We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

!!!...ہر محبت دکھ دیتی ہے سوائے اللہ کی محبت کے

ہر محبت دکھ دیتی ہے سوائے اللہ کی محبت

کے:
دل کا محبوب کی محبت کے سوا ہر محبت سے پاک ہو جانا عشق کہلاتا ہے- جب عشق کامل ہو جائے تو ہر جذبے کا تعلق محبوب سے منسوب ہوجاتا ہے- محبت یار کی خاطر، دشمنی یار کی خاطر،حتٰی کہ جینا، مرنا، ہر سانس اسی کی خاطر ہو جاتی ہے- یوں تو یہ چند باتیں بیان کرنا بڑا آسان ہے پر درحقیقت عشق کی منزل پانا اور اس کی طرف سفر کرنا اور مراحل طے کرنا کسی کرچیوں بهرے راستے پر ننگے پاوءں سفر کرنے سے بهی کئی زیادہ کٹهن ہے- عشق توڑ دیتا ہے- چیر دیتا ہے- جلا کر راکھ کر دیتا ہے- اور جب بات عشق الہی کی ہو اور عشق مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)* کی ہو تو رستے اور بهی پیچیدہ ہو جاتے ہیں، کیونکہ جتنی بڑی منزل ہو اتنا دشوار راستہ ہوتا ہے- جن بندوں کو اس انمول تحفے کے لیے چن لیا جاتا ہے تو ان کا دل ہر محبت سے صاف کیا جاتا ہے- اور یہ عشق کی بهٹی جب اپنا کام شروع کرتی تو ہر رشتہ، ہر تعلق ٹوٹ جاتا ہے، صفائی ہوتی ہے- دوست احباب قریبی رشتے دار، حتی کے جس سے بندہ دل لگاتا ہے وہی اس کو دغا دیتا ہے- جس چیز کی طلب کرتا ہے، وہ اس سے چهن جاتی ہے- بندہ ٹوٹ جاتا ہے، بکهرجاتا ہے- تنہا رہ جاتا ہے .جب تک غیر کی محبت دل میں رہتی ہے تکلیف اور کرب سے رہائی حاصل نہیں ہوتی- اور جب محبوب کی محبت کامل ہو جائے تو غم غم نہیں رہتے- جفاوءں کے سمندر پار کروا کر، دل کو ہر جانب سے توڑ کر پهر اس میں وہ نور آتا ہے، وہ ہستی آتی ہے، جس کا کوئی ثانی ہی نہیں، نہ اس کی محبت کا- پهر وہ اس کو تهامتا ہے اور اس حقیقت کو دل میں بساتا دیتا ہے کہ کائنات میں اگر کوئی رشتہ ہے تو وہ بندے کا اپنے رب کے ساتھ ہے- وہ بهی لافانی، اس کی محبت بهی لافانی- جو اس عشق کا جام پی لیتے ہیں وہی در حقیقت فلاح پانے والے ہیں، اس چکّی میں پس کر دل ہر اس طلب، ہر اس محبت سے پاک ہو جاتا ہے، جو ماسوا اللہ کے ہوتی ہے- اب دنیا اس کے قدموں میں رکھ دی جاتی ہے، لوگ اس کے گرد ہوتے ہیں لیکن اس عاشق کی نگاہ صرف محبوب پر ٹکی ہوتی ہے-

شیخ عبدالقادر جیلانی (رحمتہ اللہ علیہ) اسی منزل کو بیان کرتے ہوئے خوبصورت انداز میں فرماتے ہیں: "اے شخص! تو کہتا ہے میں جس سے محبت کرتا ہوں، اس سے جدا کردیا جاتا ہو- کبهی بیماری سے، کبهی عداوت سے، کبهی غلط فہمی سے، کبهی موت سے، ہر قیمت پر مجھ سے جدا کردیا جاتا ہے- اے نادان! تو تو وہ خوش قسمت ہے جس پر اللہ پاک نے غیرت کھائی ہے- اللہ تجهے اپنے لیے چاہتا ہے- اور تو غیر کا ہونا چاہتا ہے- ہوش کر، ایسا ٹوٹا برتن بن جا جس میں ما سوائے اللہ کے کچھ نہ ٹہہرے- جب تو غیر کے پیچهےبهاگے گا اللہ تجهے اس کے ہاتهوں توڑے گا اور جب تو اللہ کا ہو جائے گا تو ساری مخلوق کو تیرے قدموں میں لا بٹهائے گا- تیرے رشتے، تیری محبتیں، تیری آسائش لوٹا دی جائینگی- اور جن سے تو محبت رکهتا تها اور رویا کرتا تھا اب تیرے لیے روئیں گے مگر اب تیرا دل ان سے بےنیاز ہو گا- جب تک تو ان چیزوں کو دور نہ کردے گا یہ تجهے تکلیف دیں گی- ہر محبت دکھ دیتی ہے سوائے اللہ کی محبت کے-"

