Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.


طالبان کے سامنے ڈٹ جانے والی بہادر ٹیچر

طالبان کے سامنے ڈٹ جانے والی بہادر ٹیچر سحر افشاں

سحر افشاں ایک اچھی منتظم اور بہادر خاتون تھیں

پشاور کے آرمی پبلک سکول میں ہلاک ہونے والے 19 بچوں اور ایک استانی کا تعلق شہر کی ایک رہائشی کالونی گلبہار سے تھا۔

پشاور شہر کی طرح گلبہار کے لوگ بھی افسردہ ہیں۔ اس علاقے میں حکیم بخاری کالونی میں نویں جماعت کے دو طالب علم اور استانی سحر افشاں رہتے تھے۔

’میں سُن ہو چکا ہوں‘

ان تینوں نے دیگر بچوں کو شدت پسندوں سے بچانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی تھی۔ سحر افشان نے مزاحمت کی اور سکول حملے میں ہلاک ہونے والی وہ پہلی خاتون تھیں۔

گلبہار کے مختلف گلی کوچوں میں کہیں ایک تو کہیں دو بچے اس سانحے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

گلبہار کالونی پشاور کے اندرون شہر گنجان آباد کی بعد 1970 کی دہائی میں قائم کی گئی تھی۔

اس علاقے میں زیادہ تر لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ بیشتر لوگ نوکر پیشہ اور تاجر بتائے گئے ہیں۔ آرمی پبلک سکول میں اردو کا مضمون پڑھانے والی سحر افشان بھی گلبہار کے علاقے حکیم بخاری سٹریٹ کی رہائشی تھیں۔

گھر کے کل افراد ایک بوڑھی ماں، ایک بھائی اور ایک سحر افشان خود تھیں۔ والد فوت ہو چکے ہیں۔

سحر افشاں ایک اچھی منتظم اور بہادر خاتون تھیں یہی وجہ تھی کہ انھوں نے ڈیٹوریم میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی مزاحمت بھی کی تھی۔

ان کے بھائی فواد گل کے مطابق انھیں یقین نہیں آرہا کہ اب ان کی چھوٹی بہن اس دنیا میں نہیں رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں طالب علموں نے بتایا کہ ان کی ٹیچر نے شدت پسندوں کو اندر آنے سے روکا کیونکہ وہ کوئی آرمی افسر یا سکول کے عملے کے لوگ نہیں لگ رہے تھے۔

شدت پسندوں نے انھیں پہلے سر پر گولی ماری پھر کندھوں پر گولی ماری۔ وہ اس سکول میں ہلاک ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔


گلبہار کے علاقے حکیم بخاری سٹریٹ میں سحر افشان کے علاوہ نویں جماعت کے دو طلبعلم بھی رہتے تھے جن میں کے بارے میں لوگوں نے بتایا کہ وہ خود باہر نکل سکتے تھے لیکن وہ اپنے چھوٹے بھائیوں اور دیگر بچوں کو بچانے کے لیے وہیں موجود رہے۔


گلبہار کے علاقے حکیم بخاری سٹریٹ میں سحر افشان کے علاوہ نویں جماعت کے دو طالب علم بھی رہتے تھے جن میں کے بارے میں لوگوں نے بتایا کہ وہ خود باہر نکل سکتے تھے لیکن وہ اپنے چھوٹے بھائیوں اور دیگر بچوں کو بچانے کے لیے وہیں موجود رہے۔

سکول حملے میں ہلاک ہونے والے بیشتر بچوں کی رحمان بابا قبرستان میں تدفین کی گئی ہے۔ جمعے کو لوگوں نے قبروں پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور دعائیں کیں۔

بیشتر مساجد میں نماِ جمعہ کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کے لیے دعائیں کی گئیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومت کو اب اس طرح کی کارروائیاں روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ۔

آرمی سکول پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 149 ہو گئی ہے۔گذشتہ رات اسی ایم ایچ میں ایک زخمی بچہ دم توڑ گیا ہے۔

Views: 294

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by asi on December 20, 2014 at 11:33pm

May Allah rest their souls in peace Aamen ..sis stay bless


Comment by + Angel Sweet Doll(MBA) + on December 20, 2014 at 10:15pm

Ameen

Comment by + ..✦ S α ɾ α K ԋ α ɳ✦ on December 20, 2014 at 10:14pm

May Allah rest their souls in peace Aamen 

Comment by + Angel Sweet Doll(MBA) + on December 20, 2014 at 10:09pm

not in position to say anything

Comment by princess mesum on December 20, 2014 at 9:39pm

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service