We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

:::Wo Millat Rooh Jis Ki Laa Sy Agy Barh Nahi Skti ....

Yaqeen Maano Huwa Lebraiz Os Millat Ka Paimana...

Huramat e Rassol Par Jaan B Qurban hy.........



رب کائنات کے حکم کے مطابق سرور کائنات رحمت اللعالمین رسول اکرم کا ارشاد پاک ہے کہ

اس وقت تک کوئی شخص پکا اور سچا مومن اور مسلمان نہیں ہو سکتا ہے جب تک وہ آپ سے دنیا کی ہر شے سے زیادہ محبت نہیں کرتا۔ یعنی عشق رسول پاک ہی سچے اور پکے مومن اور مسلمان کی معراج اور پہچان ہے۔

قیام پاکستان سے قبل ایک بدبخت ہندو راج پال جو کہ ہسپتال روڈ لاہور پر کتابوں کی چھپائی کا تاجر تھا، نے رسول پاک کی ذات کے متعلق ایک نہایت ہی دلآزار کتاب شائع کی اور منظم طریقے سے اسے پورے ہندوستان میں تقسیم کرایا گیا۔ حکومت وقت ہندو میڈیا اور ہندو بنیا پورے تن من دھن سے اس مسئلے کی پشت پناہی کر رہا تھا۔ کتاب کی اشاعت کے بعد پورے ہندوستان کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں نے تمام ہندوستان میں جلسے اور جلوس پوری شدت کے ساتھ جاری رکھے اور پرزور احتجاج مسلسل جاری رکھا۔ مسلمانوں کا متفقہ مطالبہ یہ تھا کہ کتاب کو فی الفور ضبط کیا جائے، لیکن فرنگی سرکار نے نہ تو کتاب کی ضبطی کا حکم دیا اور نہ ہی راج پال کو سزا دی گئی بلکہ انگریز حکومت نے راج پال کی حفاظت کےلئے سرکاری گارڈ لگا دی اور یوں بدبخت راج پال ہر وقت سرکاری حفاظت میں رہنے لگا۔ اس سخت ترین دل آزاری، ظلم، جانبداری اور ہٹ دھرمی کے بعد ہندوستان کے مختلف کونوں سے مسلمان لاہور آئے اور راج پال کو قتل کرنے کی کوشش میں ناکام رہے۔ کئی گرفتار ہوئے اور سخت ترین سزاﺅں کا سامنا کیا لیکن راج پال کی قسمت لاہور کے نوجوان علم الدین کے مقدر میں لکھ رکھی تھی۔ علم الدین نے مکمل منصوبہ کے ساتھ 6 اپریل 1929ءکو ہسپتال روڈ لاہور پر بیٹھے بدبخت راج پال کو واصل جہنم کیا

 Ghazi Ilam U Din

اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوئی کہ مسلمان اور ہندو علیحدہ علیحدہ قومیں ہیں۔ وہ کسی بھی صورت ہندوستان میں اکٹھے نہیں رہ سکتے بلکہ مسلمانوں کی منزل ایک علیحدہ ملک ہے جو بعد میں پاکستان کی صورت میں دنیا کے نقش پر ابھرا۔

اس واقعہ پر شاعر مشرق کو یہ تاریخی فقرہ کہنا پڑا کہ ہم ساری زندگی فلسفہ پڑھتے پڑھاتے رہے لیکن عشق رسول میں کوئی مقام حاصل نہ کر سکے لیکن ایک نوجوان علم الدین نے عشق رسول کا ایک ایسا باب رقم کیا کہ چند لمحوں میں عاشق رسول ثابت ہوا اور غازی اور شہید کے

عظیم رتبے پائے۔


غازی علم الدین شہید 4 دسمبر 1908ءسریانوالہ بازار کوچہ چابک سواراں رنگ محل لاہور میں پیدا ہوئے۔ غازی صاحب کے خاندان کے ایک بزرگ حضرت برخوردار کا مزار موضع بڈانہ ہڈیارہ روڈ لاہور میں آج بھی مرجع خاص و عام ہے۔ آپ کے دادا کا نام عبدالرحیم اور والد کا نام میاں طالع مند تھا۔ آپ کا خاندان خالصتاً مذہبی گھرانہ تھا۔ آپ کا خاندان فرنیچر سازی کا کاروبار کرتا تھا۔ میاں طالع مند 1900ءسے چند سال پہلے افریقے چلے گئے اور وہاں بھی فرنیچر سازی کے کام سے منسلک رہے۔ میاں طالع مند 12سال کے بعد افریقہ سے واپس آئے۔ ان کی شادی چراغ بی بی سے ہوئی جن کے بطن سے دو بیٹے محمد دین اور علم الدین اور بیٹی معراج بی بی پیدا ہوئیں۔ غازی علم الدین شہید نے دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد فرنیچر سازی میں اپنے والد کا ہاتھ بٹایا۔ طالع مند ایک بہترین کاریگر تھے۔ دہلی (انڈیا) میں حیدرآباد ہاﺅس میں فرنیچر سازی کا کام بھی میاں طالع مند نے کیا۔ اس کام میں والد کی معاونت غازی علم الدین شہیدؒ نے کی۔ بعد ازاں میاں طالع مند کوہاٹ میں فرنیچر سازی کا کاروبار کرتے تھے۔