یہ حقیقت ہے، راز ہے کہ کائنات میں کہیں بهی مخلصی نہیں ملتی، اگر کوئی محبت مخلص ہے تو وہ اللہ پاک کی محبت ہے- ہر عشق کے طلبگار کو چاہیے کہ اپنے دل کو مطمئن کرلے اور ہر غیر کی محبت سے پاک ہوتے ہوئے گزرتا جائے تاکہ یہ سفر پوری رفتار سے طے ہو اور در محبوب تک رسائی مل جائے-" (عشق کی وادیاں)

عا لم ذات میں درویش بنا دیتا ہے 
عشق انسان کو پاگل نہیں ہونے دیتا


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 1713

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by مَلیکا ایمان on August 20, 2014 at 4:53pm

...میرا تھوڑا سا تجزیہ اس بارے میں

محبت اندھی ہے لیکن تب جب لاشعوری طور پر امڈ آے..جب کہ عشق ہر وقت اندھا ہی رہتا ہے. 

عشق خود ساختہ لفظ ہے..جو  ہم نے چلتے پھرتے اوٹ پٹانگ محبت کے اصولوں سے منحرف ہو کے حد سے گزرنے والوں کو دے رکھا ہے..(اور شاید وہ اس کے مستحق بھی ہیں) محبت کرنے والے ہوش کھو کے بھی ہوش میں رہتے ہیں..بلکل جسے عمر رضی الله تعالی عنها ، ہوش کھو دیا لیکن الله کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز نہیں کیا (تجاوز یہی تھا کہ اپنی بات پر اڑے رہتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے وفات نہیں پائی اگر ایسا کرتے تو آیت سے انکار کی صورت نکلتی ) لیکن ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنها  کی قرانی شہادت نے انہیں سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کر دیا.)  

عشق حدیں نہیں دیکھتا...اصول نہیں دیکھتا..اک اندھا دریا ہے جو بہتا ہی چلا جاتا ہے..بے خوف و خطر..ہر چیز سے بے نیاز 

فرق صرف اتنا ہے جو اس پر بندہ باندھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے وہ محبوب بن جاتا ہے..جو ناکام ہو جائے وہ عاشق بن جاتا ہے.. عاشق خطرناک ہے نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسرے کے لیے بھی

...کسی اک طرف بہنا بہت ہی آسان ہے..مشکل ہے تو بہتے ہوۓ کو کنٹرول کرنا 

بہنے پر محنت نہیں لگتی البتہ بندہ باندھنے پر ضرور لگتی ہے..اور شاید یہی محبت کی انتہا ہے..کسی کے لیے خود کو کنٹرول کرنا..اسکی مرضی میں خود کو ڈھالنا .اسکی حدود کی حفاظت کرنا..

 

میں  نے عشق میں لوگوں کو حدوں سے بڑھتے دیکھا..جہاں نہ رشتوں کی ، ناطوں کی، حدود و قیود کی کوئی تمیز نہیں..میں  نے عشق میں اصولوں کو ٹوٹتے دیکھا..میں نے عشق مجازی کے سفر میں ہی لوگوں کو پڑاؤ کرتے دیکھا...جنہیں پھر یہ بھی یاد نہ رہا کہ منزل الله کی محبت تھی. انہیں بس راستوں کی ہی دھول بنتے دیکھا...جس کے بعد انہیں منزل کی طلب ہی نہ رہی..

اور اگر کوئی چلتا پھرتا محبت کا کوئی قافلہ ادھر آ نکلتا.. یاد دہانی کرواتا تو انہیں حقیقی منزل کو ٹھکراتے ہوے دیکھا..یہ کہتے ہوۓ کہ راستے تو وہی جاتے ہیں نہ تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟؟

...لیکن کون بتاے

اگر منزلوں کی جستجو نہ ہو تو راستے بھی ساتھ نہیں دیتے   

 

Comment by مَلیکا ایمان on August 20, 2014 at 4:33pm

میری ناقص عقل اور کم علمی ہے کہ محبت کے لفظوں سے قرآن میں آشنائی ہوئی لیکن عشق سے نہیں..لہٰذا، آپ کے علم میں ہے تو براہ مہربانی اس پر تھوڑی روشنی ڈالیے.

