We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>


Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی


انقلاب ایک تبدیلی کا نام ہے۔ ایسی تبدیلی جو ذہنی اور جسمانی تبدیلی سے وجود میں  آتی ہے۔ مادی واقعات و حالات بھی بعض وقت انسان میں  ظاہری تبدیلی لاتے ہیں ، لیکن مادی بدلاؤ سے رونما ہونے والی تبدیلیاں  عارضی ہوتی ہیں ۔ ذہن کی تبدیلی تا دیر قائم رہنے والی ہوتی ہے۔ کوئی بھی فردکی تبدیلی ماحول کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بعض وقت ایک فرد کی تبدیلی پورے افراد کی تبدیلی میں  بدل جاتی ہے۔ جیسے سوامی اسیمانند کی ذہنی تبدیلی جہاں  سنگھ پریوار کے لیے پریشانی کا باعث ہے، وہیں  مسلمانوں  کے بے شمار دکھی گھرانوں  میں  خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ ایک فرد کی ذہنی تبدیلی ہے ۔یہ چونکہ ہمارے سامنے کی بات ہے ، سب کو اس کی تبدیلی کا علم ہے، اس لیے اس انقلاب کا ہمیں  علم ہے۔ لیکن ایسے بھی انقلاب ہیں  جو خاموش آتے ہیں ۔ یہ افراد کی کوششوں  ہی کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔ جیسے کوئی مرد یا عورت مسلسل اچھے کام کر رہے ہیں تو انجام کے طور پر انہیں  اچھائی ہی ملے گی۔ اور جو برے کام میں  مصروف ہیں  تو ایک نہ ایک دن ان کا انجام برا ہی ہوگا۔ یہ یقینی بات ہے۔ جیسے کوئی مسلسل لکھ رہی ہے تو اس کی کتاب جلد شائع ہوگی، ایک عورت ہے جو کبھی کبھار لکھتی ہے تو اس کی کتاب شائع کرنے کا مواد اکٹھا نہیں  ہوگا، طویل عمرکے باوجود کتاب شائع نہیں  ہوگی۔میں  ایک اورمثال دیتی ہوں  ، جیسے آپ کے دو لڑکے ہیں ، ایک ہی گھر میں  پلے بڑھے، ایک اپنے اسکول کے کام کاج روز کرتا ہے، دوسرا کاہلی کرتا ہے، دن دیر گئے اٹھتا ہے، ہوم ورک نہیں  کرتا، گھر میں  بنائے گئے چھوٹے موٹے قوانین کی پاسداری نہیں  کرتا، تو دھیرے دھیرے آپ کا محنتی لڑکا آگے بڑھتا جائے گا، اور کاہل لڑکا پیچھے پڑتا جائے گا، ایک سال کے بعد جو نتیجہ ہوگا وہ اچھے کا اچھا ہوگا، اور برے کا برا ہی ہوگا۔ ہم جتنے اچھے کام کرتے جائیں  گی ، اتنا اچھائی میں  حصہ پائیں  گی۔ ہم جتنے برے کام کرتے جائیں  گے، اتنے فیصد برا نتیجہ ہمارا انتظار کر رہا ہوگا، گو بعض کاموں  کا انجام جلد نکلتا ہے۔ اور بعض کاموں  کا نتیجہ دیر سے نکلتا ہے۔جب نکلتا ہے تو لوگوں  کی نظر میں  جو ان حالات سے نا واقف تھے ، ایک انقلاب ہوگا۔ اور یہی انقلاب ہوتا ہے۔ یہ افراد کی زندگی میں  آنے والے انقلاب ہیں ، اسی طرح قوموں  کی زندگی میں  بھی، انقلاب آتے ہیں ۔جو قوم کے مجموعی کام کا ردِعمل ہوتے ہیں ، قوموں  کے انقلاب کی تاریخ پر جب نظر کی جائے تو ہمیں  معلوم ہوتا ہے کہ اس کہ پیچھے تین طرح کی شخصیتں  کام کرتی ہیں ۔ایک اساتذہ، دوسرے سماجی رہنما، تیسرے مذہبی رہنما،آج کے معاشرے میں  یہ شخصیتیں  کردار کی آلودگی کا شکار ہیں ۔سماج میں  جتنی برائیاں  ہیں  ،وہ ساری مجموعی طور پر ان میں  موجود ہیں ، اب ایسے میں  عورت بہ حیثیت ماں  اپنے بچوں  کو سدھار سکتی ہے ۔ کیوں کہ ماں  کا رشتہ کوئی بھی دور آئے،ماں  ماں  ہی رہے گی۔ ماں  کی محبت اپنی اولاد کے لیے کم نہ ہوگی ۔ اس لیے ماں  جیسی ہوگی بچہ ویسا ہو گا، پرانی کہاوتیں  کتنی صحیح ہیں ، جیسا آٹا ویسی روٹی،جیسا میدہ ویسا کیک، جیسی مٹی ویسی فصل، جیسی کھاد ویسی فصل وغیرہ