راج پال کے قتل پر پورے ہندوستان کے ہندو اکھٹے ہو گئے۔ رقم کے انبار لگا دیے۔ وقت کی حکومت بھی ان کے ساتھ تھی۔ پہلی پیشی پر آپ کے خاندان نے کسی قسم کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ غازی صاحب کو مقام شہادت مطلوب تھا۔ بعد ازاں لاہور کے نامور وکیل فرخ حسین ایڈووکیٹ بار ایٹ لاءنے بذات خود عدالت میں پیش کر دیا۔ دیگر وکلاءاور معززین میں خواجہ فیروزالدین، خواجہ نیاز احمد، سلیم احمد، میاں تصدق حسین خالد اور کئی دوسرے نامور لوگوں نے کیس کی پیروی کے سلسلے میں معاونت اور مشاورت سیشن کورٹ نے 22مئی 1929ءکو غازی صاحبؒ کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ بعد ازاں یہ کیس ہائی کورٹ لاہور میں گیا۔ میاں طالع مند اور فتح محمد شیر فروش پر مشتمل وفد بمبئی گیا اور قائداعظم محمد علی جناح سے ملاقات کرنے کے بعد انہیں بطور وکیل پیش ہونے کو کہا قائداعظم نے کہا کہ متعلقہ وکیل کو بمبئی بھیجا جائے۔ بعدازاں فرخ حسین ایڈووکیٹ (باریٹ لائ) بمبئی گئے۔ ان کی واپسی پر قائداعظم نے ایک خط کے ذریعے کیس کی پیروی کے متعلق اطلاع دی اور بذریعہ خط و کتابت تمام معاملات طے پائے گئے۔ آپ لاہور کے مشہور ہوٹل فلیٹیز میں ٹھہرے لیکن آپ کا کھانا اس وقت کے نامور وکیل لاہور کے مشہور گھرانہ کے ایک باہمت نامور انسان فرخ حسین ایڈووکیٹ کے گھر سے آتا تھا۔ آپ یہ کھانا کافی پسند کرتے تھے۔ فرخ حسین ایڈووکیٹ اور قائداعظم کے درمیان جو خط و کتابت ہوئی وہ غازی صاحبؒ کے خاندان کے پاس رہی لیکن بعد ازاں محفوظ نہ رہی سکی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بذات خود لاہور ہائی کورٹ میں اس مقدمہ کی پیروی کی اور غازی صاحب کو کچھ خاص پوائنٹس کا اشارہ دیا۔ مقدمہ زیربحث دلائل اور گواہان کے باوجود اس وقت کے چیف جسٹس سر شادی لال نے 17جولائی 1928ءکو فیصلہ سناتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ بحال رکھا۔ جولائی 1929ءمیں فرخ حسین ایڈووکیٹ کی وساطت سے پریوی کونسل لندن میں درخواست دائر کی گئی جو کہ منظور ہو گئی۔ اس مقدمے میں فرخ حسین ایڈووکیٹ کا کردار بھی ناقابل فراموش ہے۔

میاں طالع مند کی خواہش تھی کہ غازی صاحب کو لاہور میں شہادت دی جائے لیکن انگریز سرکار اور اس کی گماشتہ ہندو کی ملی بھگت سے یہ بات بھی 23اکتوبر 1929ءکو مسترد کر دی گئی۔