Comment by مَلیکا ایمان on August 20, 2014 at 4:21pm

 ".صوفیا کرام نے محبت اور عشق دونوں الفاظ استعمال کے ہیں، مقصود ایک ہی ہے"

 

اوکے، اگرایک ہی مقصود ہے تو کیا ہم لفظ عشق ماں باپ، بہن بھائی کسی بھی معزز رشتے کے لیے استعمال کیوں نہیں کر سکتے ؟؟ 

ان رشتوں کے درمیان پاے جانے والے جذبوں میں بھی تو وہی شدت ہوتی ہے جو وقت پڑنے پر " بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں.. " کے کار فرماں ہے... کونسی طاقت ہے جو بہن بیٹی کا نام غلط زبان سے سننے پر بھائی اپنی جان و عزت کی پرواہ کیے بنا کسی کی جان کے در پے ہو جاتا ہے؟؟...  کونسا احساس ہے جس کی بنا پر اک بہن، بھائی کی خاطر ہر اک کی ٹکر مول لینے پر مجبور ہو جاتی ہے؟؟  کونسا جذبہ ہے وہ جو اک ماں کو اولاد کی تکلیف پر ساری رات آنکھوں میں کاٹنے پر مجبور کرتا ہے؟؟...کونسی چیز ہے وہ  جو دھوپ، چھاؤں، تنگی ، تکلیف، بیماری میں بھی اک باپ کو زمانے کی تند و تیز ہواؤں میں  بھی ڈھال بنا دیتا ہے؟؟

 

شدت ان جذبوں میں بھی تو پائی جاتی ہے...پھر محبت ہی کیوں کہلاتی ہے یہ..عشق کیوں نہیں؟؟   

انتہائی غیر مناسب کیوں لگتا ہے یہ لفظ ان رشتوں کے لیے...؟؟؟

اک مرد عاشق رسول یا عاشق الہی ہونے کا دعوا کر سکتا ہے..کوئی برائی نہیں..کیا اک عورت ایسا کہ سکتی ہے؟؟

اگر اطاعت کے زمرے میں بھی  لیا جائے تو، اک لمحے کو مان لیتے ہیں..کہ اک مومن خاتون بھی عاشق رسول/الہی  ہیں...

لیکن وہ پاکیزہ رشتوں کے لیے یہی لفظ استعمال کر سکتی ہیں؟؟...نہیں تو کیوں؟؟

 

Comment by مَلیکا ایمان on August 20, 2014 at 4:18pm

Sorry to comming back very late.

thank u Sadan for ur time.

m here now with my questions..hope to reply as ur convenience..

 

میں آپ کی سب مثالوں سے متفق ہوں..لیکن اس بات سے  مطمین نہیں کہ یہ عشق ہےمیں سمجھتی ہوں کہ یہ سب محبت کے ہی تو درجے ہیں..کہیں لگاؤ کی حد تک تو کہیں انتہا کی شدت...فرق صرف اتنا ہے کہ یہ کبھی شعوری تو کہیں لاشعوری طور پر وارد ہوتی ہے..بعض اوقات لاشعوری کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا جب کہ  شعوری پر قابو پا لیا جاتا ہے.  

 

عموما دیکھا گیا ہے کہ جس انسان سے بے پناہ انسیت ہو اسکا غم بھی شدت سے محسوس ہوتا ہے.

رسول پاک رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عمر رضی الله تعالی عنها کسی صورت یہ بات ماننے کو تیار ہی نہ تھے.  کہ سب سے محبوب انسان اب ان کے درمیان نہیں رہے  .. جس پر ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنها نے قرآن کی آیت شہادت کے طور پر تلاوت فرمائی  اور رسول پاک رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی گواہی دی..جسے سن کر عمر رضی الله تعالی عنها کے قدم زمین بوس ہو گئے.. اور شدت غم  سے بے دم ہو کر گر پڑے...

بخاری، کتاب المناقب جلد ١، صفحہ ٥١٧ 

 

شدت غم کس جذبے کے تحت تھا؟؟

 محبت یا عشق؟؟

 ایک طرف ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنها کس صبر و شکر کا پیکر بنے ہوے اور اک طرف عمر رضی الله تعالی عنها جسے جلالی اور سخت گیر انسان غم کی تاب نہ لا سکے..

