We have been working very hard since 2009 to facilitate in learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

Introduction :

It is admitted fact that every moment, second, minute, hour, day or night that is spent in the submission of Allah Almighty and His Beloved Prophet (SAW) is exceedingly meaningful and precious. But there are some days, nights and months which have their own weight and Allah, the compassionate, lays immense stress upon them to unveil their importance to his rationale creatures.

What is Shabaan?

Among those months, those hold much importance is Sha’ban and the holy month of Ramadhan, The Holy Month of Sha’ban is one of the blessed months that holds much too for us from the mercy, compassion and kindness of Allah Almighty. Sha’ban is the name of the (eigth) month of the Islamic lunar calendar, and it is so called because in this month the Arabs used to disperse (tasha’aba) in search of water, or it was said that it is so called because it sha’aba (branches out or emerges) i.e., it appears between the months of Rajab and Ramadan.

HADITHS ABOUT THE NIGHT OF 15TH SHABA’AN

Apart from fasting in the month of sha’ban that has been proved authentic by above narrations, there is a concept of Laylat al-Nusf min Sha’baan (the 15th of Sha’baan). Which infact is like any other night, and there is no sound report from the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) to indicate that on this night the fate or destiny of people is decided.

It was narrated from Abu Moosa al-Ash’ari that the Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) said: “Allaah looks down on the night of the fifteenth of Sha’baan and forgives all his creation except a mushrik or one who harbours hatred against the Muslims.” Narrated by Ibn Maajah, 1390.

The Holy Prophet (sa.) had said that during the night of 15th Shaba'an the Almighty takes decisions in the matters of sustenance, life and death and welfare of the people. Next to the “Night of Qadr” the night of 15th Sha’baan is the most auspicious night (also known as “night of Baraat”). According to the Imams Muhammad bin Ali Al Baqir (as.) and Jaa’far bin Muhammad As Sadiq (as.) Allah swt has promised to fulfill every legitimate desire put forward to Him tonight. During this night Allah (swt) bestows on HIS people from HIS bounty & forgives them out of HIS grace & generosity .Of the blessings of this night is that ,at the dawn of this night ,was born the Leader of the Time Imam Mehdi (atfs) in Samarra -Iraq in the yr 255 AH .

Views: 1000

Replies are closed for this discussion.

Replies to This Discussion

is baat ki koi daleel bhi hai quran o hadeth main ???

Kindly give me reference from Quran or from hadith .

