We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

حضرت مالک بن دینار رحمتہ اللہ علیہ سے ان کی توبہ کا سبب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ـ
"میں ایک سپاہی تھا اور شراب کا رسیا تھا. میں نے ایک نفیس باندی خریدی اور وہ میرے دل میں خاص مقام کی مالک بن گئی. اس سے میری ایک بچی پیدا ہوئی. میں اس بچی کو حد سے زیادہ پیار کرتا تھا ـ جب وہ زمین پر گھسٹ کر چلنے لگی تو میرے دل میں اس کی محبت اور بڑھ گئی. وہ مجھ سے مانوس ہو گئی اور میں اس کے سامنے جب شراب لا کر رکھتا تو وہ آکر کھینچا تانی کر کے میرے کپڑوں پر شراب بہا دیتی جب اس کی عمر دو سال ہو گئی تو وہ مر گئی میرے دل کو اس کے غم نے بیمار کردیا ـ

پندرہ رمضان کو جمعہ کی رات میں شراب کے نشے میں مدہوش تھا میں نے عشاء کی نماز بھی نہیں پڑھی تھی میں نے خواب میں دیکھا کہ صور پھونکا گیا اور قیامت قائم ہو گئی مردے قبروں سے اٹھائے گئے اور تمم مخلوق جمع ہو گئی میں بھی ان میں تھا ـمیں نے اپنے پیچھے سے آہٹ سنی مڑ کر دیکھا تو ایک بہت بڑا اژدھا ہے کالے رنگ کا آنکھیں نیلی ہیں منہ کھولے میری طرف دوڑ رہا ہے ـخوف و دہشت کے مارے میں بھاگا راستے میں ایک صاف ستھرے لباس والے بوڑھے شخص کے پاس سے گزر ہوا میں نے سلام کہا اس نے جواب دیا میں نے کہا بابا مجھے اس اژدہے سے پناہ دو تجھے اللہ پناہ دے گا ـ

وہ بوڑھا رونے لگا اور کہا میں کمزور اور ضعیف ہوں اور یہ اژدھا زبردست ہے میرے بس میں نہیں آگے چلو اور بھاگو شاید اللہ تیری نجات کی کوئی صورت بنا دے ـمیں آگے بھاگنے لگا اور بلند جگہ پر چڑھ گیا ادھر سے میں نے جہنم کے طبقات کو جھانک کر دیکھا ان کو ہولناکیاں دیکھیں قریب تھا کہ اژدیے کے خوف سے میں ان میں گرجاتا.مجھے کسی نے آواز دے کر کہا چلو یہاں سے تم یہاں کے رہنے والے نہیں ہو. میں اس کی بات سے مطمئن ہو گیا اور وہاں سے واپس لوٹا تو اژدھا میرے پیچھےتھا ـ

میں پھر اسی بابا کے پاس آیا اور کہا بابا میں نےآپ سے درخواست کی کہ اس اژدہے سے میری جان چھڑاؤ آپ نے کچھ نہیں کیا وہ بوڑھا پھر رونے لگا اور کہا میں ناتواں ہوں البتہ تم اس پہاڑ کے پاس جاؤ جہاں مسلمانوں کی امانتیں ہیں اگر تمہاری کوئی امانت ہو تو وہ تمہاری مدد کرے گی. میں ادھر گیا تو دیکھا. چاندی کا ایک گول پہاڑ ہے اور اس میں جگہ جگہ سوراخ اور روشندان ہیں اور پردے لٹکے ہوئے ہیں ہر روشندان پر سونے کے دوپٹے ہیں اور ان میں قبضے یاقوت کے ہیں اور آرائش موتیوں کی. ہر پٹ پر ایک ریشمی پردہ ہے جب میں نے پہاڑ کی طرف نظر دوڑائی تو فوراً اس کی طرف بھاگا اور اژدھا میرے پیچھے تھا جب میں پہاڑ کے قریب پہنچا تو ایک فرشتے نے آواز دی پردے ہٹاو دروازہ کھول دو اور سیدھے کھڑے ہو جاؤ شائد اس حاجت مند کی یہاں کوئی امانت ہو جو اسے اس کے دشمن سے نجات دلائے ـ

