We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>


Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

اُمت اُٹھے یا ربّ کے فیصلے کا انتظار کرے


بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش کے قیام سے قبل کے واقعات کی بنیاد پر پاکستان کو بچانے کی کوشش کرنے پر 40 سال بعد بنگلہ دیشی حکومت نے عبدالقادر ملا کو پھانسی کی سزا سنا دی پھر پھانسی دے دی۔ پاکستانی قوم میں تھوڑی سی حرکت ہوئی اور پھر خاموشی… پھانسی پر کہا گیا کہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے۔ حکومت نے مٹی پائو پالیسی پر عمل کیا عوام پیٹ کا جہنم بھرنے سے ہی فرصت نہیں پاتے انہیں خوف نے الگ لپیٹ رکھا ہے انہیں اس سے کیا کہ پاکستان کی خاطر مرنے والے عبدالقادر ملا کون تھے۔ دس بارہ دن جماعت اسلامی کے احتجاجی مظاہرے ہوئے اور پھر سوشل میڈیا تک بات رہ گئی… 
شام میں بشارالاسد کی حکومت مسلمانوں کو ٹینکوں سے بھون رہی ہے کچل رہی ہے چھریوں سے ذبح کیا جارہا ہے پاکستان میں اس پر کوئی آواز نہیں اُٹھ رہی ہلکی پھلکی آواز سنائی دی اور بس… مصر میں ایک رات میں چار ہزار لوگوں کو شہید کردیا گیا اور اس روز اسلام آباد میں سکندر بلوچ کا ڈراما شروع ہوا 5 گھنٹے تک ٹی وی چینلز یرغمال رہے۔ رات بارہ بجے کے بعد کس کو پڑی تھی کہ مصر کی خبر لیتا۔ اُمت اس پر بھی چپ رہی دو چار مظاہرے اُمت مسلمہ کے ٹھیکیدار جماعت اسلامی والوں نے کیے اور بس… 
ظاہری بات ہے جب بڑے بڑے واقعات پر بے حسی کا مظاہرہ ہوگا تو ظالموں کی ہمتیں بڑھیں گی چناںچہ تماشے بڑھنے لگے۔ عبدالقادر ملا کو اس ملک کے خلاف بغاوت کے الزام میں پھانسی دے دی گئی جو ان پر لگائے گئے الزامات اور بیان کردہ واقعات کے وقت وجود میں ہی نہیں تھا۔ اسی طرح مصر میں 529 افراد کو ایک پولیس والے کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ سزائے موت کے مخالفین بھی اس پر خاموش ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی۔ دنیا کے نام نہاد انسانی حقوق، جمہوریت، اصولوں اور روا داری کے چیمپیئنوں کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ مصر میں جمہوریت کو کچلا گیا پھر انسانوں کو کچلا گیا پھر انصاف کو کچل دیا گیا۔ 
دنیا خاموش ہے۔ وہ خاموش رہے گی لیکن مسلمانوں کو کیاہوگیا ہے۔ وہ کیوں چپ سادھے بیٹھے ہیں جن ممالک میں یہ آگ نہیں لگی ہوئی وہاں کے مسلمان تو اُٹھیں… علامہ اقبال نے کہا تھا
کہ ؎ ۔
نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں 
ہمنوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں 
تو قیامت آگئی تھی آج بھی کوئی اقبال کا پیغام لے کر اُٹھا تو یہی ہوگا کیوںکہ اقبالؒ کے زمانے میں تو پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا جیسا میڈیا نہیں تھا اب تو لمحوں میں کافر اور طالبان کی خبر چلتی ہے۔ مسلمانوں کا رویہ اُمت کے مسائل کے حوالے سے بڑا مجرمانہ ہے۔ جب فلسطین کشمیر افغانستان اور بوسنیا کے لیے آواز اُٹھائی جاتی تھی تو کہا جاتا تھا کہ اپنے ملک کی بات کرو اب اپنا ملک بھی ان مسائل کا شکار ہے تو کیا کہیں گے وہ لوگ۔ ہم اس وقت بھی یہی کہا کرتے تھے کہ اگر آج اُمت نے ایک ملک کے لیے آواز نہیں اُٹھائی تو ایک ایک کر کے سب کو لپیٹ میں لے لیا جائے گا اور کوئی کچھ نہیں کرسکے گا۔ کچھ کرنا ہے تو متحد ہو کر کیا جائے… 
متحد نہیں ہوئے امت نہیں بنے تو… ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں … ابھی شام ومصر پر بات رُکی نہیں ہے۔ بنگلہ دیش، برما، فلسطین پر بھی نہیں رُکی… کشمیر میں مسلسل ظلم جاری ہے۔ اب سینٹرل افریقین ریپبلک میں جو کچھ ہورہا ہے اسے کون جانتا ہے۔ کسی کو اس ملک کا ہی نہیں پتا کسی کو یہ بھی نہیں پتا کہ وہاں مسلمان بھی بستے ہیں اور یہ تو کسی کو نہیں پتا کہ وہاں مسلمان اقتدار میں آگئے تھے اور شریعت نافذ کرنے والے تھے۔ 
یہ ہے اُمت کا معاملہ وہ لاعلم ہے اور جو اُمت کے اور اسلام کے دشمن ہیں ان کو ایک ایک لمحے کی، مسلمانوں کی ایک ایک پیش رفت کی خبر ہے۔ ہمیں سینٹرل افریقین ریپبلک کا نام نہیں پتا اور فرانس امریکا اور یہودیوں کی نظر میں وہاں مسلمانوں کے صوبوں میں شریعت کے نفاذ اور ایوان صدر کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں پر تھیں اور جوں ہی مسلمان صدر بنا انہوں نے عیسائیوں اور مسلمانوں میں تصادم کرادیا… دیکھتے ہی دیکھتے فرانسی فوج وہاں داخل ہوگئی بس کہیں کہیں سے آواز اٹھائی گئی اور بس… اگر اُمت مسلمہ نے مصر میں فوجی عدالت کے مزاحیہ مقدمے اور احمقانہ فیصلے پر احتجاج نہیں کیا اسے بھی اخوان اور جماعت اسلامی کا معاملہ قرار دیا تو خاکم بدہن آنے والے دن پاکستان میں بھی ایسے ہی فیصلے نظر آرہے ہیں جیسے کہ دنیا کے ان ممالک میں ہیں۔ 
عافیہ تو پاکستان کی بیٹی ہے 30 مارچ کو اس کو امریکی قید میں 11 سال مکمل ہورہے ہیں اسے بھی جماعت اسلامی اور پاسبان کا ایشو بنا دیا گیا ہے۔ بے حس قوم کو پاکستانی میڈیا مزید بے حس بنا رہا ہے۔ چھوٹے کو بڑا اور بڑے کو چھوٹا بلکہ غائب بھی کررہا ہے لیکن جس طرح قرآن نے منظر کشی کی ہے۔ یہود اللہ اور نبیؐ کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو۔ بالکل اسی طرح مسلمان سارے معاملات کو اچھی طرح جانتے ہیں لیکن محض پیٹ کی خاطر تن آسانی کی خاطر جان کے خوف سے آنکھیں موندے بیٹھے ہیں۔ پھر وہی ہوگا جو آنکھیں بند کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ یا تو اُٹھ کھڑے ہوں یا اللہ کے فیصلے کا انتظار کریں۔

