We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

وصلِ گم گشتہ
مسائلِ زیست نے ذرا فرصت دی تو آج مجھے خود سے ملنے کی شدید طلب محسوس ہوئی۔۔مدتیں گزر گئیں خود سے ہمکلام ہوئے۔۔معلوم نہیں اب میں کیسی ہونگی۔۔ایک صدی قبل خود کو دیکھا تھا ۔۔خفیف سی یادوں کا دھندلا ساعکس میرے ذہن کے آئینے میں جھلملانے لگا۔۔۔تتلیوں جیسی شوخ امنگوں سے لبریز آنکھیں۔۔لبوں پر حیا کی ردا میں لپٹی کتنی انکہی۔۔۔چہرے کی کم سن سلوٹوں میں پنہاں شہزادیوں اور پریوں کے قصے۔۔خواہشِ دل کے فلک پر فروزاں ہلالی خواب۔۔۔مٹھی میں سمٹے ہوئے کتنی ہی امیدوں کے گوہر۔۔۔۔میرا پورا سراپا میری نگاہوں میں تیرنے لگا۔خیالوں کے قرطاس پر ابھرتا ہوا میرا ضیاءپاش عکس میری ذات کو اپنے ہی وجود کے وصل کی چاہت سے رخشاں کرنے لگا۔اس سے قبل کے ان فرصت کے لمحوں کی معیاد اپنے اختتام کا بگُل بجا دے مجھے اپنے دیدار سے خود کو آسودہ کرنا تھا۔مجھے خود سے بغلگیر ہونا تھا۔طویل اور تنہا مسافتوں کی روداد کہنی تھی۔۔درد سے درد کا،،،، اشک سے اشک کا وصل ہجر کے زنداں میں کب سے مقید و منتظر تھا۔۔آج سب کو رہائی بخشنی تھی۔۔آج مجھے خود سے ملنا تھا۔۔میرا اضطراب اپنے عروج کو پہنچنے لگا۔۔اپنے وجود سے ملنے کی تشنہ لبی کو قرار دینے کے لیے مجھے خود سے خود تک کا طویل سفر کرنا تھا۔۔کتنی فصلیں گزرتے گزرتے بوڑھی ہوگئی تھیں۔۔وقت کی بارشوں میں حیات کے کتنے ہی شوخ رنگ اُتر چکے تھے کہ اپنی ہی شناخت شاید قدرے مشکل ٹھہرتی۔۔بالا آخر میں نے اپنی تلاش کا آغاز کیا اور سب سے قبل تمناؤں کی دراز میں خود کو ڈھونڈا۔۔پھر فرسودہ حسرتوں کے کتب خانے میں خود کو تلاشا۔۔آہ و فغاں کے دالان میں کبھی رسوائیوں کے المیرا میں بھی خود کو کھوجا۔۔حتیٰ کہ انا کے بام پر بھی اپنی تلاش کی جہاں میں اکثر اپنی خود سری کو عزت ِنفس کی دھوپ میں سینکا کرتی تھی ۔۔مگر میں کہیں بھی نہیں ملی۔۔
اس باغیچے میں بھی گئی جہاں کبھی مدتوں پہلے اپنی سہیلی تتلیوں۔۔ اپنے ہم سفیر بلبلوں اور اپنے ہمنوا گلوں کے ساتھ جانے کتنی ہی ساعتیں رجائیت کے قصے سنتے اور سناتے گزارا کرتی تھی۔۔آج وہاں خاردار شاخ پر بیٹھی اپنی سہیلی تتلیوں کو دیکھا۔۔جن پروں کے سہارے وہ امنگوں کی فضاؤں میں پرواز کیا کرتی تھیں،،خدا جانے ان پروں میں کس نے آگ لگا دی تھی۔۔میں نے ان سے بھی اپنے تعلق سے دریافت کیا مگر مجھ پر ایک اجنبی نگاہ ڈال کرانہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کر دیا۔بلبلوں سے پوچھا تو وہ اپنے نالے بھول چکے تھے تو میرا پتہ کہاں ذہن نشیں رہتا ۔۔گل اپنے نوزائیدہ شگوفوں کے مدفن پر خاک بوس تھا۔۔۔سو شکستہ دل میں یہاں سے بھی تہی دامن لوٹی۔۔۔۔
