We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

رمضان اور من گھڑت فضائل

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ،
ماہ رمضان اپنی تمام برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ جاری ہے اس ماہ کے روزے ہم پر اسی طرح فرض ہیں جس طرح ہم سے پہلی امتوں پر فرض کیۓ گۓ تھے۔ تمام دنیا کے مسلمان روزہ رکھنے کا ساتھ ساتھ تراویح اور دوسری عبادات میں شب و روز مصروف ہیں۔ مساجد میں نمازیوں کی تعداد معمول سے زیادہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے بہت سے مسلمانوں پر نمازیں صرف اسی ماہ میں فرض ہیں۔ کیونکہ مساجد میں نمازیوں کی اتنی تعداد رمضان کے علاوہ نظر نہین آتی۔ حالانکہ نماز تو مسلمانوں پر رمضان کے علاوہ بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح رمضان میں۔
اس ماہ مبارک کی عظمت سے تو ہر مسلمان واقف ہے۔ اور ہر مسلمان کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ اس ماہ کی برکتیں اور سعادتیں اپنے دامن میں سمیٹ لے اور اس کے نتیجے میں اللہ کے خصوصی فضل و کرم کا حقدار ٹھرے۔
بات جب اس ماہ کے فضائل کی ہو تو یہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ بہت ہی فضیلت والا مہینہ ہے۔
مثلا قران کا اس مہینہ میں نازل کیا جانا،
جنت کے دروازوں کا کھول دیا جانا۔
شیطان کو قید کر دیا جانا
اللہ تعالی کا عزوجل کا ارشاد کہ روزہ میرے لیۓ ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گآ۔
روزہ کا روز قیامت روزہ دار کی سفارش کرنا
شب قدر کہ جس شب عبادت ایک ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے۔
روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیاد اچھی۔
اس ماہ میں عمرہ ادا کرنے کا ثواب حج کے ثواب کے برابر۔
جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے اس ماہ کے روزے رکھے اسے جنت کی خوش خبری۔
ان کے علاوہ بھی اس ماہ مبارک کے ان گنت فضائل ہیں جو کہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں اور ہمارے علماء اپنی تقاریر اور مضامین وغیرہ میں اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ان فضائل سے قطع نظر ایک مسلمان کے لیۓ رمضان کے روزے رکھنے کا ایک ہی سبب کافی تھا کہ اللہ تعالی نے نے یہ روزے ہم پر فرض کیۓ ہیں۔ اور صرف ہم پر نہیں روزے تو پچھلی امتوں پر بھی فرض تھے۔ اور پھر جب ان فضائل کا ذکر ہوتا ہے تو پھر اس ماہ کی عظمت مسلمانوں کے دلوں میں اور بڑھ جاتی ہے۔ اور پھر وہ اور زیادہ زوق و شوق سے اس ماہ میں روزہ رکھنے اور دوسری عبادات میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
لیکن ان سب فضائل ، جو کہ قران اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں، کے با وجود ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کہ ہر معاملہ مین خود ساختہ اور ایسے فضائل پیش کر تا ہے جو کہ قران اور حدیث سے ثابت نہیں ہیں۔ شائد وہ قران و حدیث کو ناکافی سمجھتے ہیں۔ نماز ہو، حج ہو، روزہ ہو یا کوئ اور عبادت یہ اپنے ہی ایجاد کردہ فضائل کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔ ذیل میں رمضان کے حوالے سے میں ان کی ایجاد کردہ فضائل پیش کر رہا ہوں۔ جو کہ الیاس قادری کی تصنیف فیضان سنت سے لیۓ گۓ ہیں۔ حوالہ ہے کتاب "میٹھی میٹھی سنتیں یا‏؟؟؟ صفحہ 219 تا 224)
1- جب رمضان کی آخری رات آتی ہے تو زمین و آسمان اور ملائکہ اس کی جدائ کے غم میں روتے ہیں۔ (فیضان سنت1197-1198)
2- جو شخص رمضان المبارک کے آنے کی خوشی اور جانے کا غم کرے، اس کے لیۓ جنت ہے۔ اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل فرماۓ (فیضان سنت1197-1198)
3- جو رمضان میں مر جاۓ اس سے سوالات قبر نہیں ہوتے (ایضا۔ 1048)
4- روزے کے تین درجے ہیں۔ اول عوام کا روزہ، دوم خواص کا روزہ اور سوئم اخص الخواص کا روزہ۔ (ایضا 1127)
5- جس نے بغیر کسی شرعی مجبوری کے ایک بھی روزہ رمضان ترک کیا تو وہ نو لاکھ برس جہنم کی آگ میں جلتا رہے گآ۔ (ص۔ 1078-1001)