میں نے دیکھا پردے ہٹ گئے اور دروازے کھل گئے اور ان روشندانوں سے بہت سارے بچے میری طرف جھانکنے لگے ان کے چہرے چاند کی مانند تھے اژدھا بھی میرے نزدیک پہنچ چکا تھا میں حیران رہ گیا ان بچوں میں سے ایک نے چلا کر کہا ابے سب آؤ اس کا دشمن نزدیک آ گیا ہے چنانچہ وہ جوق در جوق کھڑے ہو کر جھانکنے لگے اچانک میری بچی جو مر گئی تھی وہ بھی ان کے ساتھ جھانک رہی ہے جب اس نے مجھے دیکھا تو رونے لگی اور کہا ہائے یہ تو میرا باپ ہے پھر اس نے نور کے جھرمٹ میی تیر کی تیزی کے ساتھ چھلانگ لگائی اور میرے سامنے آ کھڑی ہوئی اس نے اپنا بایاں ہاتھ میری طرف بڑھا کر میرا دایاں ہاتھ پکڑ لیا اور اپبے دائیں ہاتھ کو اژدہے کی طرف بڑھا دیا تو وہ بھاگ گیا ـپھر اس نے مجھے بیٹھایا اور میری گود میں بیٹھ گئی اور اپنے دائیں ہاتھ سے میری داڑھی پکڑ کر کہا ـ
اے ابا جان !
کیا مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے جھک جائیں ـ (سورۃ حدید آیت 16)
میں رونے لگا اور کہا اے بیٹی تم لوگ بھی قرآن کو جانتے ہو اس نے کہا ہم تو آپ سے بھی
زیادہ قرآن کو جانتے ہیں میں نے کہا اژرھے کے بارے میں تو کچھ بتاؤ جو مجھے ہلاک کرنے کے درپے تھا ـ اس نے کہا وہ آپ کا برا عمل ہے جس کو آپ نے طاقتور بنایا ہے اوروہ آپ کو جہنم کی آگ میں ڈبونا چاہتا یے. میں نے کہا اس بوڑھے کے بارے میں بتاؤ جو راستے میں ملا اس نے کہا وہ آپ کا نیک عمل ہے جسے آپ نے اتنا کمزور کر دیا کہ اب وہ برے عمل کا مقابلہ نہیں کر سکتا ـ میں نے کہا اے بیٹی تم اس پہاڑی میں کیا کرتی ہو اس نے کہا ہم سب مسلمانوں کے بچے ہیں ہم یہاں قیامت تک رہیں گے آپ کے انتظار میں ہیں جب آپ آؤ گے تو ہم آپ کی سفارش کریں گے.

مالک بن دینار فرماتے ہیں میں گھبرا کر اٹھا اور صبح کو میں نے شراب چھوڑ دی اور اس
کے برتن توڑ ڈالے اور اللہ تعالٰی سے توبہ کی ـ
یہ میری توبہ کا سبب ہے ـ

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 482

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Sadan on July 26, 2014 at 9:01am

May Allah SWT bless us . 

Comment by Sadan on July 26, 2014 at 7:53am

And  seek Mercy,  

Comment by ✿❤ Nabila ❤✿ on July 23, 2014 at 2:32pm

JazakAllah

Comment by ✿❤ Nabila ❤✿ on July 23, 2014 at 2:32pm

very nice sharing

Comment by Sadan on July 23, 2014 at 5:26am

May Allah SWT have mercy  on us ....

Comment by Sadan on July 23, 2014 at 5:17am

Comment by ✿❤ Nabila ❤✿ on July 22, 2014 at 8:09pm

very nice sharing Sadan bro

Comment by Sadan on July 22, 2014 at 1:13am

Meri toooba   ka  sabab :  The reason 

Comment by ✿❤ Nabila ❤✿ on July 21, 2014 at 8:22pm

thanks

Comment by Rizwan(MCS) on July 21, 2014 at 2:00pm

Nice Sharing information

© 2020   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.