Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

وہ کون سے سوال ہیں کہ انسان قبر میں ان کا سامنا کرے گا اور ہم ان سے پناہ مانگتے ہیں ؟
تو مندرجہ ذیل حدیث میں اسے بیان کیا گیا ہے ۔

براء رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری صحابی کے جنازہ میں شرکت کے لۓ گۓ تو جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو ابھی قبر کھودی نہیں گئ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گۓ اور ہم بھی ان کے ارد گرد اس طرح بیٹھ گۓ ہمارے سروں پر پرندے منڈلا رہے ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے وہ زمین کو کرید رہے تھے تو انہوں نے اپنے سر کو اٹھایا اور فرمانے لگے – اور دو یا تین دفعہ یہ کہا کہ :

عذاب قبر سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرو پھر فرمانے لگے : جب مومن شخص دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو آسمان سے روشن چہروں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں گویا کہ ان کے چہرے سورج ہوں تو اس کے پاس حد نظر تک بیٹھ جاتے ہیں ان کے پاس جنت کے کفنوں میں سے کفن اور جنت کی خوشبووں میں سے ایک خوشبو ہوتی ہے تو موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا اور اس سے کہتا ہے کہ اے اچھی اور نیک روح اپنے رب کی مغفرت اور بخشش اور رضا کی طرف نکل چل تو وہ اس طرح بہہ نکلتی ہے جس طرح کہ مشکیزے کی منہ سے قطرہ بہتا ہے تو جب اسے پکڑتے ہیں تو اسے لمحہ بھر بھی اپنے ہاتھوں میں نہیں رکھتے اور فورا اسے اس کفن اور خوشبو میں کر لیتے ہیں تو اس سے ایسے کستوری کی خوشبو آنی شروع ہوتی ہے جو کہ زمین پر سب سے اچھی پائی جاتی ہو تو اسے لے کر اوپر چلے جاتے ہیں اور جس فرشتے کے پاس سے بھی گزرتے ہیں وہ کہتا ہے کہ یہ کس کی اتنی اچھی روح ہے ؟ تو انہیں جواب میں وہ نام بتایا جاتا ہے جس سے دنیا میں وہ سب سے اچھے نام کے ساتھ پکارا جاتا تھا کہ فلاں بن فلاں ہے حتی کہ اسے آسمان دنیا پر لے جاتے ہیں تو اسے کھلوایا جاتا ہے تو کھول دیا جاتا ہے تو ہر آسمان پر اس کا استقبال کرنے والے دوسرے آسمان تک لے جاتے ہیں حتی کہ وہ ساتویں آسمان تک لے جایا جاتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اللہ تعالی فرماتے ہیں :

میرے بندے کی کتاب ساتویں آسمان میں علیین کے اندر لکھ دو اور اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ کیونکہ میں نے انہیں اس سے ہی پیدا کیا اور اسی میں واپس لوٹاؤں گا اور اسی میں سے دوبارہ نکالوں گا اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹایا جاتا تو دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے اور اس سے کہتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے میرا رب اللہ تعالی ہے پھر اسے کہتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے میرا دین اسلام ہے پھر اسے کہتے ہیں کہ وہ جو تیرے پاس مبعوث کر کے بھیجا گیا وہ کون ہے ؟ وہ جواب میں کہتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو وہ اس سے کہتے ہیں کہ تیرے عمل کیسے ہیں ؟ وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں نے اللہ تعالی کی کتاب کو پڑھا تو اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ۔ تو آسمان سے منادی کرنے والا آواز لگاتا ہے میرے بندے نے سچ کہا ہے اس کا بستر جنت کا بچھاؤ اور اسے لباس بھی جنت کا پہناؤ اور اس کے لۓ جنت کی طرف دروازہ کھول دو تو اس درواز ے سے جنت کی خوشبو اور ہوا آتی ہے اور اس کی قبر حد نظر تک وسیع کر دی جاتی اور اس کے پاس خوش باش چہرے والا اور اچھے لباس اور اچھی خوشبو میں ایک شخص آکر کہتا ہے تجھے ایسی خوشخبری ہے جو کہ تیرے لۓ خوشی کا باعث ہے یہی وہ دن ہے جس کا تیرے ساتھ وعدہ کیا جاتا رہا ہے وہ اس سے سوال کرے گا کہ تو کون ہے ؟ تیرے چہرے سے تو خیر اور بھلائی ہی جھلکتی ہے تو وہ اسے جواب دے گا میں تیرے اعمال صالحہ ہوں تو وہ آدمی کہے گا اے رب قیامت قائم کر دے تا کہ میں اپنے اہل وعیال میں واپس جا سکوں ۔

