We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

میں کبھی تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ ہم جھاڑو چور بھی ہو چکے ہیں ....... ۔۔مستنصر حسین تارڑ

میں روزانہ وہاں سے گزرتا تھا، ہر سویرے ماڈل ٹاؤن پارک کے ڈھائی کلو میٹر طویل ٹریک پر چلتا روزانہ پارک کے چھوٹے گیٹ کے قریب سے گزرتا تھا، اور میں نے کبھی غور نہ کیا کہ وہاں پر ہم پاکستانیوں کی ’’ایمانداری‘‘ کا ایک چھوٹا سا یادگاری نمونہ ہے۔ اور پھر شاید یہ ڈاکٹر انیس تھے جنہوں نے اُس کی نشاندہی کی اور کہا ’’میں روزانہ یہاں سے گزرتا ہوں اور یہ یادگاری نمونہ دیکھ کر شرم سے سر جھکا لیتا ہوں کہ کیا ہم من حیثیت القوم اتنے بے ایمان ہو چکے ہیں۔۔۔
چھوٹے گیٹ کی دیوار کے ساتھ کوئی پائپ تھا اور وہاں پارک کے خاکروب کا جھاڑو پڑا تھا اور اُس جھاڑو کو چوری ہو جانے سے بچانے کے لیے اُس کے گرد ایک زنجیر پڑی تھی اور زنجیر کو ایک قُفل سے بند کیا گیا تھا اور یہ معمولی نہیں ایک خاصا بڑا اور مضبوط قُفل تھا۔ کیا ان دنوں جھاڑو بھی محفوظ نہیں، اُنہیں بھی چوری کر لیا جاتا ہے۔۔۔
جب خاکروب سے اس معاملے کے بارے میں گفتگو ہوئی تو وہ کہنے لگا ’’صاحب جی۔۔۔ پارک والے مجھے صفائی کرنے کی تنخواہ دیتے ہیں، جھاڑو مجھے اپنے پلے سے خریدنا ہوتا ہے۔۔۔ میں اپنے جھاڑو کو ڈیوٹی کے بعد گھر نہیں لے جا سکتا تھا کہ بہت دور رہتا ہوں۔۔۔ یوں بھی جھاڑو کے ساتھ مجھے کون ویگن میں بیٹھنے دے گا چنانچہ میں اپنا جھاڑو کسی جھاڑی میں یا درخت کی کھول میں پوشیدہ کر کے چلا جاتا ہوں اور پھر بھی وہ ہر دو چار روز بعد چوری ہو جاتا تھا۔۔۔ اور یقین جانئے ہم خاکروب ایک دوسرے کے جھاڑو چوری نہیں کرتے کہ یہ ہمارے رزق روزگار کا ذریعہ ہیں، ہمارے لیے ایک احترام کے قابل شے ہیں۔ ہمارے جھاڑو آپ جیسے لوگ چوری کرتے ہیں۔۔۔ چنانچہ میں نے تنگ آ کر یہ مہنگا تالا اور لوہے کی زنجیر خریدی اور اس پائپ کے ساتھ باندھ کر جھاڑو کو تالا لگا دیا۔۔۔ اور صاحب جی اس کے باوجود مہینے میں ایک آدھ بار میرا جھاڑو پھر بھی چوری ہو جاتا ہے۔ لوگ کسی نہ کسی طرح تالا کھول لیتے ہیں۔ اور کچھ نہ ہو تو جھاڑو کی تیلیاں کھینچ کر لے جاتے ہیں۔۔۔ اب میں اور کیا کروں۔۔۔؟؟
"اب یہ مقفل جھاڑو روزانہ مجھے شرمندگی سے دوچار کرتا ہے، میں اُدھر نظر ڈالنے سے گریز کرتا ہوں پھر بھی آنکھیں ادھر چلی جاتی ہیں۔۔۔ اس سے پیشتر سبیلوں اور کولروں کے زنجیروں سے بندھے سلور کے دو چار روپے مالیت کے گلاس مجھے شرمندہ کرتے تھے لیکن میں کبھی تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ ہم جھاڑو چور بھی ہو چکے ہیں

۔مستنصر حسین تارڑ

Source: FB/ peer-e-kamil


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 305

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Anmol Maha on December 20, 2014 at 3:13pm
uff Allah g Pak ki hefazat farmey
Comment by Smile, Its Sunnah :) on December 9, 2014 at 3:41am

uff merae khudaya waqiye kuch mehfozz nahi

Comment by Ѽ Gracious Heart Ѽ on December 7, 2014 at 1:27pm

Comment by +Hafiza Duaa MBS 4 on December 6, 2014 at 5:11pm

Zaberdast

Looking For Something? Search Here

HELP SUPPORT

This is a member-supported website. Your contribution is greatly appreciated!

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.