 

جیسا کہ اپ نے کہا " جسے اپنی خبر ہو ، اپنے ماحول کا ہوش ہو ، اسے عشق یا محبت نہیں.." اب 

ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنها ضبط کا مظاہرہ کیے ہوے اپنے خواس پے قابو پاے ہوے ہیں تو دوسری طرف عمر رضی الله تعالی عنها جو خبر سنتے ہی ہوش کھو بیٹھے...

اگر یہی پیمانہ ہے عشق/محبت کو ماپنے کا تو عمر رضی الله تعالی عنها کی کیفیت کو توعشق/محبت کہا جائے گا لیکن ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنها کے  ضبط، صبر و شکر کو کیا کہا جائے گا؟؟

Comment by Sadan on August 13, 2014 at 4:58am

Muhabat , Ishaaq and Janoon  

جسے خدا کی محبت نصیب ہو جائے ، اُسے پھر کس کا ہوش ؟ 
خیالِ دل رُبا ہے اور میں ہوں مرا درد آشنا ہے اور میں ہوں
سکون حاصل ہے غالب بے خودی ہے تصور دوست کا ہے اور میں ہوں
کیے جاتا ہوں سجدے بیخودی میں کسی کا نقشِ پا ہے اور میں ہوں
شبیہہ دوست دل پر کھنچ گئی ہے اب آئینہ مرا ہے اور میں ہو ں
مسلط سایہ زلفِ پری ہے بلا کا واہمہ ہے اور میں ہوں
منازل ہو رہی ہیں عشق کی طے سہارا شوق کا ہے اور میں ہوں
محبت کو تیری سمجھا تھا رہزن وہی اب رہنما ہے اور میں ہوں
دعا کرتا ہوں رو رو کر اسی سے
سخن ؔ میرا خدا ہے اور میں ہوں
علن فقیر کا ایک گیت یاد آگیا 
تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا اُسے دنیا کی لہروں سے ڈرنا کیا ؟
اﷲ اﷲ کر بھیا ، اﷲ ہی سے ڈر بھیا ہما ہما چل بھئی چل ، ڈھومک ڈھومک تا تھیا 
کالیاں بھوریاں ، تیری جگا لی کرنے والیا ں ، 
جیسے دریا کا پانی جیون دے اُسے دریا کی لہروں سے ڈرنا کیا 

Comment by Sadan on July 29, 2014 at 10:53pm

What love of Prophet (PBUH ) gives you:  Love of Allah  is  when you love Prophet (PBUH),  Prophet has told  us  how to do. Practical , demonstrations, have a look at hard ships faced during Gazwa e Khandaq ( The Battle of Ditch ). One  or probably half date a day was the diet !!  Am I right  ( disagree only if you can upload the image of authority).    May Allah Bless you.   

Comment by Sadan on July 25, 2014 at 1:33am

May Allah SWT bless you  with more  rewards  in Ramazan. 

I am adopting  this approach  for  remaining   days  of Ramazan .....  I have  set  a goal,  an Arzooo  ,  and I want  my Allah SWT to grant me that  !!! 

And  how  to  find  Him  ... 

Comment by مَلیکا ایمان on July 24, 2014 at 11:28pm
Walikumsalam,
        Jazzak Allah Sadan,for all ur description on my request.
  i have read this post and same that time my mind generated more questions.
Anyway, its Blessing time with short Ramadan.
so, m pending till ending Ramadan but 'll come again to take ur time please.
Regards!
Comment by White N Black on July 24, 2014 at 3:50am

Speechless...
Blessed r those who r beloved to The Creator, n His creations !!

اللَّهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ حُبَّكَ وَ حُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ وحُبَّ عَمَلٍ يُّقَرِّبُ اِلى حُبِّكَ
“God, I ask for Your Love; the love of those You love; & those actions that will make me beloved to You.” ( Thirmidhi)

Comment by Sadan on July 24, 2014 at 3:03am

AOA  مَلیکا ایمان  ,   

here are  few lines expressing my understanding of  questions asked by you ( I have updated my last post with few clarifications ) .

In the name of Allah SWT ,  I seek  His Kind blessing ,  knowledge and wisdom belongs to Allah SWT and  to men it is what is granted by Allah SWT.  !!   



© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.