Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.


’پشاور کا حملہ، پاکستان کے لیے تبدیلی کا موقع‘

پشاور میں طالبان کے حملے نے لڑائی کو فوج کے گھر تک اپنی پوری ہولناکی کے ساتھ پہنچایا ہے

ایک قوم جس نے 13 سال کے عرصے میں 70 ہزار سے زیادہ شہری دہشت گردی کے واقعات میں گنوائے ہوں اس کے لیے حتمی مرحلے کی بات کرنا آسان نہیں ہے۔

لیکن طالبان کا پشاور میں فوج کے زیرِ انتظام ایک سکول پر سفاکانہ حملہ جس میں 132 بچے ہلاک ہوئے شاید ایک ایسے ملک کے لیے تبدیلی کا وہ لمحہ ہو جس پر دنیا دہشت گردوں کو سٹریٹجک اثاثے کے طور پر رویہ رکھنے کا الزام لگاتی ہے۔

اس حملے کے اگلے دن جب ملک میں ماتم کا سماں تھا اور پشاور میں مردوں کو دفنایا جا رہا تھا پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے اعلان کیا کہ وہ اچھے اور برے طالبان میں تفریق نہیں کریں گے۔

میاں نواز شریف نے اپنے حریفوں اور حلیفوں کے درمیان بیٹھ کر اس عزم کا اعلان کیا کہ جنگ آخری دہشت گرد کے مرنے تک جاری رہے گی۔

اسی لمحے جب یہ اعلان کیا جا رہا تھا پاکستانی فوج کے سربراہ افغان صدر اشرف غنی سے مل رہے تھے تاکہ اس ناسور سے لڑنے کے لیے ان کی مدد لی جا سکے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’اس نے پاکستانی قوم کے دل پر وار کیا ہے۔‘

کیا یہ وہی موقع ہے جس کی پاکستان کو کئی سالوں سے تلاش تھی؟

اس کا جواب شاید نواز شریف کے بیان میں ہے جو نہ صرف ایک نئی نیت کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس بات کو تسلیم بھی کرتا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے لڑنے والی مختلف دہشت گرد تنظیموں کے خلاف دوغلی پالیسی اپنائی ہوئی تھی۔

نواز شریف کے بیان سے یہ بات واضح ہوئی کہ پاکستان تسلیم کر رہا ہے کہ اس نے اپنی سرزمین سے لڑنے والی مختلف دہشت گرد تنظیموں کے خلاف دوغلی پالیسی اپنائی ہوئی تھی

آسان تفریق یوں ہے کہ جو ایساف کے خلاف افغانستان میں برسرِ پیکار ہیں یا بھارتی فوج کے خلاف لائن آف کنٹرول کے اُس پار کشمیر میں لڑ رہے ہیں وہ ’اچھے‘ طالبان ہیں اور جنہوں نے 11 ستمبر کے بعد اپنے آپ کو القاعدہ کے ساتھ منسلک کیا اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کی وہ ’برے‘ طالبان تھے۔

مسئلہ یقیناً یہی ہے کہ یہ فرق نہ تو طالبان کے ذہن میں اتنا واضح تھا نہ ہی پاکستان کے پالیسی سازوں کے ذہن میں۔ اکثر طالبان کے منتشر ہوتے اور ٹوٹتے گروہ پالیسی کے اس ابہام سے آپریشنل یا تنظیمی فائدہ اٹھاتے رہے اور اس عمل کے دوران ملک کی قبائلی پٹی میں بغیر کسی روک ٹوک کے اپنی بنیادیں مضبوط کرتے رہے۔

جنرل راحیل شریف کے پیشرو جنرل کیانی کی بے عملی نے طالبان کو ایک اضافی بونس دیا جن کے چھ سالہ دور میں وہ شدید تنقید کا نشانہ بنے جب سیاسی حکومتوں کی جانب سے مکمل اختیار دیے جانے کے باوجود وہ انسداد دہشت گردی کی موثر پالیسی بنانے میں ناکامی رہے۔

نتیجتاً طالبان کا فوجیوں پر ہر تازہ حملہ فوج میں بے چینی اور نہ صرف حکومت کے خلاف بلکہ اپنی قیادت کے خلاف بھی ناراضگی بڑھاتا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ جنرل راحیل شریف نے بغیر وقت ضائع کیے بقول ان کے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بلا امتیاز آپریشن شروع کیا جہاں بڑے علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

