We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.


محلے میں نئی نئی وارد ہوئی لڑکی چنچل اپنے نام ہی کی طرح کافی شوخ تھی۔ اس محلے میں کرائے کا کمرہ لے کر رہتے ہوئے اسے ابھی چار دن ہی ہوئے تھے لیکن اس کا محلے کی گلیوں میں ادھر سے ادھر، یہاں سے وہاں لہرا کے، اٹھلاکے، بل کھاکے چلنا محلے کے لڑکوں کواپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ اس کی ادائیں قاتل، اس کا انداز دلفریب، اس کا بانکپن کافر اور لچکنا مٹکنا قیامت کا سماں باندھ دیتا تھا۔ محلے کے سارے چڑی مار لڑکے اسے چوری چوری، چپکے چپکے، چھپ چھپ کر گھنٹوں تکاکرتے اور اس کے ایک اشارے پر جان قربان کرنے کے لیے ہمہ تن تیار رہتے لیکن ان چار دنوں میں چنچل نے کسی کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں دی تھی۔ 
محلے کے سارے چڑی مار لڑکے چنچل سے ایک ملاقات، اس سے ایک مرتبہ گفتگو کے متلاشی تھے۔ ایک رات نوجوان لڑکوں کی چوکڑی چوک پر کھڑی ہوکر گپیں ہانک رہی تھی کہ انھیں چنچل اپنے کمرے سے نکل کر چوراہے کی طرف آتی دکھائی دی۔ وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی، کمر لچکاتی، گردن ہلاتی، چوٹی لہراتی آگے کی طرف بڑھتی رہی اور نوجوان لڑکوں کے کلیجے پہ تیر چلنے لگے، چھریاں چلنے لگیں، بجلیاں گرنے لگیں۔ ان نوجوان لڑکوں کے قریب سے گزرتے وقت چنچل نے ان میں سے ایک لڑکے کی طرف دیکھ کر آنکھ کا اشارہ اس انداز میں کیا جیسے اس لڑکے سے کہہ رہی ہو ’’میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔‘‘ وہ لڑکا سکپکا گیا اور بغلیں جھانکنے لگا۔ اس کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ چنچل کے اشارے پر اس کے پیچھے چلا جائے۔ وہ سوچ میں پڑگیا ’’کہیں مجھے غلط فہمی تو نہیں ہوئی۔‘‘ چنچل نے بھی ایک چکر یوں ہی دوسری گلی کے موڑ تک لگایا اور واپس لوٹ آئی لیکن واپسی میں اس نے دوبارہ اسی نوجوان لڑکے کو آنکھ کا اشارہ اس طرح کیا جیسے کہہ رہی ہو ’’میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔‘‘ اب لڑکے کو یقین ہوگیا کہ ’’یہ اشارہ میرے لیے ہی ہے، لڑکی مجھے ہی بلارہی ہے‘‘ لیکن اب بھی اس کی ہچکچاہٹ کم نہ ہوئی تو باقی تمام لڑکوں نے اسے شہ دی۔ اس سے کہا ’’لڑکی تجھے ہی بلا رہی ہے اس لیے تجھے جانا چاہیے۔ ایسے موقعے زندگی میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں۔ تیری قسمت اچھی ہے جو اس نے تجھے پسند کیا۔‘‘ وہ نوجوان لڑکا بولا ’’یار میری ہمت نہیں ہورہی ہے۔ مجھے تو بڑی گھبراہٹ محسوس ہورہی ہے۔‘‘ اس کے ساتھیوں نے کہا’’اس میں گھبرانے والی کیا بات ہے، ہمیں دیکھ ہم تو اس کے ایک اشارے کے لیے ترستے رہ گئے لیکن اس نے اتنے سارے لڑکوں میں سے صرف تجھے پسند کیا،کیا یہ بڑی بات نہیں۔‘‘ سب نے اسے لڑکی کے کمرے کی طرف ڈھکیلتے ہوئے کہا ’’اب چلا بھی جا زیادہ نخرے مت دکھا۔‘‘ وہ نوجوان لڑکا ان کی باتوں میں آگیا لیکن بہت ہی سہمے سہمے اور ڈرے ڈرے قدموں سے رفتہ رفتہ چنچل کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ چنچل اسی کی منتظر تھی۔ اس نے دروازہ کھلاہی رکھا تھا۔ وہ نوجوان لڑکا جیسے ہی دروازے کے قریب پہنچا۔ چنچل نے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ لڑکے کے کمرے میں داخل ہوتے ہی چنچل نے اندر سے دروازہ بند کرلیا۔ 
تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ لڑکا باہر نکلا تو بے حد خوش اور شادماں تھا جیسے دونوں جہان کی نعمت سے مالا مال ہوگیا ہو۔ چنچل نے بے خوف و خطراس سے جسمانی تعلقات قائم کیے تھے۔ باہر اس لڑکے کے ساتھی بے چینی سے اس کے منتظر تھے۔ باہر آکر جب اس نے اپنے ساتھیوں سے ایک گھنٹہ مسلسل پیار کی ہونے والی بارش کے بارے میں تفصیل سے بتایا تو ان کو اپنے اس جوان ساتھی پر رشک ہونے لگا۔ وہ کہہ اٹھے ’’یار تو کتنا خوش قسمت ہے کہ تجھے اتنی دلفریب اداؤں والی لڑکی نے خود پسند کیا۔ تو پیار کی شراب سے سیراب ہوکر لوٹا اور ہم یہاں کھڑے اس کی ایک نظر کو ترستے ہی رہ گئے۔ 