میں  جو اتنی تمہید باندھ رہی ہوں  صرف یہ کہنے کے لیے کہ کوئی بھی انقلاب از خود اوپر سے برسات کی طرح ٹپکتا نہیں  ہے ۔انقلاب ہمارے دروازوں  پر آکر دستک نہیں  دیتا ہے۔انقلاب یہ نہیں  کہتا کہ دروازہ کھولو، میں  انقلاب ہوں ، لو میں  آگیا۔ میں  آپکے گھر وں  میں  رہنے کے لیے، آپ کو خوشیاں  دینے کے لیے آیا ہوں ، ہر انقلاب ہمارے خون سے کی گئی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے، ہم جس انداز کی محنت کریں  گے، اس انداز کا نتیجہ نکلے گا، منفی انداز کی محنت کا نتیجہ کبھی بھی منفی ہی ہوگا، اور مثبت انداز کا نتیجہ ہمیشہ مثبت ہی نکلتا ہے ، صرف دعائیں  ، جو محنت سے خالی ہوں ، ہماری تقدیریں  نہیں  بدل سکتیں ، اسی لیے کہتے ہیں  ہماری تدبیر ہمیں  ہماری تقدیر کی طرف لے جاتی ہے۔ محنت سے ہر چیز کا حصول ممکن ہے۔لیکن صرف چیزوں  کا حصول ہی زندگی نہ بن جائے، یہ تو ایسا ہوا کہ صرف دوا ہے اور مریض کو جینے کی خواہش ہی نہیں  ، اسی لیے کہتے ہیں  دوا کے ساتھ دعابھی ہونی چاہئے دوا کے ساتھ دعا اور دعا کے ساتھ دوا ، دونوں  لازم و ملزوم ہیں ، یہاں  یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ صرف محنت سے بھی انسان تھک جاتا ہے، اگر اسے مستقبل قریب میں  کسی بڑے انعام کی توقع نہ ہو،یہ کام عقیدہ کرتا ہے۔ اللہ پر یقین انسان کو مستقل مزاج بناتا ہے۔ ناکامیوں  میں  مسکرانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ یہی وہ ایمان ہے جس کے لیے انسان اپنی جان پر کھیل جاتا ہے۔ دوا او ر دعا دونوں  کا صحیح رخ میں  چلنا ، ایک دوسرے کاساتھ دینا ضروری ہے۔ ا س لیے آج ضرورت ہے کہ ہم اپنی کاہلی کو چھوڑ کر اپنے بچوں  کی تربیت صحیح اُصولوں  پر کریں ۔ تاکہ بعد کو پچھتانا نہ پڑے۔ آج بچوں  کو انگریزی پڑھانا وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔ نئی نسل تہذیب سے ، اپنی زبان سے بے بہرہ ہو گئی ہے، آج مسلمان گھرانوں  میں  انگریزی کا چلن عام ہے۔ ایسے میں  ماں  باپ کی ذمہ داری دوہری ہو جاتی ہے کہ اپنے بچوں  کو اپنی تہذیب سے بھی روشناس کرائیں  اوراپنے مذہب پر بھی قائم رہنے کی عادت ڈالیں ، لیکن یہ کام شروع میں  مشکل لگے گا، لیکن دھیرے دھیرے آسانیاں  پیدا ہوں  گی ۔

مگر بغیر کوشش کے صرف دعا سے مسائل حل ہوتے نہیں  ہیں ، ہمیں  منزل کی سمت میں  محنت کرنی ہے، اپنی معلومات میں  اضافہ کرنا ہے، ریسرچ کرنا ہے، لوگوں  سے جنھیں  معلومات ہوتی ہیں  ، کاؤنسلنگ کر وائیں ، خود اپنی عادتوں  کو بدلیں ، بچوں  کو محنت کے عادی بنانے کے لیے خود کو محنت کرنا چاہئے،آپ جیسے ہیں  آپ کے بچے ویسے ہی بنیں  گیں  باپ تو سگریٹ پیتا ہے اور آپ بچہ سے یہ کہے کہ سگریٹ سے صحت خراب ہوتی ہے، تو بچے کے ذہن میں  یہ بات نہیں  آئے گی۔آپ خود تو دیر تک سوتی ہیں اور بچے سے صبح اٹھ کر اسکول جانے کی تو قع فضول ہے۔ خود ماں  کبھی کسی سے ڈھنگ کی بات نہیں  کرتی ہے اور بچوں  سے یہ توقع کہ وہ ساری دنیا سے بات کریں  تو یہ کیوں  کر ممکن ہے۔ اپنی بہو سے بہتر سلوک ناممکن ہے اور اپنی بیٹی کی ساس سے یہ تو قع کہ وہ آپ کی بیٹی کے ساتھ اچھا سلوک کرے یہ کیوں  کر ممکن ہے۔ بچہ تو صرف یہی دیکھتا ہے کہ اس کی ماں  کیا کرتی ہے؟ماں  جو عادتیں  بچوں  کو ڈالتی ہیں ،وہی بڑھپن تک بچے میں  ہوتی ہیں  ، عورت جو کرتی ہے اسی کا اثر بچوں  پر پڑتا ہے، انقلاب عورت کی گود سے شروع ہوتا ہے، ماں  کی عادتوں  سے رونما ہوتا ہے۔ اورپھر سماج میں  پھیل جاتا ہے اس لیے کہا گیا ماں  کے قدموں  کے نیچے جنت ہے۔ مستقبل میں  آنے والا انقلاب آپ کو بہتر ماں  کے لقب سے یاد کرنے کے  لیے منتظر کھڑا ہے۔کیا آپ اپنی عادتوں  میں  تبدیلی لانے کا جتن کریں  گی؟

جس میں  نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی

روحِ اُمم کی حیات کشمکشِ انقلاب۔(یو این این)

Share This With Friends......

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.

This Content Originally Published by a member of VU Students.

+ Prohibited Content On Site + Report a violation + Report an Issue


..How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?..


Views: 147

See Your Saved Posts Timeline

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by ayesha rashid on April 29, 2013 at 10:55pm

nyc

3nbymend0tcib Comment by 3nbymend0tcib on April 29, 2013 at 7:51pm

nice sharing.......aeshoooo

Study Corner For DigiSkills Students

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service