انگریز سرکار اور ان کے گماشتوں پر اتنا خوف تھا کہ انہوں نے نہایت ہی حفاظتی اور خفیہ طریقے سے غازی صاحبؒ میانوالی جیل میں منتقل کر دیا اور 31 اکتوبر کو 1929ءبروز جمعرات عاشق کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ علم الدین غازی علم الدین شہید بن کر عشاق رسول کی صف میں شامل ہو کر عظیم مرتبہ تک جا پہنچے۔ جیل میں قید کے دوران غازی صاحب سے بعض کرامات بھی بیان کی جاتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق شہادت سے پہلی رات کو جب جیلر صاحب جیل گشت پر تھا تو اس نے عجیب منظر دیکھا کہ جس کوٹھڑی میں غازی صاحب قید میں رکھے گئے تھے وہ خالی ہے۔ کافی شور مچا۔ جیل میں بھگدڑ مچ گئی لیکن جب اعلیٰ افسران اس کوٹھڑی کے قریب پہنچے تو وہ حیران رہ گئے کہ غازی صاحب مصلیٰ پر نماز ادا کر رہے ہیں۔

انگریز سرکار شروع میں غازی صاحب کی لاش بھی دینے سے انکاری تھی۔ کیونکہ اسے زبردست ہنگامے کا خدشہ تھا لیکن اکابرین کی بات چیت کے بعد ایک وفد لاش مبارک کو لینے گیا جن میں مرزا مہدی حسن مجسٹریٹ، سید مراتب علی گیلانی اور غلام حسین مرزا، پولیس انسپکٹر شامل تھے۔

انگریز سرکار نے لاش مبارک میانوالی سے لاہور میں لانے میں بعض کڑی شرائط عائد کیں اور ان سب سے ایک شرط کے مطابق لاش بذریعہ ٹرین میانوالی تا لاہور نان سٹاپ لائی گئی۔ اس بات سے یہ عیاں ہے کہ انگریز حاکم ہونے کے باوجود کس قدر خوف زدہ تھے۔ جسم کے لئے صندوق اور بانس ڈاکٹر محمد دین تاثیر کی نگرانی میں نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں تیار ہوئے۔ تدفین کے سلسلے میں مولانا ظفر علی خان، سید دیدار علی شاہ اور علامہ اقبال سرفہرست تھے۔ پہلی نماز جنازہ قاری محمد شمس الدین اور دوسری سید محمد دیدار علی شاہ الوری نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں 6 لاکھ سے زیادہ عشاق رسول نے شرکت کی۔ ہندوستان میں مقیم وقت کے ولی بھی کونے کونے سے رسول پاک کے عاشق کے دیدار کے لئے لاہور حاضر ہوئے۔

چوک بھاٹی گیٹ لاہور سے موڑ سمن آباد (موجودہ) تک انسانوں کے سر ہی سر نظر آ رہے تھے۔ ذکر خدا اور ورد محمد مصطفی ہر زبان سے جاری تھا۔ نماز جنازہ جس جگہ پر ادا کی گئی وہ چوبرجی چوک سے موجودہ موڑ سمن آباد کے درمیان دائیں ہاتھ تھی۔ آج کل وہاں پر ایک سرکاری محکمہ کی رہائشی کالونی کے ساتھ ساتھ بعض بہترین اور پوش آبادیاں بھی قائم ہیں۔ غازی صاحبؒ کی وصیت کے مطابق آپ کی ذاتی اشیاءاور کپڑے آپ کے عزیز و اقارب میں تقسیم کر دیے گئے۔ غازی علم الدین شہید نے عشق رسول پاک میں جام شہادت نوش کر کے سرور کائنات حضرت محمد کے عشق کا ایک باب رقم کیا۔ آپ کو قبر مبارک میں اتارنے کا شرف سید دیدار علی شاہ اور علامہ اقبال کے حصہ میں آیا۔ غازی علم الدین شہیدکے خاندان نے بعد ازاں اپنا آبائی مکان فروخت کر دیا۔ آج کل غازی علم الدین شہید کے خاندان کے لوگ اقبال ٹاﺅن اور ٹاﺅن شپ لاہور میں آباد ہیں۔ طالع مند ہاﺅس ٹاﺅن شپ لاہور میں واقع ہے۔ حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ غازی صاحب کے آبائی گھر کو غازی علم الدین شہید کے نام پر قومی لائبریری بنانے، غازی صاحب کے مقدمہ کی فائل کو لاہور کے عجائب گھر میں محفوظ کرے۔ جہاں تک مزار پاک کا تعلق ہے گذشتہ سالوں کی بارشوں سے کافی شکستہ ہو گیا تھا۔ غازی علم الدین شہیدؒ سوسائٹی لاہور نے اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ تعمیر کرایا ہے۔ غازی صاحب کے سگے بھتیجے شیخ رشید احمد (حال ہی میں انتقال فرما گئے ہیں)۔