مجھے پھر یاد آیا کہ مجھے خواب بننے کا شوق ہوا کرتا تھا۔ایک صنعت کار سے یہ ہنر سیکھا تھا میں نے۔۔مگر معلوم ہوا کہ وہ خوابوں کا معمر ضعیف صنعت کار فراقِ تعبیر کے مہلک مرض میں مبتلا ہو کر دم توڑ گیا۔۔میری ذات میں اضطراب کے تلاطم میں جولانی آنے لگی۔۔میرے خدشات ذخیروں میں جمع ہونے لگے۔۔۔۔مجھے اپنی فکر ہونے لگی تھی۔۔آخر کہاں ہونگی میں۔۔۔کیسی ہونگی میں۔۔۔؟؟ 
خود کی تلاش کرتے کرتے میں ہلکان ہو چکی تھی کہ میری نگاہ اپنے گھر کے ایک گوشے میں منہدم سے اسٹور روم پر پری۔۔تمام دیرینہ اشیاء کا قبرستان تھا وہ۔میں سہمی ہوئی اس کمرے میں داخل ہوئی۔۔سائیں سائیں کرتے سناٹے ویرانیوں کا کوئی درد انگیز مرثیہ گنگنا رہے تھے۔خوفناک ماحول سے پُر اس قبرستان نما کمرے میں میری نگاہ گرد آلود فرش پر پری جہاں بکھرا ہوا خواب کا ایک ٹکڑا ملا جسے دیمک چاٹ رہے تھے۔اس ٹکڑے کے ریشوں پر چند لہو کے قطرے نقش تھے۔میری نگاہوں نے اس خواب کے ٹکڑے پر اپنی دستکاری کے نشان کی شناخت کر لی تھی۔۔یہ ان خوابوں میں سے ایک خواب کا ٹکرا تھا جسے میں نے بنا تھا کبھی۔میرے ذہن سے یکلخت ایک دلخراش خیال گزرا۔۔میری دھڑکنوں میں ارتعاش رونما ہونے لگا۔۔سانسیں بےربط ہونے لگیں۔میں نے بمشکل خود کو سمبھالا اور اس کمرے کے مجاور دیواروں سے دریافت کیا کہ۔۔مجھے کہیں دیکھا ہے تم نے۔۔میرے خواب کا ایک ٹکڑا یہاں گرا ہے۔۔مگر میرا وجود کہاں ہے۔۔۔کچھ تو بولو۔۔کچھ تو دیکھا ہوگا تمہاری نگاہوں نے۔۔۔مگر صدیوں کی دراروں میں لپٹی ان دیواروں پر خاموشی کی کائی جمی تھی۔میں آشفتہ سر اپنے ناخنوں سے ان کائیوں کو کھڑوچنے لگی۔۔کھڑوچتے کھڑوچتے ان دیواروں سے لپٹ کر بلک بلک کر رو پری۔۔۔۔مجھے میرے وجود سے ملا دو۔۔خدارا میرے وجود سے مجھے ملا دو۔۔کہاں ہوں میں۔۔زندہ بھی ہوں یا نہیں۔۔تمیں ربِ اجل کی قسم کچھ تو بولو۔۔۔پھر آہستگی سے دیواروں میں حرکت ہوئی کچھ دھڑکن سی آوازیں آنے لگیں۔پھر خاموشی کی ساری کائیاں بکھر گئیں۔۔ان مجاور دیواروں نے میری داستان سنانی شروع کی کہ۔۔جب سے میں نے اپنے وجود سے بےاعتنائی برتی تھی۔۔جب سے میں روحانیت کی سرحدوں سے نکل کر مادیت کے سراب میں محو ہو گئی تھی۔جب سے میں نے نفس کی منمانیوں کو ترجیح دی تھی۔۔جب سے میرے ضمیر نے میری بےالتفاتی دیکھی تھی۔تب سے ہی میرے وجود کا انحطاط شروع ہو چلا تھا۔