اور جب کافر شخص دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اترتے ہیں اور ان کے پاس ٹاٹ ہو گا (یعنی کھردرا کپڑا) تو اس کے پاس حد نگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتا اور کہتا ہے اے گندی اور خبیث روح اللہ تعالی کے غضب اور ناراضگی کی طرف چل تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روح پورے جسم میں پھیل جاتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جب وہ نکلتی ہے تو اس کے ساتھ رگیں اور پٹھے ٹوٹنے لگتے ہیں جس طرح کہ بھیگی ہوئی روئی سے سیخ کھینچی جاتی ہے تو وہ اسے پکڑ لیتے ہیں اور لمحہ بھر بھی اپنے ہاتھوں میں نہیں رکھتے اور فورا اسے اس ٹاٹ میں لپیٹ دیتے ہیں تو اس سے اتنی گندی بو اٹھتی ہے جیسے زمین میں کسی مردار کی ہو تو اسے لے کر اوپر چلے جاتے ہیں اور جس فرشتے کے پاس سے بھی گزرتے ہیں وہ کہتا ہے کہ یہ کس کی اتنی گندی اور خبیث روح ہے ؟ تو انہیں جواب میں وہ نام بتایا جاتا ہے جس سے دنیا میں وہ سب سے برے نام کے ساتھ پکارا جاتا تھا کہ وہ فلاں بن فلاں ہے حتی کہ اسے آسمان دنیا پر لے جاتے ہیں تو اسے کھلوایا جاتا ہے تو اسے نہیں کھولا جاتا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی:

< ان کے لۓ آسمان کے دروازے نہیں کھولیں جائیں گے اور وہ لوگ کبھی جنت میں نہ جائیں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے نکے میں داخل نہ ہو جائے > الاعراف /40

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی فرمائے گا: میرے بندے کی کتاب سجین سب سے نچلی زمین میں لکھ دو اور اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ کیونکہ میں نے انہیں اس سے ہی پیدا کیا اور اسی میں واپس لوٹاؤں گا اور اسی میں سے دوبارہ نکالوں گا تو اس کی روح کو وہیں سے پھینک دیا جاتا ہے اور راوی کہتے ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی :

< اور جو شخص اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی دور دراز کی جگہ پر پھینک دے گی > الحج / 31

تو انہوں نے کہا کہ اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹایا جاتا ہے تو دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے اور اس سے کہتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے ہاۓ ہاۓ مجھے تو علم نہیں- پھر اسے کہتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے ہاۓ ہاۓ مجھے تو علم نہیں تو آسمان سے منادی کرنے والا آواز لگاتا ہے اس کے لۓ جہنم کا بستر دو اسے جہنم کا ہی لباس پہنا دو اور جہنم کی طرف دروازہ کھول دو تو انہوں نے کہا کہ اس دروازے سے جہنم کی گرمی اور لو آۓ گی اور اس پر قبر اتنی تنگ ہو جائے گی کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے سے مل جائیں گی اور اس کے پاس برے چہرے اور قبیح شکل اور گندے اور برے کپڑوں پہنے اور اس سے بری بدبو آرہی ہو گی آکر کہتا ہے تو ایسی خبر سن جسے تو برا محسوس کرے گا یہی وہ دن ہے جس کا تیرے ساتھ وعدہ کیا جاتا رہا ہے وہ اس سے سوال کرے گا کہ تو کون ہے ؟ تیرے چہرے سے برائی اور شر جھلک رہا ہے وہ اسے جواب دے گا میں تیرے برے اور خبیث اعمال ہوں تو وہ آدمی کہے گا اے رب قیامت قائم نہ کر قیامت قائم نہ کر – ابو داؤد (4753) مسند احمد (18063) اور یہ الفاظ مسند احمد کے ہیں ۔

علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الجامع (1676) میں صحیح قرار دیا ہے ۔

Views: 224

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by shabbir ghuman on October 10, 2012 at 9:00am

yeh to akhrat kai swal hai ,,,,dunya kai swal yeh hai kai,

kaya aap mazoor hai

kaya aap mentaly retired hai

kaya aap non muslim hai

Agr aap sai sab nahien hai to phir aap namaz kiyun nahien pertay,,,

Comment by + LAYMAN on October 10, 2012 at 7:54am

thanks

Comment by + LAYMAN on September 28, 2012 at 10:02pm

thanks all

Comment by + !!!PἇƦÎzἇἇÐ ₱ἇƦÎѠÎ₰h!!! on September 28, 2012 at 7:57pm

SUBHANALLAH!!!JAZZAKALLAH!!!VERY NICE SHARING!!!!

Comment by ♥♥Let it Grow♥♥ on September 28, 2012 at 7:46pm

thanks for this information.

Comment by Duaa Batool on September 28, 2012 at 1:21pm

nice sharing

Comment by Sana Sunny ツ on September 28, 2012 at 10:52am
need to think ,,,,,,,,,,,
Comment by + LAYMAN on September 28, 2012 at 7:29am

thanks

Comment by Duaa Batool on September 27, 2012 at 9:53pm

Comment by + Fatima on September 27, 2012 at 9:29pm

Approved by me

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service