Share This With Friends......

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.

This Content Originally Published by a member of VU Students.

+ Prohibited Content On Site + Report a violation + Report an Issue


..How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?..


Views: 312

See Your Saved Posts Timeline

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by + ((( Ĕɱᾄαᾗ ))) on April 4, 2014 at 11:29am

nice post

Comment by + ((( Ĕɱᾄαᾗ ))) on April 4, 2014 at 11:29am

true

Comment by Ali Hussain Mir on April 2, 2014 at 10:04pm

ye sub daramay bazi hai jo nazar aata hai wo hota nahi .... pahlay samjoo daykhoo per pata chalay ga ..... ye sub aik plan kay takhat ho raha hai 

Comment by ✿❤ Nabila ❤✿ on April 2, 2014 at 5:03pm

keep it up

Comment by ✿❤ Nabila ❤✿ on April 2, 2014 at 5:03pm

very nice sharing 

Comment by ✿❤ Nabila ❤✿ on April 2, 2014 at 5:02pm

Good work 

Comment by ✿❤ Nabila ❤✿ on April 2, 2014 at 5:02pm

its right saying 

Comment by asi on April 1, 2014 at 10:32pm

well said...keep it up 

Comment by asi on April 1, 2014 at 10:32pm

well

Comment by N@Z -MSCS on March 31, 2014 at 3:35pm

good work ...................

Latest Activity

Study Corner For DigiSkills Students

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service