We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

ایک زندہ اور خوبصورت قوم کی ایک خوبصورت کہان

ایک زندہ اور خوبصورت قوم کی ایک خوبصورت کہانی ایک سچا واقعہ تاریخ سولہ مارچ 2011 شام کا وقت ھے مقام فوکو شیما جاپان آج زلزلے کو پانچ دن گزر چکے ہیں . ایک مقامی سکول میں ایک چیئرٹی آرگنائزیشن پناہ گزینوں میں خوراک تقسیم کر رہی ہے. ایک بہت لمبی قطار میں لوگ اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہیں. قطار کے آخر پر ایک نو سال کا ایک ایسا معصوم بچہ بھی کھڑا ہے جس کے ماں باپ کو سونامی کا ایک ظالم ریلہ اس کی آنکھ
وں کے سامنے بہا کر لے گیا تھا وہ اس وقت تیسری منزل پر موجود تھا اس لئے بچ گیا اس سیلاب میں اس کے تمام رشتہ دار بہہ گئے تھے . بچہ قطار میں کھڑا سردی سے آہستہ آہستہ کانپ رہا ہے اس نے صرف ایک نیکر اور ٹی شرٹ پہنی ہوئی ہے اور شام کے اترنے کے ساتھ سردی بھی بڑھتی جا رہی ہے. ایک پولیس مین کی نظر اس پر پڑتی ہے وہ اس کے قریب جاتا ہے اپنی جیکٹ اتار کر اس کو پہنا دیتا ہے پھر اپنے حصے کی خوراک کا پیکٹ بچے کو دے کر کہتا ہے بیٹا قطار بہت لمبی ہے شاید آپ کی باری آنے سے پہلے خوراک کا ذخیرہ ختم ھو جائے. آپ میرے حصے کی خوراک لو اور جا کر آرام کرو سردی زیادہ ھو رہی ہے ب
یمار ھو جاؤ گے . بچے نے پیکٹ لیا اور خاموشی سے جا کر خوراک کے ڈھیر پر رکھ آیا اور پھر قطار میں کھڑا ہوگیا. پولیس والے نے پوچھا بیٹا آپ نے ایسا کیوں کیا یہ خوراک تو میں نے آپ کے کھانے کیلئے دی تھی . نو سال کا بچہ بولا : سر آپ کا شکریہ لیکن یہاں قطار میں مجھ سے بھی کہیں زیادہ بھوکے لوگ موجود ہیں. اگر ان کی ضرورت سے زیادہ کھانا بچ گیا تو میں بھی کھا لوں گا . ورنہ ایک رات کی بھوک تو برداشت کر ہی لوں گا. آ پ کا کیا خیال ہے شاید صرف ایک بچے کے والدین اچھے تھے جنہوں نے اس کی اتنی اچھی تربیت کی تھی ؟ نہیں. . . سونامی کے چھ ماہ بعد جب عام جاپانی شہریوں کو ملبے کے ڈھیروں سے سات کروڑ اسی لاکھ ڈالر کے کرنسی نوٹ اور قیمتی اشیا ملیں تو انہوں نے فورآ پولیس کو اطلاع دی. اسی طرح ایسی چھ ھزار تجوریاں ملیں جن میں 30 ملین ڈالر کی قیمتی اشیا تھیں وہ بھی پولیس کے حوالے کر دیں اور پولیس نے یہ تمام اشیا اور رقوم بچ جانے والے افراد کو ڈھونڈ کر ان تک پہنچائیں. ایک اور چھوٹا سا واقعہ سناتا ہوں اپنے پیارے ملک پاکستان میں ایک خوفناک بس ایکسیڈنٹ ہوتا ہے کچھ فریبی آبادیوں کے لوگ وہاں پہنچتے ہیں وہ لوگ ان کی جانیں بچانے کیلئے کچھ نہیں کرتے بلکہ زخمیوں اور فوت ھو جانے والوں کا قیمتی سامان اور رقوم سمیٹ کر چل دیتے ہیں. ایک زخمی خاتون ان کو آواز دے کر کہتی ھے کہ میرا قیمتی زیور لے لو مگر میرے معصوم زخمی بیٹے کی جان بچا لو . مجھے اور کچھ نہیں کہنا اقبال کا ایک شعر ھے.
رحمتیں تیری ہیں اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ھے تو بیچارے مسلمانوں پر
آپ کے خیال میں رحمتوں کا حقدار کون ھے اور برق سے جلائے جانے کا حقدار کون؟
خود بھی پڑھیں اور دوستوں کو بھی شیئر کریں


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 366

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by me :( on November 8, 2012 at 11:28pm

Comment by Duaa Batool on November 8, 2012 at 11:31am
Comment by + Ali on November 8, 2012 at 8:24am

nice blog. keep it up

Comment by + Ali on November 8, 2012 at 8:01am

yeah man 

Comment by Duaa Batool on November 8, 2012 at 12:18am

Approved
thora sa font size large kar day to post zada achi lagy gi

Looking For Something? Search Here

Today Top Members 

HELP SUPPORT

This is a member-supported website. Your contribution is greatly appreciated!

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.