمہ کو یہ خیال ہوا کہ کپڑے سے عورتوں کا پردہ اچھی طرح نہیں ہوتا ہے تو گہوارہ کا مشورہ حضرت ابوبکر کی زوجہ محترمہ ہی نے دیا تھا اور یہ بیان کیا تھا کہ حبشہ میں انہوں نے یہ صورت دیکھی ہے کہ جنازہ پر لکڑیاں باندھ کر گہوارہ بناتے ہیں۔ چنانچہ اسی صورت گہوارہ کو جناب سیدہ نے پسند کیا اور حضرت ابوبکر کی زوجہ محترمہ نے موافق وصیت جناب سیدہ ان کے غسل و تجہیز و تکفین میں شریک ہوئیں۔ اس سچے تاریخی واقعہ سے جو اہل تشیع کی تمام کتب میں موجود ہے۔ مندرجہ ذیل امور پر روشنی پڑتی ہے۔


اول: اگر جناب سیدہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے ناراض ہوتیں تو حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کبھی ان کی زوجہ محترمہ سے خدمت لینا پسند نہ کرتیں اور نہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ اپنی زوجہ کو یہ اجازت دیتے کہ وہ شبانہ روز سیدہ کے گھر مقیم رہیں اور ان کی تیمارداری میں مشغول ومصروف رہیں۔


دوم: بالکل وضاحت سے ثابت ہوا کہ جناب سیدہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے قطعاً راضی تھیں اور اسی سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو اپنی زوجہ محترمہ سے سیدہ کے حالات معلوم ہوجاتے تھے۔ یا وہ خود اپنی زوجہ سے پوچھ لیتے تھے۔ یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ وفات کی اطلاع خصوصی طور پر حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو بھیجنے کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ جب ان کی زوجہ محترمہ سیدہ کی تیمارداری میں مصروف تھیں تو حضرت ابوبکر کو ایک ایک پل کے حالات معلوم ہوتے رہتے ہوں گے۔ چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے مشکوٰۃ کی جلد آخر میں یہ روایت نقل کی ہے کہ گہوارہ کی خبر پاکر ابوبکر رضی اﷲ عنہ یہ پوچھنے آئے کہ یہ نئی چیز کیوں بنائی تو حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی زوجہ نے ان کو سمجھا دیا کہ جناب سیدہ نے اس کی وصیت کی تھی اور گہوارہ کو پسند کیا تھا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر خاموش ہوگئے۔

ان مذکورہ بالا امور سے واضح ہوگیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا بوقت وفات حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے بالکل راضی تھیں۔ لہذا جنازہ میں ابوبکر کی عدم شرکت بالکل خلافِ عقل دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا عبارات سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سیدہ کے جنازہ میں شریک ہوئے تھے۔اور اگر جنازے میں شرکت نہیں بھی ہوئی تھی تو اسکی وجہ کم از کم ناراضگی نہیں ہو سکتی ہے۔

میں اب مزید کمنٹ نہیں کروں گا صرف یہ اس علمی مغالطے کا علمی جواب دینا مناسب سمجھا جو اذہان میں پیدا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ اور اس کے لیۓ صاحب پوسٹ سے پیشگی اجازت بھی لی ہے۔

اللہ نگہبان

thanks sir ap ny itny achy tareeqy sy explain kia

RSS

Latest Activity

zoobi noor commented on Zainab Mughal's blog post LAMBA DHAGA AUR LMBI ZUBAN
1 minute ago
zoobi noor liked Zainab Mughal's blog post LAMBA DHAGA AUR LMBI ZUBAN
1 minute ago
zoobi noor liked +!!!StRaNGeR!!! +'s discussion ﺗﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺗﮏ ﺑﮭﻼ ﺩﻭﮞ، ﺗﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺗﮏ ﻣﭩﺎ ﺩﻭﮞ
2 minutes ago
zoobi noor liked +¢αяєℓєѕѕ gιяℓ's discussion ٹی وی پر ڈرامہ چل رہا تھا
4 minutes ago
Desert11 Hakru commented on + M.Tariq Malik's group MGMT615 Transportation & Logistics Management
4 minutes ago
Imran bs(i.t) updated their profile
8 minutes ago
Desert11 Hakru joined + M.Tariq Malik's group
12 minutes ago
+ "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •" replied to + " J ɨ y α •" ⋆'s discussion Let's celebrate the Birthday of our Beloved Mod + "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •"
14 minutes ago
+ "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •" replied to + " J ɨ y α •" ⋆'s discussion Let's celebrate the Birthday of our Beloved Mod + "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •"
14 minutes ago
+ "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •" replied to + " J ɨ y α •" ⋆'s discussion Let's celebrate the Birthday of our Beloved Mod + "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •"
15 minutes ago
+ "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •" replied to + " J ɨ y α •" ⋆'s discussion Let's celebrate the Birthday of our Beloved Mod + "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •"
15 minutes ago
Desert11 Hakru posted a status
"Pakistan's nuclear sites are less confidential than the past papers of Mgmt615 & 617. So forget abput finding the latter."
15 minutes ago

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.