JazakAllahu khairan

درج بالا تمام اقتباسات اور احادیث مبارکہ سے عیاں ہوتا ہے کہ شب برات بھٹکے ہوئے اور سرکش لوگوں کے لئے ایک دستک ہے جو آخرت کی زندگی کو بھول کر دنیاوی زندگی کے گورکھ دھندوں میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ رات ان کے لئے اپنے رب کی طرف بلاوہ، اور اسے منانے کی رات ہے۔ جب کوئی شخص کماحقہ اس رات کو اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد میں بسر کرتا ہے، تسبیح و تہلیل کرتا ہے، درود و سلام کے گجرے پیش کرتا ہے، گناہوں سے معمور دامن ذکر الہٰی سے صاف کرتا ہے تو یہ رات اسکے لئے بہت سے انعام و اکرام لاتی ہے۔ تقدیریں بدل جاتی ہیں، زندگی کے حالات بدل جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس ایک عظیم رات کو اس میں کار فرما روح کے مطابق گزارنے کے ہی بدولت ممکن ہے۔ قرآن پاک میں ہے۔
یَمْحُوا اﷲُ مَا یَشَآئُ وَ یُثْبِتُج وَ عِنْدَه اُمُّ الْکِتٰبِ
اﷲ جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) ثبت فرما دیتا ہے، اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوحِ محفوظ) ہے۔
الرعد، 13: 39
شب برات ہمارے احوال کو بدل دیتی ہے۔ اگر انسان احسن طور پر اس کے لوازمات پورے کرے تو یہ رات گناہوں کے ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر اس رات اپنے رب کے حضور ندامت اشک کے آنسو بہائے اور نالہ و فریاد کرے، اپنے صغائر و کبائر گناہوں کے لئے معافی کا خواست گار بنے تو اس وقت بدحالی، خوشحالی اور تنگی، آسانی میں بدل جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے ایک بے حد گناہگار شخص نے صرف توبہ کا ارادہ کیا، ابھی مکمل طور پر توبہ نہ کی، مگر نیت و ارادہ کے سبب تقدیر بدل دی گئی اور جنت میں پہنچایا گیا۔ اگر آج حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی افضل امت کا ایک گناہگار اور سرکش شخص توبہ کرے تو کیا اس کی تقدیر نہیں بدل سکتی؟ بالخصوص شب برات کا تو اور افضل مقام ہے جہاں حضورصلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی کی رو سے اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگنا اور آہ و زاری کرکے اپنے رب سے آئندہ گناہوں سے سچی توبہ کرنا ہے۔ شب برات ہمیں اس عمل کی طرف دعوت دے رہی ہے کہ اس رات محاسبہ نفس، توبہ، تجدید عہد کے ذریعے دنیاوی و اخروی فلاح کا ساماں تیارکریں۔
شب برات کا دوسرے دنوں اور راتوں سے موازنہ کیا جائے تو شب برات دوسرے شب و روز سے بالکل مختلف ہے۔ عیدالفطر اور عیدالاضحٰی اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکامات کی بجاآوری کا صلہ ہیں۔ اس میں انسان کو رمضان المبارک کے روزوں کی ادائیگی کے عوض عیدالفطر کی خوشی عطا ہوتی ہے۔ عیدین کا تعلق ہمارے باہمی معاملات سے ہے۔ احکامات کی بجا آوری کا صلہ اور انعام ہے۔
اگر ہماری روزمرہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں یہ احساس پیدا ہونا چاہئے اور عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ ہم آئے روز اپنے بہت سے اعزاء و اقارب اور دوست احباب کو کل نفس ذائقۃ الموت کے ارشاد کے مطابق اپنے سے رخصت کرتے ہیں۔ اُن کا رخصت ہونا اصل میں ہمارے لئے دعوتِ فکر ہے کہ ہم نے اپنے لئے کیا ساماں تیار کررکھا ہے؟
شب برات دنیا و آخرت کے سنوارنے کے لئے ایک فکر کا نام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوری کو ختم کرکے قربت کی طرف ایک الارم ہے۔ حب الہٰی اور محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک دعوت ہے۔ جس پر عمل پیرا ہوکر انسان دنیا اور آخرت سنوار سکتا ہے۔ شب برات ہمارے لئے ایک الٹی میٹم ہے کہ اس رات اللہ کی یاد میں اشکبار ہوں۔ یہ رات اللہ کے فیوضات کا بحرِ بیکراں ہے جس میں غوطہ زن ہوکر اپنے من کو سیراب کیا جاسکے۔ لیکن آج کے دور میں ہم اس کے برعکس اس رات کو پٹاخوں اور آتش بازی جیسے کاموں کی نذر کردیتے ہیں۔
شب برات اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اسلام کے اصولوں سے عاری لوگوں کے خلاف ایک نقارہ ہے جس میں باور کروایا جارہا ہے کہ یہ یاس اور قنوطیت تمہارے کئے ہوئے اعمال کی بناء پر ہے۔ اس رات اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف ترغیب دی جارہی ہے۔
مام بیہقی نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کی ہے کہ:
رسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور بہت طویل سجدہ کیا، حتی کہ مجھے گمان ہوا کہ آپ کا انتقال ہوگیا ہے۔ میں اٹھی اور آپ کے پائے اقدس کا انگوٹھا ہلایا وہ ہلا تو پھر میں لوٹ آئی۔ جب آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا اور نماز تمام کی۔ تو فرمایا: اے عائشہ اے حمیرا: کیا تم کو یہ گمان ہوگیا تھا کہ نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم سے زیادتی کی ہے؟ عرض کیا: نہیں خدا کی قسم! یارسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیکن آپ کے طویل سجدہ نے مجھے وفات کے خوف میں مبتلا کردیا تھا۔ فرمایا: کیا تم جانتی ہو کہ یہ کونسی رات ہے؟۔ عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے۔ فرمایا: پندرھویں شعبان کی رات ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ اس رات میں اپنے بندوں پر ظہور فرماتا ہے تو توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور رحم چاہنے والوں پر رحم فرماتا ہے اور کینہ پروروں کو جیسے وہ تھے۔ اسی پر رکھتا ہے۔
شعب الایمان، رقم :3835

ye hadeeth mouzoo(man gharat) hai .... ap is ki authenticity check karein plz.

Ap authentic hadith share kije plz.
If you dont mind please tell me What is your maslak ?

maslak ???

kiya itna kafi nahi hai keh hum musalman hain ??

Nabi Pak s.a.w.w ne apnae akhri khutbae main kaha tha ... keh quran aur meri sunnat ko mazbooti se thamae rakho... tu ye 2 chezein musalman k liyae kafi hain...

maslak jis ka jo bhi ho ... jo na quran main hai na hadeeth main us ko islam main kisi surat shamil nahi kiya ja sakta ...

and for reality of these hadeth ... read this post.

http://vustudents.ning.com/profiles/blogs/reality-about-shab-e-barat

Ji bilkul I read it sis.
15 shaban isn't bidat sis.

RSS

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service