دشتِ ماضی سے نکلے کتنے اژدہے میرے لاغر وجود کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں نگلنے لگے۔ماضی کے ان اژدہوں کے منھ سے اگلے ہوئےمیرے بقیہ وجود کے فضلے کو شاخِ حال پر بیٹھے ہوئے گدھ نوچ نوچ کر کھانے لگے۔۔۔اور مستقبل کسی لومڑی کی مانند موقعے کا منتظر منھ تک رہا تھا۔۔موقع پاتے ہی وہ بھی جھپٹ پڑا اور بچے ہوئے میرے وجود کے لوتھڑوں سے اپنی بھوک مٹانے لگا۔۔۔
اب مجھے ادراک ہوا کہ مجھے میرے وجود سے اتنی مدت تک نارسائی کیوں رہی ۔۔میں تو منتشتر ہوچکی تھی۔۔تین ٹکڑوں میں بٹ چکی تھی ۔۔میرا تقسیم شدہ وجود ماضی ،،،حال اور مستقبل کے شکم میں ہضم ہو رہا تھا۔دل کا لوتھڑا جذب ہوکر ماضی کے اژدہوں کی رگوں میں سرایت کر چکا تھا۔۔روح حال کی وریدوں میں میلوں کی مسافتیں کر رہی تھی۔۔اور ذہن مستقبل کی شریانوں میں حیات کے امکان تلاش رہا تھا۔۔۔۔۔۔آج میں جان پائی کہ اتنی مدتوں سے میرے وجود کی کوئی سرگوشی میری سماعت کو کیوں نہیں چھو پائیں۔۔میں تو کئی صدی پہلے ہی مر چکی تھی۔۔میں اپنے گھٹنوں کے بل اپنے دونوں زانوں پر بیٹھ گئی۔۔میری آنکھوں سے سرخ آنسو رواں تھے۔۔مجھ تک میری ہی موت کی خبر اتنی طویل مدت بعد پہنچی تھی ۔۔میں سسکیوں سے بلک اُٹھی ۔۔میرا وجود کہیں بھی مسلم نہیں بچا تھا کہ انہیں یکجا کرکے خاک نشیں کر دیا جاتا۔۔۔۔
میں نے اپنی ذات پر سے مصنوعی ریاکارانہ زندگی کا جامہ اتار دیا۔۔پھر یکایک عفونت آمیز بو میری سانسوں میں تحلیل ہونے لگی جیسے کسی سڑے ہوئے خام گوشت سے کوئی بدبو آتی ہو۔۔اپنے منھ اور ناک پر ہاتھ رکھے ہوئے میں نے ایک نظر اپنے سراپا پر ڈالی۔۔چبائے ہوئے گوشت کے چیتھڑے تھے جس پر ماضی،،حال اور مستقبل کے دانتوں کے نشان نقش تھے۔۔بےحسی کی پھپھوندیاں ان سے چمٹی ہوئی تھیں۔۔مجھے یوں اپنا آپ دیکھ کر ابکائی آنے لگی۔۔میں نے ایک گھبرائی ہوئی نگاہ اپنے آس پاس اپنے ارد گرد ڈالی اور جلد از جلد خود پر ریاکارانہ زندگی کا جامہ پھر سے چڑھا لیا۔۔چہرے پر مصنوعی تبسم کا غازہ ملا ۔۔۔اور پھر ایک لاش حیات کی دوڑ میں شامل ہوگئی۔۔

 


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 117

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by + ..✦ S α ɾ α K ԋ α ɳ✦ on November 12, 2013 at 2:23pm

Approved

Looking For Something? Search Here

HELP SUPPORT

This is a member-supported website. Your contribution is greatly appreciated!

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.