We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

لوگ ماں کو تو جانتے ہیں، اپنے خالق 'اللہ' کو نہیں جانتے۔

جن گھروں میں چھوٹے بچے ہوتے ہیں وہاں ایک واقعہ اکثر پیش آتا ہے۔ وہ یہ کہ رات کے کسی پہر میں جب دنیا نیند کے مزے لے رہی ہوتی ہے، سویا ہوا بچہ اپنی ماں کو پکارتا ہوا بیدار ہو جاتا ہے۔ اس کی آواز سن کر اس کی ماں بھی فوراً بیدار ہو جاتی ہے۔ بچہ بھوکا ہوتا ہے تو اسے دودھ دیتی ہے. بستر گیلا کردیتا ہے تو کپڑے بدلتی ہے۔ غرض بچے کو جو بھی تکلیف ہوتی ہے ماں اپنی نیند اور آرام بھول کر اسے دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
ماں کی یہی محبت اسے ماں بناتی ہے۔
لوگ ماں کو تو جانتے ہیں، اپنے خالق 'اللہ' کو نہیں جانتے۔ لوگوں کو یہ بات نہیں معلوم کہ جب اللہ کو پکارا جاتا ہے تو وہ ایک ماں سے زیادہ تیزی سے اپنے بندے کی طرف لپکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ بندے کی دعا معرفت کی دعا ہو. وہ مفاد کی دعا نہ ہو۔ مفاد کی دعا وہ ہوتی ہے جس میں انسان خدا کو مسئلہ حل کرنے کی مشین سمجھ کر پکارتا ہے۔ جب دعا قبول ہو جاتی ہے تو اسے بھول جاتا ہے۔ اس کے پیشِ نظر صرف اپنی ذات ہوتی ہے۔ خدا کی عنایت، مہربانی، صفاتِ عالیہ اور شکر گزاری کا کوئی احساس اس کے دل میں نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ بہت کریم ہیں۔ وہ ایسی دعاؤں کا جواب بھی دیا کرتے ہیں۔ مگر اس میں وہ انسانوں کی حکمت و مصلحت کی رعایت ضرور کرتے ہیں۔ اس کے برعکس معرفت کی دعا اس دل سے نکلتی ہے جو خدا کو اس کی عنایات اور صفات کے حوالے سے جانتا ہے۔
ایسے شخص کا دل بچے کی طرح ہی اپنی تکلیف پر تڑپ کر اپنے رب کو پکارتا ہے مگر اس کا پکارنا محض پکارنا نہیں ہوتا وہ خدا کی صفات کا اعلیٰ ترین بیان بھی ہوتا ہے۔ وہ کسی بچے کی آواز پر ماں کو اٹھتے دیکھتا ہے تو کہتا ہے: ’’ اے رب! یہ سوئی ماں روتے ہوئے بچے کے لیے اٹھ گئی۔ میں کیسے مان لوں کہ وہ رب جسے نیند آتی ہے نہ اونگھ، اپنے بندے کی آہ پر اس کے دکھ دور کرنے نہ اٹھے گا؟‘‘
یہی وہ دعا ہے جس کے بعد ہر نا ممکن، ممکن ہو جاتا ہے۔ آسمان و زمین کا مالک ماں سے زیادہ تیزی سے لپک کر اپنے غلام کی دستگیری کرتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے آج کثرتِ دعا کے اس دور میں یہی معرفت بھری دعا بہت کم ہے۔

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 217

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Maya on March 28, 2015 at 8:17pm

Subhan Allah...
nice

Comment by +Fariha on March 28, 2015 at 7:52am

good sharing

Comment by M.Jamil(MSCS) on March 22, 2015 at 11:11pm

good sharing

Comment by + ! ! ! ! ! " Muskan on March 22, 2015 at 8:56am

Comment by + ! ! ! ! ! " Muskan on March 21, 2015 at 5:29pm

thanks

Comment by Syed Talal Ahmed on March 20, 2015 at 10:55pm

very nice sharing

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.