دوسرے دن نوجوانوں کی چنڈال چوکڑی پھر اسی چوک پر کھڑی گپیں ہانک رہی تھی کہ اسی وقت پھر چنچل اسی طرح اٹھلاتی، بل کھاتی اپنے کمرے سے خراماں خراماں روانہ ہوئی۔ چنچل نے ایک روز پہلے جس لڑکے کو اپنے پیار سے سیراب کیا تھا اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا ’’ اس لڑکی کو مجھ سے پیار ہوگیا ہے وہ دیکھو اب وہ پھر مجھے بلانے کے لیے باہر نکلی ہے۔‘‘ ان لڑکوں نے کہا ’’سچ مچ یار تیری تو قسمت چمک گئی۔ لڑکی تیری طرف ہی آرہی ہے۔ لیکن تھوڑی دیر میں سبھی کی غلط فہمی دور ہوگئی کیونکہ چنچل نے اسے نہیں بلکہ اس کے قریب کھڑے دوسرے جوان لڑکے کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ اس طرح کیا جیسے کہہ رہی ہو ’’میرے پیچھے چلے آؤ۔‘‘ وہ لڑکا سمجھا شاید ’’مجھے غلط فہمی ہوئی ہے وہ مجھے کیوں بلائے گی۔ اس لڑکی نے ایک روز پہلے جس لڑکے کو بلایا تھا اسی کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا ہوگا‘‘ اس لیے وہ جہاں تھا وہیں کھڑا رہا لیکن کنکھیوں سے چنچل کی طرف دیکھتا رہا کیونکہ اس کا تجسس بڑھ چکا تھا یہ جاننے کے لیے کہ لڑکی کسے بلارہی ہے۔ چنچل تھوڑی دور جاکر واپس لوٹی اور اس نے دوبارہ اسی دوسرے نوجوان کو اشارہ کیا جیسے کہہ رہی ہو ’’میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ‘‘ اس روز کی طرح پھر تمام لڑکوں نے اس جوان لڑکے کو زبردستی لڑکی کے پیچھے روانہ کردیا۔ جس کو چنچل نے اشارہ کیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ’’جاتیری قسمت بہت اچھی ہے جو تجھے اتنی نازنخرے والی لڑکی نے پسند کیا۔‘‘ 
جس طرح پیاسا ندی کے پاس جاکر سیراب ہوکر لوٹتا ہے۔ وہ لڑکا بھی اسی طرح تقریباً ایک گھنٹے بعد شادماں اس لڑکی کے کمرے سے نکلا۔ وہاں سے باہر نکلتے ہی باقی تمام لڑکوں نے اسے گھیر لیا۔ بات ان کی سمجھ میں آچکی تھی کہ لڑکی نے اس پر بھی پیار کی بوچھار کی ہے اور اسے جسمانی آسودگی نصیب ہوئی ہے۔ 
اگلی شب ایک اور جوان لڑکے کی باری آئی اور اسے چنچل نے اسی طرح ’’میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ‘‘کا اشارہ کیا۔ اب یہ بات لڑکوں کی سمجھ میں آچکی تھی کہ لڑکی ہر شب ایک نئے شکار کی تلاش میں نکلتی ہے۔ ایک مرتبہ جس سے جسمانی تعلق قائم کرلیتی ہے اسے دوبارہ گھاس نہیں ڈالتی۔ اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی۔ انھیں اس بات کا بھی اندازہ ہوچکا تھا کہ اسے روپے پیسے کا بھی کوئی لالچ یا موہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی اور چیز کا لالچ ہے۔ اسی طرح اس گروپ کے ساتوں لڑکوں سے ہم آغوش ہونے کے بعد چنچل نے اس کے اگلے ہی روز اپنا تمام سامان اٹھایا۔ ایک رکشے میں ڈالا اور کہیں جانے کی تیاری میں نظر آئی ۔ان تمام لڑکوں نے اسے گھیر لیا اور کہا ’’ہمیں چھوڑ کر مت جاؤ۔ ہم سبھی تمہیں چاہتے ہیں۔ تم یہیں رہو۔ ہم تمھارے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اگر تمہیں روپے پیسے کی ضرورت ہوتو وہ بھی ہم سب مل کر تمہیں فراہم کردیں گے۔‘‘ چنچل زور سے ہنسی۔ اس کی ہنسی میں ایک طرح کا استہزا تھا۔ اس نے لڑکوں کو یوں مخاطب کیا ’’میں ایچ۔آئی۔وی پازیٹیوہوں۔ مجھے ایڈس کی بیماری ہے جو مجھے تم جیسے مردوں نے ہی کبھی دی تھی۔ اب میں چاہتی ہوں کہ دنیا کے تمام مردوں کو یہ بیماری ہوجائے۔ تمھارا ہی دیا ہوا پیار میں تمہیں لوٹارہی ہوں۔ اسی لیے میں نے تم سب سے جسمانی تعلقات قائم کیے۔ اب مجھے پورا یقین ہے کہ تم سب اس بیماری کا شکار ہوچکے ہو۔ میرا مقصد پورا ہوچکا ہے۔ اب میں کسی اور گاؤں یا کسی اور شہر کی طرف نکل جاؤں گی اور وہاں جاکر نئے شکار تلاش کروں گی۔‘‘ یہ کہہ کروہ مسکراتی ہوئی ایک اداسے رکشے میں بیٹھی اور وہاں سے چل دی۔ لڑکے دم بخودجہاں تھے وہیں کھڑے رہ گئے۔ جیسے انھیں سانپ سونگھ گیا ہو۔ مٹی کے بے جان بت کی طرح ان میں بھی حرکت کرنے کی ذرا بھی قوت باقی نظر نہ آتی تھی۔

وہی قرض میں نے چُکا دیا

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 112

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

© 2020   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.