Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

ایک انگریز کی ڈائری جو اپنی ماں سے نفرت کرتا تھا!!

میں اور میری ماں ایک متوسط سے گھر میں رھتے تھے ۔۔ میرے والد فوت ھو چکے تھے ۔
لہزا زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے میری ماں ۔۔ کو سکول کی کینٹین میں صبح سے لیکر سکول بند ھونے تک سخت کام کرنا پڑتا تھا ۔۔ میری ماں کے کپڑے بھی کوئی اتنےاچھے نہ ھوتے تھے ۔۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی ۔۔ کیونکہ مجھے اپنی ماں سے کسی اور بات پر سخت نفرت تھی وہ یہ کہ میری ماں کی ایک آنکھ نہیں تھی ۔۔ جس سے مجھے میری ماں بالکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی ۔۔ اور دوسری طرف سکول کے بچے بھی مجھے اکثر کہتے تمہاری ماں ایک آنکھ سے کانی ھے ۔۔ جس سے میری نفرت میں اور اضافہ ھوتا ۔۔ جبکہ میری ماں مجھ سے بےحد پیار کرتی اور پڑھائی کے معاملے میں ھر وہ سہولت مہیا کرتی جو دوسرے بچوں کو حاصل تھیں ۔۔ مگر میں نے آپنی ماں سے ھمیشہ نفرت کی ۔۔ خیر میں تعلیم حاصل کرتا گیا ۔۔ ایک وقت آیا کہ میں کالج کے بعد یونیورسٹی اور پھر کورس کے لئے سنگاپور چلا گیا ۔۔ اور میری ماں جیسے کیسے میر ا خرچہ برداشت کرتی رھی ۔۔ لیکن میری نفرت باقاعدہ برقرار رھی ۔۔ پھرواپس آکر مجھے بہت اچھی جاب مل گئی اور میں آپنی ماں سے بالکل قطعہ تعلق ھو گیا ۔۔ جس کا میری ماں کو رنج ھوا ۔۔ مگر مجھے پروا نہیں تھی ۔۔ میں نے شادی کر لی اور میرے دو بچے بھی ھو گئے ۔ میں آپنا زاتی گھر خرید لیا ۔۔۔
ایک دن اچانک میرے گھر کی گھنٹی بجی ۔۔ دروازہ کھولا تو سامنے ماں کھڑی تھی ۔۔ میری بیوی اور بچے تجسس سے میرے پیچھے کھڑے ھو کر بولے یہ کون ہیں ۔۔؟؟ جبکہ مجھے بے حد غصہ آیا ۔۔۔ میں نے ماں کو کہا کہ تو یہاں کیوں آئی ھے ۔۔ کیوں میرے بچوں کو ڈرانا چاھتی ھے ان کو کیوں ڈسٹرپ کیا ھے ۔۔ میری ماں نے کوئی لفظ نہ کہا اور انہی قدموں سے واپس چلی گئی ۔۔ تھورا وقت گزار ۔۔ پتہ نہیں کیوں میں ایک دن جاب سے واپسی پر آپنی ماں کے گھر کی طرف چلا گیا ۔۔ ماں گھر نہیں تھی ۔۔ ھمسایوں سے دریافت کرنے پر معلوم پڑا کہ ماں کچھ دن پہلے فوت ھو گئی ھے ۔۔ لیکن ھمسائے نے کہا اچھا ھوا تم آگئے تمہاری ماں تمہارے لئے ایک خط چھوڑ گئی ھے ۔۔ میں نےلیا اور پڑھنا شروع کیا
پیارے بیٹے ھمیشہ سلامت اور خوش رھو
مجھے پتہ ھے تم مجھ سے میری آنکھ کی وجہ سے ساری زندگی نفرت کرتے رھے ۔۔
لیکن بیٹا سنو ۔۔ تم بہت چھوٹے تھے کہ تمارا ایکسیڈٹ ھو گیا ۔۔ تمہاری ایک آنکھ باکل ضائع ھو گئی ۔۔ جس کا مجھے بہت دکھ ھوا میں تمہیں اس طرح نہیں دیکھنا چاھتی تھی ۔۔ لہزا میں نے آپنی ایک آنکھ تم کو دے دی ۔۔ تاکہ میرا لال دونوں آنکھوں سے دیکھ سکے ۔۔ اگر یہ میرا جرم تھا تو بیٹا مجھے معاف کر دینا ۔۔ اور میں معافی چاھتی ھوں کہ تم کو اور تمہارے بچوں کو ڈسٹرپ کیا تھا
فقط تمہاری ماں
مجھے ایسا لگا میری دنیا تباہ و برباد ھو گئ ھے ۔۔۔ دل چاھتا تھا زمین پھٹے اور میں اس میں غرق ھو جاوں

۔

Views: 2184

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by + "Sana" on December 3, 2013 at 2:42pm

All. . . 

Comment by tam jee on November 1, 2013 at 12:08pm

bht duk howa

Comment by Khizar Abbas on October 29, 2013 at 7:39pm

NICE MORAL

Comment by Noor-Ul-Muntha. on October 23, 2013 at 8:51pm

nice shairing

Comment by + "Sana" on September 23, 2013 at 1:57pm

Comment by zohaib iftikhar on September 19, 2013 at 3:45pm

THANKS

Comment by zohaib iftikhar on September 19, 2013 at 3:45pm

GOOD SHARING

Comment by zohaib iftikhar on September 19, 2013 at 3:45pm

NICE WORK

Comment by zohaib iftikhar on September 19, 2013 at 3:45pm

MAA KHUDA KI REHMAT KA IK AKS HAI ZAMEEN PE

Comment by zohaib iftikhar on September 19, 2013 at 3:45pm

MAA TUJHE SALAM

Looking For Something? Search Below

Latest Activity

VIP Member Badge & Others

How to Get This Badge at Your Profile DP

------------------------------------

Management: Admins ::: Moderators

Other Awards Badges List Moderators Group

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service