We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

’ گولی یا بم کسی کو بھی لگے مرتی ماں ہ

’ گولی یا بم کسی کو بھی لگے مرتی ماں ہے‘

پشاور کے آرمی پبلک سکول کے گیٹ پر ایک سوگوار ماں

’ کیا تم جانتے ہو کہ بیٹا کیسے جوان ہوتا ہے۔‘ سوشل میڈیا پر یہ جملہ سکواش بال کی طرح کئی اکاؤنٹس سے ٹکرا کر بار بار سامنے آتا رہا۔

مجھے انیس سو نوے کی دہائی کا ایک نوحہ بھی یاد آگیا ’میں دیکھوں کس طرح سے کرتے نہیں ہو ماتم ، کڑیل جوان کا لاشہ ہو سامنے تمہارے۔‘

ان کی تو ابھی مسیں بھیگ رہی تھیں۔ ایسی عمر تھی کہ جس میں شوہر بیوی کو چھیڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیرا بیٹا جوان ہوگیا ہے اب لڑکی تلاش کر اور بچہ لڑکیوں کی طرح شرما کر دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہے، سبز سوئٹروں اور سفید شرٹس پہنے ہوئے نویں اور دسویں جماعت کے طالب علموں کی عمریں بھی اتنی ہی تھیں۔

بیٹھک میں بیٹھے ہوئے والد تو زمانے کے سامنے خود کو مضبوط دکھانے اور آخر مرد ہے کی کہاوت کو پانی دیتے ہوئے آنکھوں کو خشک کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن مائیں کیا کریں، جن کے ہاتھوں سے یہ بچے نکلتے اور ان ہی ہاتھوں میں واپس آتے تھے۔

ان ماؤں میں سے کسی کو یہ دکھ ہے کہ اس روز امتحان کی وجہ سے ان کا بچہ جلدی میں کچھ کھائے بنا چلا گیا تھا، کس کو یہ صدمہ ہے کہ امتحانوں کے دنوں میں بھی کمپیوٹر پر زیادہ دیر تک بیٹھنے کی وجہ سے وہ بیٹے سے خفا ہوگئی تھیں۔ ان میں سے ہی کوئی بغیر سوئیٹر پہنے سکول چلا گیا تھا اور ماں کو یہ ہی فکر تھی کہ کہیں اسے ٹھنڈ نہ لگ جائے۔

گزشتہ امتحانات میں کچھ نمبر کم آنے کی وجہ سے کئی نے ماں سے وعدہ کیا تھا کہ اس بار وہ اچھے نمبروں سے پاس ہوگا، ماں نے والد سے چھپ کر کمیٹی بھی ڈال رکھی تھی تاکہ میٹرک کے نتیجے پر اس کو موٹر بائیک یا لیپ ٹاپ کا تحفہ دے گی۔


۔


لیکن وہ سفید چادر اوڑھ کر بے فکر ہوکر سوگئے اور پیچھے ماؤں کو فکرمند چھوڑ گئے، جن کی اب یہ ہی خواہش ہے کہ یہ سب کچھ ایک بھیانک خواب ہو اور وہ کل صبح جب اٹھیں تو کانوں پر وہ ہی آواز آئے امی آج پھر دیر کردی جلدی کریں سکول پہنچنا ہے۔

کراچی کے بازاروں سے گزرتے ان دنوں بچوں کے کھلونوں کی دکانوں اور ریڑھیوں پر بھی شام تک رش دیکھا ہے، جیسے ہر کوئی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پوری کرنا چاہتا ہوں کہیں ایسا نہ ہوں کہ بعد میں زندگی یہ موقع فراہم نہ کرے۔

رپورٹنگ کے دس سالوں میں ہر صوبے اور علاقے میں ماؤں کو گھٹتے، بلکتے اور آہیں بھرتے دیکھا ہے۔ موسم چاہے کوئی بھی آنکھوں کی رم جھم جاری ہی رہتی ہے۔ پشاور کے واقعے سے قبل تھر میں ماؤں کی بے بسی دیکھی جہاں نومولود بچے ماؤں سے کبھی نو ماہ تو کبھی دو سال کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور سبب بنتی ہے غذائی قلت، انتظامی غفلت۔

پچھلے ہی دنوں سندھ میں 6 نوجوان قوم پرست کارکنوں کی میتوں پر ماؤں کا ماتم ان ہی آنکھوں نے دیکھا، یہ لاپتہ کارکن بھی گھروں سے واپس آنے کا کہہ کر نکلے تھے لیکن بعد میں خون میں لت پت لاشیں ویرانوں سے ملیں اور موت کی وجہ بنی آزادی کی سوچ و خیال۔


بلوچستان کی مجبور لاچار مائیں

بلوچستان کی دھرتی تو ویسے بھی اداس، غمگین اور لاچار ماؤں کی وادی ہے۔ اگر زیر زمین معدنیات ہے تو زمین پر غموں کا خزانہ ہے۔ کتنے لاپتہ اور ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی ماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں یہ تو یاد نہیں لیکن چہروں کے تاثرات تو ویسے ہی تھے جو آج کل پشاور میں نظر آتے ہیں۔ یہ مائیں بلوچ ہوں یا ہزارہ نقوش تبدیل ہیں مگر دکھ تو سب کا سانجھا ہے۔ ان ماؤں کی گود اجڑنے کی وجہ حق ملکیت کا دعویٰ اور مخصوص شناخت بنی تھی۔


جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے بعد بنوں میں آئی ڈی پیز کے پاس گئے تو وہاں بھی ماؤں کی دردناک کہانیاں سینہ با سینہ چل رہی تھیں کہ کیسے ایک ہی چیک پوسٹ سے گذرنے کے لیے دوران انتظار کئی معصوم بچے فوت ہوگئے اور مائیں بچے اس پوسٹ پر لے جاکر احتجاج کرتی رہیں۔

ان ماؤں اور بچوں کا بھی کوئی قصور نہیں تھا۔ لیکن اس درد کہانی کی وجہ بنی آپریشن ضرب عضب۔

بلوچستان کی دھرتی تو ویسے بھی اداس، غمگین اور لاچار ماؤں کی وادی ہے۔ اگر زیر زمین معدنیات ہے تو زمین پر غموں کا خزانہ ہے۔

کتنے لاپتہ اور ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی ماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں یہ تو یاد نہیں لیکن چہروں کے تاثرات تو ویسے ہی تھے جو آج کل پشاور میں نظر آتے ہیں۔ یہ مائیں بلوچ ہوں یا ہزارہ نقوش تبدیل ہیں مگر دکھ تو سب کا سانجھا ہے۔ ان ماؤں کی گود اجڑنے کی وجہ حق ملکیت کا دعویٰ اور مخصوص شناخت بنی تھی۔

بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں اس کی صحت کی حفاظت کے لیے کچھ ٹیکے ماں کے حصے میں آتے ہیں تو کچھ بچوں کی جسموں میں اتار دیے جاتے ہیں، لیکن وہ ٹیکے کہاں سے آئیں جو ان بیمار ذہنوں کو لگائے جائیں جو ان ماؤں کے جگر کے ٹکڑوں کے سینے میں لوہا اتار دیتے ہیں۔

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 236

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by princess mesum on December 20, 2014 at 9:35pm

Comment by + "ŜÃŇÃ (€X‿VU))+ on December 20, 2014 at 11:25am

Latest Activity

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.