ایک ریٹائرڈ آفیسر تھے اور سوسائٹی کے چیئرمین مجلس عاملہ تھے اب ان کے بھائی اور غازی صاحب کے چھوٹے سگے بھتیجے شیخ رفیق احمد، غازی علم الدین شہید سوسائٹی کے چیئرمین ہیں۔ سوسائٹی نے ہر سال اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں اسلامی علوم میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے ہونہار طالب علم کو غازی علم الدین شہید ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ سیرت پاک کے متعلق تحریر پر ایک شیلڈ بھی دی جاتی ہے۔ سوسائٹی اس پاک ہستی کے نام پر کسی قسم کی چندہ بازی کے خلاف ہے۔ صرف اور صرف عشق رسول پاک اور عقیدت رسول پاک مقصود ہے۔ بڑے بڑے اہل دل عشاق رسول پاک اور محبت اکرم کے حصول کے غازی صاحب کے مزار پر حاضری دیتے ہیں اور فاتح خوانی کرتے ہیں۔ غازی صاحب کا مزار پاک لاہور کے مشہور قبرستان میانی صاحب نزد چوبرجی چوک لاہور میں آج بھی مرجع و خاص و عام ہے۔

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 930

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by me :( on May 20, 2013 at 12:49pm

Comment by +<% Shining Eyes %>+ on March 16, 2013 at 8:51pm

best...............

Comment by _Mr-_-_-_cOoL_ on March 9, 2013 at 11:09pm

hmmmmmmm gud one

Comment by waqarriaz on December 27, 2012 at 10:23am

Subhanallah

 

Comment by + ((( Ĕɱᾄαᾗ ))) on December 15, 2012 at 12:23pm

Thnx allllz

Comment by + Almas on December 12, 2012 at 7:27pm

good work

Comment by Talha Basharat on November 28, 2012 at 8:09pm

GOOOOOOOD

Comment by saba saleem on November 28, 2012 at 7:05pm

Comment by saba saleem on November 28, 2012 at 7:05pm

GRT,,,,,,,,,,,

Comment by Night Raider on November 22, 2012 at 4:14pm

Jazak ALLAH

Latest Activity

Profile IconShayaan, Hafiz muhammad sufyan, Hafiz habib ur rehman and 27 more joined Virtual University of Pakistan
9 seconds ago
+ ! ! ! ! ! ! ReBeL replied to ٥ دن's discussion Gunahon ki gehrai
28 minutes ago
MUHAMMAD USMAN replied to MIT's discussion cs604 Quize#1 fall semester 2019 in the group CS604 Operating Systems
38 minutes ago
+ ! ! ! ! ! ! ReBeL replied to +¢αяєℓєѕѕ gιяℓ's discussion Iss tasvir ko Unwan Dein :-P
44 minutes ago
مخلص posted a discussion
52 minutes ago
ambreen fatima and Muhammad Hamza Mehmood are now friends
59 minutes ago
MIT added a discussion to the group CS604 Operating Systems
1 hour ago
sardarni liked + M.Tariq Malik's discussion MCM531 Community Journalism Assignment No 01 Fall 2019 Solution & Discussion Due Date: 22-11-2019
1 hour ago
sardarni joined + M.Tariq Malik's group
1 hour ago
blackeagle replied to + M.Tariq Malik's discussion EDU402 Curriculum Development Assignment No 01 Fall 2019 Solution & Discussion in the group EDU402 Curriculum Development
2 hours ago
sardarni joined + M.Tariq Malik's group
2 hours ago
sardarni joined + M.Tariq Malik's group
2 hours ago
+ "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •" replied to +¢αяєℓєѕѕ gιяℓ's discussion Shadi Ho Rhi Hai Alhamdulillah.......... (^__^)!
2 hours ago
+ "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •" replied to + "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •"'s discussion Happy Marriage to "Zee" & " Nomi weds Noor"....!
2 hours ago
+ "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •" liked +¢αяєℓєѕѕ gιяℓ's discussion Shadi Ho Rhi Hai Alhamdulillah.......... (^__^)!
2 hours ago
+ "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •" replied to +¢αяєℓєѕѕ gιяℓ's discussion Iss tasvir ko Unwan Dein :-P
3 hours ago
+ "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •" liked +¢αяєℓєѕѕ gιяℓ's discussion Iss tasvir ko Unwan Dein :-P
3 hours ago
+ "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •" replied to +¢αяєℓєѕѕ gιяℓ's discussion Wo Naraz Ho Tabhe bhi....!
3 hours ago
+ "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •" liked +¢αяєℓєѕѕ gιяℓ's discussion Wo Naraz Ho Tabhe bhi....!
3 hours ago
+ "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •" replied to +¢αяєℓєѕѕ gιяℓ's discussion Best Places To Propose Someone :-P
3 hours ago

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service