6- اللہ تعالی رمضان المبارک کی ہر شب افطار کے وقت ساٹھ ہزار گناہ گاروں کو دوزخ سے آزاد فرما دیتا ہے۔ اور عید کے دن سارے مہینے کے برابر یعنی اٹھارہ لاکھ گناہ گاروں کی بخشش کی جاتی ہے۔ (ص۔1078)
7- اللہ تعالی رمضان المبارک کے ہر روز دس لاکھ گنہگاروں کو جہنم سے آزاد فرما دیتا ہے۔ اور جب 29ویں رات ہوتی ہے تو مہینے بھر جتنے آزاد کیۓ ان کے مجموعہ (در کروڑ اسی لاکھ) کے برابر ایک رات میں آزاد کر دیتا ہے۔ (ص1079)
8- اس کا مطلب کیا ہوا۔ ذرا غور فرمایۓ پہلے روز افطار کے وقت ساٹھ ہزار، پھر ہر روز دس لاکھ کو آزادی ملتی ہے اور یہیں پر بس نہیں آگے مزید سنیۓ:-
9- جمعرات کو غروب آفتاب سے لے کر جمعہ کو غروب آفتاب تک ہر گھڑی میں ایسے دس لاکھ گنہگاروں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے جن عذاب کے مستحق قرار دیۓ جا سکتے ہیں( ایک جمعرات کو غروب آفتاب سے لے کر جمعہ کو غروب آفتاب تک جہنم سے آزاد ہونے والوں کی مجموعی تعداد آٹھ کھرب، چھ ارب چالیس کروڑ بنتی ہے) اور جب رمضان المبارک کا آخری دن آتا ہے تو پہلے رمضان المبارک سے لے کر اب تک جتنے آزاد ہوۓ تھے اس کی گنتی کے برابر اس آخری دن اس آيک دن میں آزاد کیۓ جاتے ہیں۔ (ص1080)
قارئين کرام!!! اگر رمضان المبارک کے مہینے کو 28 دن کا شمار کریں تو چار جمعراتوں میں جہنم سے آزاد ہونے والوں کی تعداد چونتیس کھرب چھپن ارب بنتی ہے۔ اور اگر آخری دن میں آزاد ہونے والوں کو بھی شمار کریں تو یہ تعداد انہتر کھرب بارہ ارب بنتی ہے۔ اس فرقہ کی مت کو کیا ہوگيا ہے۔ کہ صرف ایک ماہ رمضان میں بخش دیۓ جانے والوں کی وہ تعداد بنادی ہے جو کھربوں سے بھی بڑھ گئ ہے۔ بلکہ شمار سے باہر۔ جبکہ دنیا کی کل آبادی چھ ارب سے زیادہ نہیں۔ یعنی اتنی آبادی حقیقت میں دنیا میں موجود ہی نہیں جتنی انہوں نے اپنے من گھڑت عقیدہ سے جہنم سے آزاد کروا ڈالی اور پھر رمضان چونکہ ہر سال آتا ہے اس لیۓ ان کے نزدیک جہنم سے ہر سال آزاد کر دیۓ جاتے ہیں۔
اور تو اور ان من گھڑت عقائد کے مؤجدین نے نمازوں کو بھی نہیں بخشا۔ ملاحظہ فرمایۓ۔
جو رمضان المبارک کی آخری رات میں دس رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص دس مرتبہ پڑھے، اللہ تعالی اس کی تمام مہینہ کی عبادت قبول کرے گا۔ اور تیس ہزار سال کی عبادت کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں درج فرماۓ گآ۔ (ص 1198)
اور مزید سنیۓ " جو کوئ رمضان المبارک میں ایک رکعت نماز پڑھے گآ، اس کو اتنا ثواب ملے گا جو غیر رمضان میں دو لاکھ رکعت پڑھنے سے ملتا ہے۔ اور جو کوئ رمضان المبارک میں ایک مرتبہ سبحان اللہ کہے گآ اس کو اس قدر ثواب ملے گآ جو غیر رمضان میں ایک لاکھ مرتبہ سبحان اللہ پڑھنے سے ملتا ہے۔ اور جو کوئ رمضان المبارک میں کسی ننگے کو کپڑے پہناۓ گا تو قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے اللہ اس کو ساٹھ لاکھ جنتی حلے پہناۓ گآ۔ (ص 1096)
ذرا غور و فکر کیجیۓ کہ ایک آدمی ایک سوٹ کے اوپر دوسرا سوٹ نہیں پہن سکتا۔ تو ساٹھ لاکھ سوٹ ایک دوسرے پر کیسے پہن سکے گآ؟
دوستو ذرا غور کرو کہ یہ کیا ہے۔ کیا کسی عبادت یا نیک عمل کرنے اور اس کے ثواب کے لیۓ اللہ تعالی کا فرمان اور نبئ کریم کی احادیث موجود نہیں ہے۔ اور اگر موجود ہیں تو کیا ان میں موجود ثواب اور فضائل ایک مسلمان کے لیۓ کافی نہیں ہیں جو کہ یہ عقل اور دین کے اندھے اپنی طرف سے دین میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالی انہیں اور ان کے پیرو کاروں کو ہدایت عطا فرماۓ اور صحیع دین کی جانب ان کی رہنمائ فرماۓ۔ آمین!

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 106

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by + βιит-є-Aȿɨƒ on July 19, 2013 at 8:17pm

Nice Sharing 

Comment by Sana Sunny ツ on July 19, 2013 at 12:12pm

Approved 

© 2020   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.