اس کے باوجود پالیسی کے ابہام میں گھری پاکستانی سیاسی قیادت کا اس آپریشن کے لیے ردِ عمل بہت نیم دلانہ تھا۔

جنرل راحیل شریف نے بغیر وقت ضائع کیے بقول ان کے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بلا امتیاز آپریشن شروع کیا

جنرل راحیل شریف نے وضاحت سے کہا کہ ہم انہیں پکڑیں گے بے شک وہ پاکستانی طالبان ہوں، پنجابی طالبان ہوں، القاعدہ کے ساتھی اور حمایتی ہوں یا سب سے زیادہ خوفناک حقانی نیٹ ورک کے لوگ ہیں۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت نے اس پر چُپ سادھنے میں ہی عافیت جانی۔

پشاور کے حملے نے بظاہر اسے بدلا ہے۔

مختصراً طالبان کو وہ تو حاصل نہ ہوا ہو جس کی انہیں تمنا تھی مگر انہوں نے فوج کو وہاں چوٹ دی جہاں اسے سب سے زیادہ تکلیف ہو۔

فوج کے زیرِ انتظام چلنے والے 128 سکولوں میں 150000 طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان میں 90 فیصد بچے فوج کے حاضر سروس اہلکاروں کے ہی ہوتے ہیں۔

اس حملے نے لڑائی کو فوج کے گھر تک اپنی پوری ہولناکی کے ساتھ پہنچایا ہے۔

شدت پسندوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ فوج کے دعوؤں کے باوجود کہ اُس نے اِن کی انتظامی اور آپریشن صلاحیت تباہ کر دی ہے وہ اب بھی موجود ہیں اور اپنی مرضی سے جہاں چاہے حملہ کرنے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔

اس پر بونس میڈیا کی جانب سے اس واقعے کی کوریج ہے جو سرحدوں سے باہر دور دور تک پہنچی۔

اور اس کے ذریعے انہوں نے اس تنازع کے سفاکیت گھر تک پہنچائی جو اس بات سے عیاں ہے کہ ہر اُس بچے کو جسے انہوں نے پشاور میں ہلاک کیا اس کے پیچھے اُن کا غصہ اور مایوسی ہے جو اُن کی ایک پرانے بہی خواہ کے خلاف ہے جس نے اُن سے آنکھیں پھیری ہیں۔

فوج کے اندر طالبان کے لیے کوئی نرم گوشہ تھا بھی تو اس حملے سے وہ پاکستان بھر میں سینکڑوں فوجی خاندانوں کے آنسوؤں میں بہہ گیا ہو گا

طالبان کے لیے حمہ ایک بدلہ تھا اور اس کے پیچھے کوئی سٹریٹجک یا سیاسی سوچ کارفرما نہیں تھی سوائے اس سوچ کے کہ دہشت کے ذریعے حکمرانی کی جائے۔

یہ اُن کے لیے بظاہر کوئی معنی نہیں رکھتا کہ اس کے نتیجے میں انہوں نے پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کو اپنی اچھے اور برے طالبان کی پالیسی پر نظر ثانی پر مجبور کر دیا ہے۔

جنرل راحیل شریف کے لیے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ اگر فوج کے اندر طالبان کے لیے کوئی نرم گوشہ تھا جسے انہوں نے پال پوس کر بڑا کیا تھا، اس حملے سے وہ سب سینکڑوں فوجی خاندانوں کے آنسوؤں میں بہہ گیا ہوگا۔

کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف حقیقی جنگ کا آغاز ہو گیا ہے؟

اس کا قابلِ یقین جواب پاکستان کے طالبان کے ساتھ تعلقات کی تاریخی پیچیدگی کے تناظر میں دینا قبل از وقت ہو گا۔

مگر جو واضح ہے کہ پاکستان اب واضح اور یقینی بدلہ چاہتا ہے جو افغانستان کے ساتھ شاید ایک دوسرے کے اچھے اور برے طالبان کے تبادلے کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔

ایک ملک جس کی شدت پسند گروہوں کی پرورش کرنے کی تاریخ 35 سالوں پر محیط ہو اس میں شاید یہاں تک ہی ایک تبدیلی کا لمحہ جا سکتا ہے۔

کم از کم فی الوقت تو ایسا ہی ہے۔

Views: 255

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service